خبرنامہ

آئی ٹی میں پاکستان کا بلند تر اور روشن روشن افق….اسداللہ غالب

کوئٹہ چرچ

بسم الہ
آئی ٹی میں پاکستان کا بلند تر اور روشن روشن افق
انداز جہاں۔۔۔اسداللہ غالب
میں پہلی بار انیس سو بانوے میں امریکہ گیا، یہ ایک سرکاری دورہ تھا۔ ہمیں سان فرانسسکو بھی لے جای گیا جہاں ہم کئی روز ٹھہرے، میں نے سلی کون ویلی کی بہت شہرت سن رکھی تھی اور شوق بلکہ جنون تھا کہ اس کا مشاہدہ کروں، پاکستام میں ایک زمناے میں امریکن سنٹر میں جناب حسیسنی صاحب تعینات رہے جو ریٹائر منٹ کے بعد امریکہ چلے گئے ،میرے پاس ان کے گھرچ کا فون نمبر موجود تھا، پہلی فرصت میں انہین کال کی، وہ چھٹی کے روز میرے پا سہوٹل چلے آئے ، انہوں نے بتایا کہ وہ جس علاقے میں قیام پذیر ہیں وہ سلی کون ویلی کے عین درمیان میں ہے ۔ مجھے وہ اپنے بہنوئی کی گاڑی میں اپنے گھر لے گئے اور پگر ہم نے اس علاقے کا ایک ایک گوشہ دیکھا۔ میں کیا بتاؤں یہاں گھر گھر نہیں بلکہ گھر کا ہر کونہ سافٹ ویئر کا مرکز بنا ہوا تھا، گھر کا ہر فرد اپنی الگ کمپنی چلا رہا تھاا ور کھانے کی میز پر کوئی سیایس گفتو نہیں سارء بات انفارمیچن ٹیکنالوھی کے حال اور مستقبل پر مرکوز رہی۔ میری اس روز سے خواہس تھی کہ کبھی پاکستان بھی اس مقام تک پہنچے۔خود میں نے سن ستانوے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کاا ستعملا کرتے ہوئے دنیا کی پہلی عیب پورٹل بنائی جو خؓروں کا مرکز بھی تھی، لائیبریری۸ بھی تھی، ریڈیو بھی تھی اوت ٹی وی کا کام بھی انجام دے رہی تھی،ملک کے اندر البتہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی رفتار بہت دھیمی رہی۔پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی تشکیل اس اس میں ڈاکٹر عمر سیف جیسے گرو کی تقرری نے ایک امید پیدا کی۔ یہ امید اب پوری ہوتی دکھائی دے رہی ہے اور ڈاکٹر عمر سیف کے کمالات کی شہرت مائیکرو سافٹ کے چیئر مین تک پہنچ گئی ہے جو ان کے بے حد گرویدہ ہیں۔ دو روز پیشتر ڈاکٹر عمر سیف کی تیار کردہ آئی ٹی پالیسی کو پنجاب جابینہ نے منظور کیا جس کی وجہ سے یہ صوبہ آیہ ٹی کی دوڑ میں آگے نکل گیا، ایسی پالیسیاں ملک کے ہر صوبے میں بنے چاہیءں تاکہ صرف پنجاب ہی نہیں پاکستان کی پہچان سلی کون ویلی کے برابر ہو جائے، میں خود انفارمیشن ٹیکنالوھی کا مہار تو کیا کبھی طالب علم بھی نہیں رہا لیکن ملک کے لئے بلندخیالات رکھنے کے لئے آئی ٹی کا مہار ہونا ضروری نہیں، یہ تو ای۸ک خواب ہے جو ہر ای۸ک دیکھ سکتا ہے مگر اس کو عملی تعبیر بخشنا ڈاکٹر عمر سیف جیست ماہرین کا خاصہ ہے۔دیکھئے پنجاب نے آئی ٹی میں کیا ترقی کی، صرف سڑکیں، پل ، انڈر پاس اور اوور ہیڈ نہیں بنے ، اورنج ٹرین اور میٹرو ہی نہیں چلی بلکہ روزنی سے تیز رفتار آ ٹی نظام نے ہمرا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ پنجاب آئی ٹی پالیسی جاری کرنیوالا پہلا صوبہ بن گیا ہے۔ اس کی آئی ٹی پالیسی 2018ء کی منظوری کے بعد پنجاب اپنی آئی ٹی پالیسی جاری کرنے والا پہلا صوبہ بن گیا ہے۔
