خبرنامہ

اردو کی غلطیاں ، جپھیاں اور جھلکیاں….اسد اللہ غالب

کوئٹہ چرچ

اردو کی غلطیاں ، جپھیاں اور جھلکیاں….اسد اللہ غالب

نئے وزیر اعظم کا حلف شروع ہوا تو ٹی و ی ا سکرینوں کے سامنے بیٹھے لوگ سر پیٹ کے رہ گئے کہ ایک مسلمان کے لئے ختم نبوت زندگی اور موت کامسئلہ ہے، ابھی تو ذہن سے فیض آباد دھرنے کی تلخ یادیں محو نہیں ہوئیں ۔ یہ دھرنا ختم نبوت کا حلف نامہ تبدیل کرنے پر ہوا مگر جو صاحب وزیر اعظم بننے جا رہے تھے وہ لفظ خاتم النبین ﷺ پڑھنے سے قاصر تھے۔ پتہ نہیں یہی حلف نامہ انہوں نے بطور رکن اسمبلی پڑھا تو کیسے پڑھا، اس پر تو کسی کا دھیان نہیں گیا۔ ایک لفظ اور تھا روز قیامت ،اس کو روز قیادت کہہ ڈالا۔ صدر مملکت نے تصحیح کرائی تو سوری کہہ کر تلفظ درست کر لیا۔ حلف کے آغاز ہی میں وزیر اعظم اپنا نام لینا بھول گئے۔ صدر مملکت نے پتہ نہیں کیسے توجہ دلائی کہ اپنا نام پکاریں تو حلف لینے والے کو عمران ا حمد خان نیازی کہنا پڑا،۔
عام پاکستانی نے ان غلطیوں یا کوتاہیوں کو یہ سمجھ کر نظر انداز کر دیا کہ ایک شخص ساری عمر انگریزی اسکولوں کا پڑھا ہے۔ اردو صحیح نہیں بول سکا تو یہ کوئی بڑی غلطی نہیں مگر الیکٹرانک میڈیا کے جگت بازوں کو ایک اشو چاہئے تھا۔دہائی اور دھلائی شروع ہو گئی۔ ایک دانشور نے اپنی طرف سے بڑا تیر مارا کہ حلف کے الفاظ مشکل تھے۔ ان کی جگہ آسان الفاظ بھی استعمال کئے جا سکتے تھے۔ انہوں نے اگلے سانس میں یہ بھی کہا کہ حلف کی عبارت ایسی ہونی چاہیئے کہ عام آدمی کو بھی سمجھ آ سکے کہ اس کا مطلب اور مفہوم کیا ہے اور پھر سانس توڑے بغیر کہا کہ بہتر ہوتا کہ انگریزی زبان میں حلف لیا جاتا۔، انہوں نے دلیل دی کہ آخر نواز شریف نے بھی تو انگریزی زبان میں حلف لیا تھا۔ اس بحث کا حاصل یہ نکلا کہ حلف انگریزی میں ہوتا تو کندھ کوٹ، شانگلہ،ڈیرہ گوجراں، اور مستونگ کے لوگ بآسانی سمجھ جاتے کہ وزیر اعظم کس بات کا حلف لے رہے ہیں،مطلب یہ ہوا کہ عام پاکستانی بوسٹن،برکلے،آکسفورڈ اور کیمبرج کا سند یافتہ ہے۔
تبصرے تو یہ بھی ہوئے کہ جو شخص پہلی ہی تقریب میں اعتماد کاا ظہار نہیں کر سکا ، وہ کار حکومت کیا چلائے گا۔
کار حکومت چلانا اور زبان دانی کے جوہر دکھانے کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔ لاہور شہر کے ایک میئر ہو گزرے ہیں جو ایوب خان کے بڑے چہیتے تھے۔ ان کے دور میں برطانوی ملکہ لاہور تشریف لاءں تو زندہ دلان شہر کی طرف سے عالی شان تقریب کاا ہتمام کیا گیا، میئر صاحب خطبہ استقبالیہ پڑ ھتے ہوئے جب ملکہ معظمہ کے لفظ پر پہنچے تو شاید ان کی نظریں مہمان خصوصی پر مرکوز تھیں اور ان کے جثے کو دیکھتے ہوئے ان کے منہ سے ے نکلا کہ گرامی قدر مٹکہ معظمہ۔۔۔ مجمع ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گیا، یہی میئر صاحب ایک بار اسلام آباد جا رہے تھے۔ جہاز میں ان کے ساتھ والی سیٹ پر کوئی صاحب براجمان تھے ، ان سے پوچھا کدھر کا ارادہ ہے اور کس سے ملو گے۔ جواب ملا کہ ایوب خان سے ملنے جا رہا ہوں۔ میئر صاحب نے پوچھا کہ کیا کیابات کرو گے ، جواب میں انہیں کچھ مسائل بتائے گے تو میئر صاحب نے کہا کہ آ پ توپڑھے لکھے لوگ ہیں ، میرے پاس تو بس ایک دماغ ہی دماغ ہے۔ کچھ میری باتیں بھی ان تک پہنچا دینا۔
