خبرنامہ

امریکہ کے وہ دن ہوا ہوئے…اسداللہ غالب

میرے سامنے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا عرب نیوز کے ساتھ انٹرویو ہے اور میں سوچ رہا ہوں کہ پاکستان کس قدر خوددار اور پراعتماد ہو چکا ہے کہ اب امریکہ کو یہ سنانے جوگا ہو گیا ہے کہ تمہیں ہماری ضرورت نہیں تو ہمیں تمہاری ضرورت نہیں۔ عام محاورے میں اسے کہتے ہیں کہ ایک در بند تو سو در کھل جاتے ہیں۔ امریکہ نے پاکستان کی فوجی امداد بند کی، پاکستان نے بہت سمجھایا کہ حضور! اس سے وارآن ٹیرر پر منفی اثرات مرتب ہوں گے، پاکستان اپنے محدود وسائل کے ساتھ دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری نہیں رکھ سکتا جس سے یہ پورا خطہ سکیورٹی کے مصائب کا شکار ہو جائے گا۔
امریکہ ڈومور کا مطالبہ بھی کرتا ہے اور پاکستان کے ہاتھ پائوں بھی باندھ دیتا ہے، یہ کونسا طریقہ ہے ڈو مور کروانے کا۔ ہمارے آرمی چیف نے تو ترنت کہہ دیا تھا کہ اب ہمارے دن ڈومور کرنے کے گئے، اب دنیا ڈومور کرے، جتنا گڑ ڈالے گی، اتنا ہی کھانا میٹھا ہو گا۔ اب ہمارے وزیراعظم نے بھی فرمایا کہ وہ دن ہوا ہوئے جب پاکستان کا امریکہ پر انحصار تھا، اس نے اپنی فوجی امداد بند کی تو پاکستان نے نئے ذرائع تلاش کر لئے، انہوںنے ایک مثال بھی دی کہ پاکستان کے فضائی بیڑے میں روسی ہیلی کاپٹروں کا اضافہ ہو گیا ہے، پاکستان نے چین کے ساتھ جو دفاعی اشتراک کر رکھا ہے، اسے ایک دنیا جانتی ہے، میزائل سازی، ٹینک سازی اور تھنڈر سازی۔ یہ تو بڑی بڑی مثالیں ہیں ورنہ پاکستان کو چین سے دفاعی ضرورت کی ہر چیز دستیاب ہے۔
پاکستان کے ساتھ امریکی تعلقات اتار چڑھائو کا شکا رہتے ہیں۔ اس بار پہل صدر ٹرمپ نے کی ہے اور ان کے مشیروںنے تو حدہی کر دی کہ سی پیک ایک متنازعہ علاقے سے گزرتا ہے، ان مشیروں کا حافظہ سخت کمزور ہے، اسی متنازعہ علاقے کے دریائی پانی کی تقسیم کا معاہدہ ورلڈ بنک کی نگرانی میں طے پایا اور اسی ورلڈ بنک نے منگلا ڈیم کی تعمیر میں مدد کی جو اسی متنازعہ علاقے میں تعمیر ہوا ہے۔اور امریکہ کو یہ بھی علم ہے کہ اسی متنازعہ علاقے میں بھارت کی آٹھ لاکھ فوج علاقے کے باسیوں پر قیامت ڈھا رہی ہے،امریکہ یہ بھی جانتا ہے کہ بھارت نے اسی متنازعہ علاقے میں خاردار باڑ لگائی۔ اس وقت تو امریکہ نے بھارت پر کوئی اعتراض نہیں کیا کہ ایک متنازعہ علاقے میں تنصیبات کیوں قائم کر رہے ہو اورا سی متنازعہ علاقے میں بھارت نے درجنوں ڈیم تعمیر کر لئے ہیں اور ورلڈ بنک کی نگرانی میں طے پانے والے سندھ طاس منصوبے کی دھجیاں بکھیر دی ہیں، پاکستان کو اس کے حق سے محروم کیا جا چکا ہے جس سے ہماری زراعت، صنعت،کاروبار اور معاشرتی زندگی اندھیروں کی نذر ہو کر رہ گئی ہے۔ امریکہ کو یہ عالمی معاہدے ا ور تقاضے کیوں بھول گئے اور سی پیک پر اس کی نظریں کیوں اٹک گئیں۔
