خبرنامہ

اسی سال قبل بجٹ اور ملک برکت علی کی تقریر…اسد اللہ غالب

کوئٹہ چرچ

بسم اللہ

انداز جہاں ۔ اسداللہ غال�آاسی سال قبل بجٹ اور ملک برکت علی کی تقریر
میں نے اپنے متعدد کالموں میں ملک برکت علی کے تاریخی کردار پر روشنی ڈالی ہے۔ میری دعا ہے کہ ان پرزیر ترتیب کتا ب جلد شائع ہو جائے تاکہ آج کی نسل کے سامنے ایک زمانے کی تصویر واضح ہو جائے اور قبل از تقسیم مسلم سوچ کے ارتقائی سفر کے خدو خال کا بھی پتہ چل سکے۔ آزادی بیٹھے بٹھائے حاصل نہیں ہوئی، ا س کے لئے ایک نسل نے قربانیان دیں اور نامساعد حالات میں جانگسل جودو جہد کی۔ غیر مقسم پنجاب میں ملک برکت علی کئی عشروں تک مسلم لیگ کی واحد آواز تھے۔ انہو ں نے طویل عرصے تک پنجاب اسمبلی میں مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی کی، اسمبلی میں ان کی تقریر کا متن بھی کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ تقریریں آج کے پارلیمنٹرینز کو ضرور پڑھنی چاہئیں تاکہ انہیں اندازہ ہو سکے کہ ایوان میں نمائندگی کا حق کیسے ادا کیا جاتا ہے۔ میرا دل تو چاہتا ہے کہ میں گاہے گاہے اس کتاب کے اقتباسات پیش کرتا رہوں اور کتاب کے مرتب کو داد پیش کروں کہ انہوں کس قدر محنت شاقہ سے کام لیا ہے مگر مجھے انہوں نے دوستانہ وارننگ دی ہے کہ میں ان کا تذکرہ نہ کروں ، بہر حال ان کا مشکور ہوں کہ انہوں نے ا س نادر کتاب کا مسودہ میرے استفادہ کے لئے دیا ہے۔اس کالم میں میں ملک بر کت علی کی ایک ایسی تقیر کا کچھ حصہ پیش کر رہا ہوں جو انہوں نے بجٹ کے سلسلے میں کی، آپ حیران نہ ہوں ، وہی حیلے ہیں پرویزی کے مصداق بجٹ کسی دور کا کیوں نہ ہو ، یہ اعدادو شمار کا گورکھ دھندا ہی ہوتا ہے۔ مگر برکت علی نے بجٹ پر جو تبصرہ کیا اس سے اندازہ ہوتا ہئے کہ وہ مسائل پر کس قدر دسترس رکھتے تھے۔
9 مارچ 1938 کو سال 1938-39کے بجٹ پر بحث کر تے ہوئے ملک برکت علی نے یونینسٹ منسٹری کی پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا :
سر میں اپنی تقریر کے آغاز میں ہی عزت مآب فنانس منسٹر کو مبارک باد پیش کرتا ہوں جنہوں نے اسمبلی میں اتنا ناقابل فہم بجٹ پیش کر کے یہ بات ثابت کی ہے کہ وہ ٹریژی بینچوں کے لیے کسی سرمایہ سے کم نہیں ۔ ہمارے قابل عزت فنانس منسٹرایک جانے مانے ماہر اقتصادیات ہیں اور میں بالکل حیران نہیں ہو ا کہ انہوں نے ایسا بجٹ پیش کیا ہے جو ظاہری طور پر /کاغذوں میں بالکل متوازن اور محتاط نظر آتا ہے ۔ میں نے کاغذوں میں پیش کرنے کا جملہ جان بوجھ کر استعمال کیا ہے کیونکہ اگر آپ بجٹ میں پیش کی گئی چیزوں کا بغور جائزہ لیں تو بہت کم چیزیں ایسی ہیں جو ہمارے لوگوں یا قوم کو فائدہ دیں ۔ حالانکہ یہ بات سچ ہے کہ کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا لیکن میری شکایت جناب فنانس منسٹر سے یہ ہے کہ موجودہ بجٹ کو دیکھتے ہوئے عوا م پر ٹیکسوں کا بے جا بوجھ کم کرنے کے لیے کئی اقدامات اٹھائے جا سکتے تھے ۔ جیسا کہ انہوں نے خود ظاہر کیا ہے کہ انہوں نے 1937-38 میں 2 لاکھ کا اضافی بجٹ پیش کیا ۔ در حقیقت اسی دور میں وہ 61 لاکھ روپے اکٹھا کرنے میں کامیاب ہوئے اور یہ سب ان طاقتوں (بیوروکریسی ) کی وجہ سے ممکن ہوا جن پر ان کا اپنا کنٹرول بھی نہیں ہے۔جناب فنانس منسٹراس بات پر مجھ سے اتفاق کریں گے کہ اگر وہ اس اسمبلی میں آرام سے آنکھیں بند کرکے بھی بیٹھے رہتے، تب بھی یہ 61 لاکھ روپے خزانے میں اڑ کے چلے آتے۔ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ سال 1937-38 میں پراپرٹی ٹیکس ، جائیداد پر ٹیکس میں تخفیف کر کے اس مد میں 32 لاکھ روپے اکٹھے کئے گئے ہیں ۔ اگر قدرتی آفت نہ آتی جس کی وجہ سے یہ رعایت دی گئی ، تو عزت مآب جناب فنانس منسٹرکو مزید 32 لاکھ کا تحفہ مل جاتا ۔یہ32 لاکھ روپے اگر اضافی آمدن کے61 لاکھ میں شامل کئے جاتے تو اضافی آمدن93 لاکھ تک پہنچ جاتی۔ ان اعدادوشمار کی بنا پر میں ٹیکسوں میں کمی کا کیس پیش کرتا ہوں ۔ ہمارے عزت مآب فنانس منسٹرنے کہا ہے کہ55لاکھ روپے خاص ترقیاتی فنڈ میں ڈال دیئے گئے ہیں تاکہ دیہی علاقوں میں ترقیاتی پروپیگینڈہ/ کام شروع کیا جا سکے ۔ فنانس منسٹر مجھ سے اتفاق کریں گے کہ وہ دیہاتی جن کے لیے اتنی لگن اور اضطراب دکھایا جا رہا ہے اگر ہمارے فنانس منسٹر اس اضافی آمدن کی بنا پر صوبے کے ان غریب کسانوں کو جن کے پاس ایک ایکڑ یا اس سے کم کا رقبہ ہے ان کو ٹیکس سے بری الذمہ قرار دینے کا اعلان کرتے تو دیہاتی علاقوں کے کسانوں کی طرف سے موجودہ یونینسٹ پارٹی کے اس اقدام کو خوش آمدید کہا جا تا ۔لیکن انہوں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا ۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ وہ ا ن دیہی کسانوں کواچھی سڑکیں اور صاف پانی دیں گے ۔ ان کو اچھی سڑکیں اور پانی ضرور دیں لیکن ایک بات ضرور یاد رکھیں کہ آپ پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ آپ لوگوں کی عزت نفس اور ان کے وقار کو بھی بلند کریں ۔ آپ اس اسمبلی میں اس لیے موجود ہیں کہ آپ دیہی علاقوں کے لوگوں کی مادی اور اخلاقی حالات کو بھی بہتر بنائیں اور اسمبلی میں اس طرف موجود ہم لوگ آپ کی ان کوششوں میں آپ کے ساتھ ہیں کیونکہ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ جب تک آئین کی روشنی ، آپ کے قوانین کی خوبصورتی اور آپ کی اعلی طرز حکومت ان لوگوں کی صورت حال اور جذبات پر اثر انداز نہیں ہوتیں تو آپ یہ سمجھ لیں کہ آپ کو ابھی حکو مت کرنے کی ذمہ داریوں کو سمجھنا باقی ہے اور یہ بھی کہ اس طرح آپ کسی بھی کاشتکار کو مطمیٗن کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔
میں عزت مآب جناب فنانس منسٹرکویہ بتا نا چاہتا ہوں کہ نیا نظام گزشتہ سال ہی شروع ہوا ہے لیکن اس کے بعد بھی اگر کوئی تحصیل کا ادنی کانسٹیبل ، ایکسائز افسر یا چپڑاسی بھی دیہی علاقے کا دورہ کرتا ہے تو لوگ خوف سے کانپنے لگتے ہیں ۔ میں پوچھتا ہوں کہ آپ نے اس صورت حال کو بدلنے /بہتر کرنے کے لیے کیا اقدامات اٹھا ئے ہیں !آپ نے ایسے کیا اقدامات کئے ہیں جن سے ان دیہاتی لوگوں کو باور کروایا جا سکے کہ یہ عام کانسٹیبل ، ایکسائز ، ملازم اور تحصیل کے چپڑاسی ان کے آقا نہیں ہیں بلکہ ان کے ملازم ہیں؛اور یہ کہ دیہاتی کسان ان سے اوپر ہیں ؛اور یہ کہ اس نئے نظام کے تحت ان کا رول وہ نہیں ہے جو بیوروکریسی نے ان کو الاٹ کیا ہوا تھا ،یعنی غلاموں کا ،لکڑ ہارے کا یا ماشکی کا ۔ آپ نے ان کو یہ باور کرانے کے لیے کیا اقدام کیا کہ ایک غلام کے بجائے وہ آقا ہیں جن کے پاس یہ طاقت ہے کہ وہ اپنی مرضی کی حکومت منتخب یا تبدیل کر سکتے ہیں۔
میں یہاں پر چند ٹھوس معاملات کو زیر بحث لانا چاہوں گا ۔ میں عزت مآب وزرا سے یہ پوچھنا چاہوں گا انہوں نے جوڈیشنل اور ایگزیکٹو کے معاملات کو علیحدہ علیحدہ کرنے کے لیے کیا اقدامات اٹھائے ہیں ؟ جب اس اسمبلی کا گزشتہ اجلاس جو پچھلے سال ہواتھا تو ہماری جانب سے ایک قرارداد پیش کی گئی تھی جس میں حکومت کو یہ سفارش کی گئی تھی کہ حکومت جوڈیشل کاموں کو ایگزیکٹو کاموں سے علیحدہ کرنے کے لیے اقدامات کرے ۔ اسمبلی نے روایتی پینترے استعما ل کئے جس کی وجہ سے اس قرارداد پر اسمبلی میں بحث نہیں کی جا سکی ۔یہاں پر بار کی قابل شخصیات پر مشتمل ایک کیبنٹ موجود ہے اور ان کا یہ خیال ہے کہ موجودہ عدلیہ کے انتظامی ڈھانچے میں سب سے زیادہ مایوس کن بات جوڈیشنل اور ایگزیکٹو معاملات کا ایک ہی انسا ن کے ہاتھ میں ہونا ہے ۔ ایک وقت تھا کہ اس علیحدگی پر اٹھائے گئے سوالات پر بیوروکریسی نے کا فی مخالفت کی ۔1919 میں سرولیم ونسنٹ نے( جو اس وقت انڈین سٹیٹ کے ہوم ممبربھی تھے ) کہاکہ یہ صوبے پرمنحصر ہے کہ وہ اس معاملے پر اپنے اپنے اقدامات کریں۔ 1921 جب دو حاکموں(Diarchy) کی عملداری تھی توکیا آپ کو معلوم ہے کہ انہوں نے کیا کیا؟ جناب شاہنواز جو ہماری ایک رکن اسمبلی کے شریک حیات بھی ہیں ،نے ایک قرارد اد سنائی جس میں یہ سفارش کی گئی کہ اس مسئلے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے ۔ چنانچہ ایک کمیٹی تشکیلی دی گئی اور اس کمیٹی نے اپنی سفارشات بھی پیش کیں جن میں سے چند ایک کو نافذ بھی کیا گیا ۔سول جوڈیشری کو مکمل طور پر ہائی کورٹ کے کنٹر ول میں دے دیا گیا لیکن کریمنل مجسٹریٹ کے نظام کو جوں کا توں چھوڑدیا گیا ۔ آپ کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اس وقت بیوروکریسی قانون کے نفاذ اور امن وامان کی صورت حال کی ذمہ دار ہوتی تھی جو مخصوص لوگوں کے اختیار میں تھا ۔ لیکن آج قانون کے نفاذ کا معاملہ اب ان مخصوص لوگوں کے اختیار میں نہیں رہا ۔ آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ مجسٹریٹ کاکام جوڈیشل کا م نہیں ہے اور سول کا م ہی جوڈیشل کا م ہیں ۔ اس لیے مجسٹریٹ کے کاموں کو ایسے ہی چلنے دیا جائے؟
قارئین! دیکھئے کہ کس قدر ٹھوس حقائق کی بنیاد پر یہ تقریر تیار کی گئی، کیا�آج اسی سال بعد ہمیں بجٹ پر ایسا پر مغز تبصرہ سننے کو ملتا ہے۔