پنجاب آئی ٹی پالیسی میں تمام اصناف، علاقوں اور معاشی طبقات کے مابین ڈیجیٹل تفریق کے خاتمے اور پنجاب کو پاکستان کا آئی ٹی ‘ ریسرچ اور ایجاد و اختراع کا مرکز (ہب)بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ آئی ٹی یو پنجاب کے بانی وائس چانسلر اور پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (پی آئی ٹی بی) کے چیئرمین ڈاکٹر عمر سیف نے پالیسی کی اہم خصوصیات کی وضاحت کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ ثابت ہو گیا حکومت آئی سی ٹی کو گورننس بہتر بنانے، اہلیت، شفافیت اور احتساب کے ذریعے کے طور پر استعمال کرنے میں مخلص ہے۔اس پالیسی کا ایک بڑا مقصد پنجاب کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ہب (مرکز) بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پالیسی سے پنجاب آئی ٹی ‘ ITESاور EHMکی صنعت میں سرمایہ کاری کے لئے مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن جائے گا۔ ای کامرس کو فروغ ملے گا اور روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔پنجاب آئی ٹی پالیسی2018 کے نفاذ سے طویل المدتی سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا‘برآمدات بڑھیں گی اور نئے آئی ٹی پارکس بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی ٹیکنالوجیز اور پالیسی ریفارم اور قانونی فریم ورک میں بہتری کے ذریعے ان کے محفوظ استعمال کے لیے سازگار ماحول مہیا ہو گا، شہریوں کی صلاحیتیں بڑھانے اور سب طبقات کی زیادہ شرکت والے اور وسیع تر انسانی ترقی کے ایجنڈے کے لیے آئی سی ٹی کو استعمال کیا جائے گا، صوبے میں علم کی بنیاد پر استوار معیشت کی توسیع اور تیز رفتار ترقی کے لیے کوششیں کی جائیں گی، آئی سی ٹی کے استعمال سے وسائل اور ملازمت کے مواقع بڑھائے جائیں گے اور پنجاب میں گورننس کے ایک زیادہ اہل اور شفاف اور ماحول دوست ماڈل کے لیے آئی سی ٹی کو استعمال کیا جائے گا۔
کابینہ کے سامنے پالیسی کی دستاویز پیش کرتے ہوئے پنجاب آئی ٹی بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر عمر سیف نے بتایا کہ پالیسی بنانے کا عمل ڈیڑھ سال پہلے شروع ہوا تھا اور اس کے بنائے جانے کے دوران یہ امر یقینی بنایا گیا کہ اس عمل میں ہر طبقہ شامل ہو، ملک بھر سے اہم شعبوں سے تعلق رکھنے والے ڈیڑھ سو افراد نے اس دستاویز کی تیاری میں مدد دی۔
آئی ٹی پالیسی کے تحت دور دراز علاقوں میں پبلک وائی فائی ہاٹ سپاٹس اور ریسورس اینڈ سروس سنٹرز بنائے جائیں گے اور ان سنٹرز میں خواتین کو ترجیحی دسترس حاصل ہو گی۔ نجی شعبے کی گلوبل آن لائن پلیٹ فارمز کے اشتراک سے ای لرننگ کے شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے۔پالیسی دستاویز ترتیب دیتے وقت آئی ٹی سیکٹر کے صنعت‘ کاروبار‘ تعلیم اور دیگر تمام شعبوں کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ پاکستان میں آئی ٹی سیکٹر تیزی سے فروغ پا رہا ہے جس کا ثبوت آئی ٹی کی بڑھتی ہوئی برآمدات ہیں۔حکومت پنجاب ترجیحی بنیادوں پر آئی ٹی سے متعلقہ شعبوں کے فروغ کے لئے اقدامات کر رہی ہے جن میں سٹامپ ڈیوٹی کی ادائیگی کیلئے ای سٹیمپنگ کا اجراء‘ دیگر سرکاری وصولیوں کے لئے آن لائن طریقہ کار کا استعمال‘ویئرہاؤس کی تعمیر کے لئے ای خدمت مرکز سے پرمٹ کا حصول‘ٹیلی کام سیکٹر اور آئی ٹی کے کاروبار کے لئے ٹیکس میں چھوٹ‘ٹیکنالوجی پارکس اور نالج پارکس کی تعمیر اور پنجاب کے کسی بھی صنعتی زون میں نئی انڈسٹری کے قیام کے لئے ون ونڈو سروس سنٹرز کے ذریعے سہولیات فراہم کرنا شامل ہیں۔
