خبرنامہ

دنیا بدل رہی ہے …. عمار چودھری

دنیا بدل رہی ہے‘ عرب ممالک بھی۔ جہاں بادشاہتیں ہیں وہاں بھی جمہوریت کی کونپلیں نکلتی دکھائی دے رہی ہیں، نہیں بدلا تو ہمارا ملک جہاں بادشاہت لانے کی بھرپور کوشش جاری ہے۔سابق وزیراعظم نا اہل ہوئے تو یہ ڈھنڈورا پیٹا جانے لگا کہ شاید نواز شریف اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں۔ پارٹی صدارت ہاتھ سے گئی تو ساری لٹیا ہی ڈوبی نظر آئی جس کے ساتھ ہی خاندانی پارٹی اور خاندان دونوں میں دراڑیں پڑنے لگیں۔اس مشکل سے نکلنے کیلئے حکومت نے اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود ایک ایسا انتخابی بل منظور کرا لیا جس کے بعد ایک عدالتی سزا یافتہ اور شہریت چھوڑنے والا شخص بھی پارٹی سربراہ بن سکتا ہے۔بل کی شق میں ترمیم کے حق میں 37اراکین جبکہ 38 نے مخالفت میں ووٹ دیا، جس کے بعد نواز شریف کے دوبارہ پارٹی صدر بننے کی راہ ہموار ہو گئی۔
سوال یہ ہے کہ اگر یہ جمہوریت ہے تو پھر بادشاہت کسے کہتے ہیں؟جہاں بادشاہت ہے وہاں کیا تبدیلی آ رہی ہے وہ بھی دیکھ لیجئے۔ سعودی عرب کے بارے میں گزشتہ ہفتے دو خبریں ایسی تھیں جن پر یقین کرنا آسان نہ تھا۔ پہلی یہ کہ گزشتہ ہفتے سعودی عرب میں وائس اور ویڈیو کالز کے لیے استعمال کی جانے والی دو ایپس وٹس ایپ اور سکائپ پر سے پابندی ختم کر دی گئی۔سعودی حکومت کے مطابق یہ فیصلہ معیشت اور پیداوار کو فروغ دینے کے لیے کیا گیا ۔ حکومت مخالف مظاہروں اور 2011کے عرب انقلاب کے بعد سعودی عرب نے انٹرنیٹ کو سینسر کر دیا تھا۔ اس دوران چار لاکھ ویب سائٹس تک رسائی پر پابندی لگ گئی تھی۔تاہم اب سعودی وزارت کمیونی کیشن کے مطابق پابندی ہٹانے سے ڈیجیٹل کاروبار بڑھے گا اور آپریشنل قیمتوں میں کمی آئے گی۔دوسری خبر سعودی عرب کے نیشنل ڈے کے موقع پر پہلی مرتبہ خواتین کی اسٹیڈیم میں آمد کی منظوری تھی۔ تئیس ستمبر کو سارے ملک میں روایتی ڈانس اور پٹاخوں کے ذریعہ منائے گئے نیشنل ڈے کے ضمن میں شہر کے بڑے اسپورٹس اسٹیڈیم میں بھی ایک تقریب منعقد کی گئی تھی جس میں سینکڑوں کی تعداد میں خواتین نے بھی شرکت کی۔کنگ فہد اسٹیڈیم میں سعودی مرد فٹ بال میچ کھیلتے ہیں ‘یہاں پر خواتین کے لئے علیحدہ نشست کا انتظام کیاگیا تھا ۔ایک سعودی شخص نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہاکہ‘‘ ایسا لگ رہا ہے سارے ٹکٹس سعودی خواتین نے ہی خرید لئے ”۔ یہ اقدامات غالباً سعودی عرب کے ویثرن2030 کے تحت معاشی اور سوشل اصلاحات کے طور پر قوانین میں بڑی تبدیلیوں کا حصہ ہیں۔کیسی بات ہے کہ سعودی عرب میں وٹس ایپ اور سکائپ پر پابندی ختم ہو رہی ہے اور ہماری حکومت کی کوشش ہے کہ کسی طرح سوشل میڈیا پر پابندی عائد کر دی جائے۔