پڑھے لکھوں کی بات سے یاد آیا کہ لاہور میں جنرل ضیا الحق کے پرستار اخبار نویسوں نے ایک تنظیم بنا رکھی تھی، اس کے مدار المہام دو اصحاب تھے۔ وہ جنرل صاحب کے بے حد چہیتے تھے۔ کیوں تھے اس کی وجہ تو میں نہں جانتا لیکن انہوں نے ایک بار جنرل صاحب کو لاہور مدعو کیا۔ الحمرا ہال میں اخبار نویسوں کا بہت بڑا اکٹھ تھا ۔ انہوں نے اپنے مہمان خصوصی کا جو انتظار شروع کیا تو دوپہر سے رات ہو گئی۔ عام طور پر اخبار نویس کسی کے دیر سے آنے پر سیخ پا ہو کر تقریب کا بائیکاٹ کر جاتے ہیں مگر اس تقریب مین شریک کسی اخبار نویس کی کیا مجال کہ ہال سے باہر بھی نکلتا۔ بہر حال جب ضیا الحق آ گئے تو ایک عالم فاضل اخبار نویس میزبان نے خطبہ استقبالیہ شروع کیا۔ انہوں نے جنرل صاحب پریہ جتلانے کے لئے کہ ان لوگوں نے کس بے تابی سے ان کا انتظار کیا، اس کے لئے انہوں نے کہا کہ ہم لوگ دوپہر سے پیشاب تک روک کر بیٹھے آپ کے منتظر ہیں ۔
ابگریزی زدہ طبقہ ہم اردو میڈئیم والوں کا خوب مذاق اڑاتا ہے کہ ہم گَرل کو گِرل بولتے ہیں اور ان کی طرح منہ ٹیڑھا کر کے انگریزی نہیں بول سکتے۔ یہ خرابیاں ہم اردو میڈئیم والوں میں ضرور موجود ہیں مگر اس انگرزی زدہ طبقے کے ایک فرد نے اردو کا جو حشر کیا ہے وہ براہ راست نشریات میں دنیا بھر کے کروڑوں لوگوں نے دیکھ لیا۔یہ انگرزی زدہ طبقہ دعوے کرتا ہے کہ وہ ملک میں تعلیم کا نظام ٹھیک کرے گا،۔ خاک کرے گا۔ اس کے مبلغ علم کا معیار ہم نے دیکھ لیا، محترمہ بے نظیر بھٹو کی مشہور مثال ہے بلکہ اسے ضرب المثل میں شمار کیا جانا چاہئے ، انہوں نے ایک بار کہا تھا کہ اذان بج رہا ہے۔ان کا بیٹا بلاول، ماں پر بازی لے گیا ہے اور فر فر انگریزی بھی بولتا ہے ا ور اردو بھی۔ خواہ وہ رومن اردو میں لکھی ہوئی پڑھتا ہے مگر بول تو صحیح لیتا ہے۔
میں نے کل کے کالم میں بھارتی مہمانوں کو مدعو کرنے پر اپنے غم و غصے کااظہار کیا تھا مگر وہ جو کہتے ہیں کہ چھوٹے میاں تو چھوٹے میاں مگر بڑے میاں سبحان اللہ۔ میں اس وقت شرم میں ڈوب گیا جب پاکستان کے آرمی چیف نے بھارتی مہمان کو گلے لگایا۔جناب قمر جاوید باجوہ یہ کام کرتے تو میں سمجھتا کہ ایک عام آدمی کا فعل ہے مگر پاکستانی جنرل کی یونیفارم پہنے انہوں نے سدھو کو جپھی ماری تو یہ اسٹرییٹیجک طور پر ضرورقابل تعریف کام ہوگا مگر قومی نقطہ نظر سے ایک دشمن قوم کے فرد سے یوں اظہار دوستی آرمی چیف کو نہیں کرنا چاہئے تھا۔ مجھ جیسے پاکستانی تو نواز شریف کی واجپائی ا ور مودی سے جپھیوں کو ہضم نہیں کر سکے اور محترمہ بے نظیر نے سارک کی اسلام آباد کانفرنس میں راجیو گاندھی سے مسکراہٹوں کا تبادلہ کیا تو قوم سرپااحتجاج بن گئی ۔
میں نے ایک بار جنرل نصیر اختر کوایک محفل میں تبادلہ خیال کے لئے بلایا، وہ بھارت کے دورے سے واپس آئے تھے اور پاک بھارت ریٹائرڈ فوجیوں کی تنظیم کے سربراہ بھی تھے۔ میں نے ان سے پوچھا تھا کہ جب تک آپ وردی میں رہے آپ نے ہمیں بھارت دشمنی کا ٹیکہ لگایا اور جونہی آپ نے وردی اتاری تو آپ بھارت دوستی کے ترانے گانے لگ گئے ہیں،پا ک فوج دنیا بھر کی افواج کے ساتھ مشترکہ مشقیں کرتی ہے مگر میں نے کبھی نہیں سناکہ اس نے بھارتی افواج کے ساتھ بھی کوئی فوجی مشق کی ہو، یہ کام ہو سکتا ہے مگر صرف اس وقت جب مسئلہ کشمیر حل ہو جائے اوربھارتی جنتاا ور ان کی قیادت پاکستان کو دل سے قبول کر لے مگر اب کر بھی لے تو ہمیں قائد اعظم کا پاکستان واپس نہیں مل سکتا ، اسے تو بھارتی جنرل اڑوڑہ نے سن اکہتر میں دو ٹکڑے کر کے رکھ دیا تھا،اب ہم نیا پاکستان تو بناتے ہیں مگر کوئی مجھے قائد کا پاکستان واپس دلو ادے تو میں گاندھی کی قبر پر بھی پھول چڑھانے چلا جاؤں گا۔
سوائے اس کے عمران ا حمد خاں نیازی نے اس تقریب میں بطور وزیر اعظم اپنا حلف اٹھایا اور یہ تقریب ہر لحاظ سے سادگی کی مثال بھی تھی مگر سدھو کی آمد اور ان سے جپھیوں نے ساری خوشیاں خاک میں ملا ڈالیں۔
اپنی فوج کے سربراہ سے دوستانہ گلہ تو ہو سکتا ہے، مگرنئے وزیر اعظم سے میں کیوں لڑوں گا۔
میں ا س تقریب کی اور کیا جھلکیاں لکھوں۔