مجوزہ اقدامات میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے لئے خصوصی اکنامک زونز (SEZs) اور انڈسٹریل سیٹیز کا قیام بھی شامل ہے جس سے برآمدی ڈیوٹیز اور ٹیکسوں میں چھوٹ ملے گی۔ مزید یہ کہ لاہور اور دیگر شہروں میں ٹیکنالوجی پارکس بنائے جائیں گے اور آئی ٹی اور آئی ٹی سے جڑی سروسز پر ٹیکسوں میں چھوٹ دی جائے گی۔
معاشرے میں ڈیجیٹل تفریق ختم کرنے کے لئے حکومت نے بہت سی سکیمیں شروع کی ہوئی ہیں جن میں طلبا میں میرٹ پر لیپ ٹاپس کی تقسیم‘وزیراعلیٰ ای روز گار سکیم جس کے ذریعے گریجوایٹ طلبا اپنی تکنیکی مہارتوں کے ذریعے آن لائن پیسہ کما نے کے قابل ہوتے ہیں‘ای لائبریریز کا قیام‘ بڑے شہروں میں پبلک مقامات پر مفت انٹرنیٹ کے حصول کیلئے وائی فائی ہاٹ سپاٹس کا قیام اور ای لرن پروگرام کے تحت کتابوں کی آن لائن دستیابی اور سکولوں میں ٹیبلٹس کا استعمال شامل ہیں۔
اسی طرح آن لائن پٹیشنز پلیٹ فارم کے ذریعے شہریوں کو بااختیار بنانا جو سماجی اور دوسرے متعلقہ معاملات نمٹاتے ہیں؛ پورے پنجاب میں پی آئی ٹی بی کے علاقائی دفاتر کا قیام؛ انٹرنیٹ آف تھنگز (آئی او ٹی) جیسے ابھرتے ہوئے آئیڈیاز کے بارے میں تربیت دینا؛ اور معاشرے کے کمزور طبقات کو پالیسی میں شمولیت سمیت ہر معاملے میں شامل کرتے ہوئے مفت اور قابلِ رسائی آئی سی ٹی ریسورسزمہیا کرنا۔
گزشتہ پانچ برسوں میں پنجاب آئی ٹی بورڈ نے پنجاب کو جن اقدامات کے ذریعے ڈیجیٹل دور میں داخل کیا ہے ان میں پنجاب کے تھانوں کی کمپیوٹرائز یشن‘ پنجاب کے 36اضلاع میں پولیس خدمت سنٹرز کا قیام‘ کریمینل ریکارڈ آفس کا خودکار نظام ‘ضلعی اور تحصیل ہسپتالوں کیلئے ہاسپٹل مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم ‘ ڈاکٹرز اور پیرامیڈکس سٹاف کا بائیو میٹرک حاضری نظام ‘موبائل فون اور ٹیبلسٹس کے ذریعے زرعی‘لائیو سٹاک‘آب پاشی تعلیم اور صحت سے متعلقہ فیلڈ سٹاف کی نگرانی‘پنجاب میں ویکسی نیشن کوریج 22فیصد سے92فیصد تک بڑھانا‘پنجاب کے 52,394سکولوں کے سٹاف کی مانیٹرنگ‘سرکاری وصولیوں کے لئے شفاف اور محفوظ نظام‘مختلف سرکاری شعبوں میں ای فائلنگ اور دفاتر کے لئے خودکار نظام‘ مختلف سرکاری شعبوں میں موجود افسران کے درمیان مربوط اور فوری رابطے کے لئے ویڈیو کانفرنس سہولت کا نظام‘ سیٹیزن کانٹیکٹ سنٹرز کا قیام اور پنجاب میں زرعی اراضی کے ساڑھے پانچ کروڑ سے زائد مالکان کے لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن سمیت دیگر اقدامات شامل ہیں۔
آپ ارفع کریم سنٹر کی بلندی کو دیکھ کر حیرت زدہ رہ جاتے ہیں مگر مجھے وطن عزیز کا قد کاٹھ اس سے بلند تر نظر آ رہا ہے۔ مگر میرے نزدیک ارفع کریم سنٹر سے پھوٹنے والی شعاؤں نے پاکستان کے افق کو چار چابد لگا دیئے ہیں۔