روایتی میڈیا کے برعکس یہاں تنقید اس انداز میں ہوتی ہے کہ کسی بھی حکمران کے لئے اسے برداشت کرنا ممکن نہیں ہوتا ۔ تاہم آج کے دور میں ایسی پابندیاں ممکن نہیں۔ اگر ہم سیکھنا چاہتے ہیں تو سعودی عرب سے ہی سیکھ لیں جس کے صرف پاکستانی حکومتوں کے ساتھ ہی اچھے تعلقات نہیں بلکہ یہ اپنے ہاں موجود پاکستانیوں کو بھی اچھی کارکردگی پر سراہتا ہے۔ جدہ میں اکثر اوقات طوفانی بارشیں ہوتی ہیں اور پانی سیلاب کی شکل میں ٹھاٹھیں مارتا ہوا شہر کی گلیوں میں داخل ہو جاتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل فرمان علی خان نامی ایک بندے کی خبر آئی جس کا تعلق سوات سے تھا۔ ایک روز جدہ میں جاری طوفانی بارشیں اپنے عروج پر پہنچ گئیں ۔ طوفان کے شور نے فرمان علی کو صبح سویرے اٹھا دیا‘ وہ باہر نکلا تو عجیب منظر تھا‘ ہر طرف بچوں اور عورتوں کی چیخ و پکار اور قیامت کا سماں تھا‘ اس دوران فرمان نے بیس بائیس سال کا ایک نوجوان دیکھا جو سڑک کنارے ایک پول کے ساتھ چپکا ہوا تھا‘ اس کے کندھے پر چھ سالہ بچہ سوار تھا‘ نوجوان نے پول مضبوطی سے تھام رکھا تھا مگر پانی کا بہائو اسے لے جانے کیلئے بے تاب تھا‘ فرمان کے ذہن میں ایک خیال کوندا‘ وہ فلیٹ میں گیا اور بیس تیس فٹ لمبی رسی لے آیا‘ اس نے رسی کا ایک سرا فلیٹ کے باہر جنگلے سے باندھا ‘ دوسرا سرا اپنی کمر کے گرد لپیٹا‘ گرا لگائی اور پانی میں اتر گیا‘ فرمان علی سڑک کنارے درختوں‘ دیواروں اور رکاوٹوں کا سہارا لیتا ہوا بالآخر نوجوان تک پہنچ گیا‘ اس نے بچے کو کاندھے پر بٹھایا‘ نوجوان کا ہاتھ تھاما اور دونوں کو باحفاظت فلیٹ کی بالکونی میں پہنچا دیا‘ ابھی فرمان کے حواس پوری طرح بحال نہیں ہوئے تھے کہ اس نے کئی اور آوازیں سنیں‘ یہ سب لوگ سڑک کے دائیں بائیں پھنسے تھے‘ کوئی گاڑیوںکی چھتوں کے ساتھ چپکا تھا‘ کوئی درخت پر لٹکا تھااور کوئی پانی کی لہروں میں بہتا جا رہا تھا‘ فرمان علی دوبارہ پانی میں اتر گیا اور مزید چودہ سعودی شہریوں کی جانیں بچانے میں کامیاب ہو گیا‘ قدرت نے اسے مزید موقع نہ دیا‘ پانی کا ایک تیز ریلا آیا‘ اس کا سر کسی ٹھوس شے سے ٹکراگیا اور فرمان کی روح پرواز کر گئی‘ وہ شہید ہو گیا‘ یہ انسانی جذبے کی شاندار مثال تھی‘ اس مثال نے سعودی حکومت اورسعودی عوام کو فرمان علی کا احسان مند بنا دیا اور اس بے مثال قربانی پر خادم حرمین شریفین شاہ عبداللہ مرحوم نے فرمان کو سعودی حکومت کا اعلیٰ ترین سول ایوارڈ ”کنگ عبدالعزیز گولڈ میڈل درجہ اول‘‘ سے نوازا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ یہ ایوارڈ لینے فرمان کے والدین اور فیملی شاہی مہمان کے طور پر سعودیہ پہنچے تھے جہاں سعودی ولی عہد شہزادہ نائف نے ایک پرتکلف تقریب میں فرمان کے والد کو ایوارڈ پیش کیا تھااور فرمان علی کی انسان دوستی کے اعتراف میں جدہ کی ایک شاہراہ بھی فرمان علی کے نام موسوم کر دی۔ اسی طرح گزشتہ دنوں سعودی عرب میں دھڑ جڑے پاکستانی بچیوں کا کامیاب آپریشن کرکے علیحدہ کر دیا گیا، بچیوں کا تعلق خیبرپی کے سے تھا، علاج پر 85 لاکھ روپے سے زیادہ خرچ آیا ،تمام اخراجات سعودی حکومت نے برداشت کئے ۔سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کے مطابق ان بچیوں کو ان کے والدین کے ہمراہ خادم حرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے مہمان خصوصی کے طور پر ریاض لایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے پانچ گھنٹے مسلسل جاری آپریشن کے بعد دونوں کو علیحدہ کیا۔اب تک سعودی عرب میں جڑواں بچوں کو علیحدہ کرنے کے 40 سے زائد آپریشن ہو چکے ہیں یہ تعداد دنیا میں کسی بھی ملک میں ہونے والے اس قسم کے آپریشنوں سے زیادہ ہے ۔ اس طرح کے آپریشن کرنے کی سہولیات بہت کم ممالک میں ہیں۔ایسے ایک آپریشن پر خرچ تقریباً 3 لاکھ سعودی ریال آتا ہے اور یہ آپریشن شاہ سلمان کی ہدایت پر کئے جاتے ہیں آپریشن کرنے والی ٹیم میں 70 ڈاکٹرز اور تکنیکی افراد شامل ہیں‘ ان کی قیادت سابق وزیر صحت ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ کرتے ہیں اور یہ آپریشن پاکستان سعودی عرب دوستی کی واضح مثال ہے ۔
عالم عرب میں سعودی عرب غیر معمولی اہمیت اور حیثیت کا حامل ہے۔حرمین شریفین کی نسبت سے امت مسلمہ کی اس خطے کے ساتھ غیر معمولی روحانی اور نظریاتی وابستگی ہے ۔ سعودی عرب میں قتل وغارت گری ، منشیات ، جسم فروشی اور گداگری کے واقعات دور دور تک نظر نہیں آتے جو مضبوط حکومتی ڈھانچے کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔ سعودی عرب کی طرح پاکستان کی چین اور ترکی کے ساتھ دوستی بھی انتہائی گہری ہے۔ لیکن بات پھر وہیں آ جاتی ہے کہ ہم ترقی یافتہ یورپی ‘ ایشیائی اور عرب مما لک کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے کے تو خواہاں ہیں لیکن ہم ان ممالک سے کچھ سیکھنے کو تیار نہیں۔ اس سے بھی مایوس کن یہ کہ ہمارے ہاں نہ ویسی ترقی قدم جما سکی اور نہ ہی جمہوریت پنپ سکی۔ نہ یہاں جرائم کم ہو سکے نہ صحت اور روزگار کی سہولیات میں کوئی بہتری آ سکی اور اب حالت یہ ہو چکی کہ ایک سیاسی خاندان اقتدار سے چمٹے رہنے اور پارٹی صدارت کے حصول کے لئے ایسی ایسی ترامیم کروا رہا ہے جو جمہوریت کے منہ پر طمانچے کے مترادف ہیں اور جن کے بعد اس ملک کو جمہوری ملک کہتے ہوئے سو مرتبہ سوچنا پڑے گا۔