سی پیک کا روٹ آج نہیں بنا، یہ صدیوں سے عالمی تجارت کا راستہ ہے، کبھی اس پر اونٹ، خچر، گھوڑے اور گدھے چلتے تھے، اب ہیوی ٹرک اور ٹرالر کیونکہ چینی انجینئروں نے قربانیاں دے کر شاہراہ ریشم کو آل ویدر روڈ کی شکل دی ہے۔ امریکہ مان لے کہ وہ بھارت کے کہنے پر اعتراض برائے اعتراض اٹھا رہا ہے مگر اس کی سنے گا کون، اس لئے کہ سی پیک کے پیچھے ون بیلٹ ون روڈ کا دیو ہیکل منصوبہ ہے جس نے دنیا کے تین براعظموں کو باہمی تجارتی تعلقات میںمربوط کرنا ہے۔ بھارت خاطر جمع رکھے کہ وہ سی پیک پر امریکہ سے اعتراض کروا کر پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اس لئے کہ بھارت اور امریکہ کامقابلہ اب چین جیسی عالمی سپر پاور سے ہے جسے بھیگی بلی نہیں بنایا جاسکتا۔چین کے ساتھ بھارت اور امریکہ کی کھربوںکی تجارت ہے، کیا وہ ان فوائد سے کبھی محروم ہونا چاہے گا۔
امریکہ کو ایک لمحے کے لئے یہ سوچنا چاہئے کہ افغانستان اس کی یا نیٹو کی زر خرید زمین یا جاگیر تو ہے نہیں جہا ںبرسوں سے ان کی افواج ٹانگیں پسارے بیٹھی ہیں، یہ افغانوں کی سرزمین ہے، یہ ملک ایک آزاد، ہمہ مقتدر اور خودمختار علاقہ ہے، اس لئے امریکہ اور نیٹو کی افواج کو یہاں سے بستر بوریا سمیٹ کر واپسی کی راہ لینی چاہئے، وہ ایک متنازعہ ملک میں کیوںمورچہ بند ہے۔
اب آئیے دہشت گردی کی جنگ کا جائزہ لیتے ہیں جس پر بظاہر امریکہ اعتراض کر رہا ہے اور پاکستان سے ڈومور کا متقاضی ہے۔جتنی بڑی کامیابی پاکستان کو دہشت گردی کے خاتمے میں ملی ہے، باقی دنیا نے اس کا عشیر عشیر بھی نہیں کیا، امریکہ عراق سے بھاگا، شام میں پھنسا ہوا ہے اور افغانستان میں درجنوں ممالک کی افواج پندرہ برسوں میں اپنی رٹ قائم نہیں کر سکیں جبکہ پاکستان نے لال مسجد سے شروع ہو کر سوات، مالا کنڈ، فاٹا کی ایک ایک ایجنسی میں اپنا جھنڈا گاڑا ہے اور وہاں سول رٹ قائم کر دکھائی ہے۔ بلوچستان میں آج راوی ہر سو چین لکھتا ہے، کراچی میں ٹارگٹ کلنگ، بھتہ مافیا اور را کی مدد طلب کرنے والوں کو بے بس کر دیا گیا ہے۔ کہاں ملک میں روزانہ دہشت گردی کے درجنوں واقعات ہوتے تھے اور کہاں اب یہ سب کچھ قصہ پارینہ بنتا جا رہا ہے۔پاکستان اس حد تک اندرونی اور بیرونی خطرات سے محفوظ ہے کہ اب ہم نے آپس میں الجھنا شروع کر دیا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ہمیں لڑنے بھڑنے کے لئے کوئی مستقل ہدف چاہیئے، کہیں اور سے نہ ملے تو آپس کی سر پھٹول شروع ہو جاتی ہے۔ میری رائے میں ہمیں اس سے اجنتاب کرنا چاہیئے اور ملک اور قوم کے مشترکہ دشمنوں پر توجہ مرکوز رکھنی چاہئے۔
امریکہ ہمارے اسی اندرونی خلفشار کا فائدہ ا ٹھا رہا ہے۔ ہم یک جان ہوں گے تو اس کی کیا مجال کہ ہماری صفوںمیں کوئی نقب لگائے۔ قوم کو اپنے وزیراعظم کی ہاںمیں ہاںملانی چاہئے اور امریکہ کو باور کرانا چاہئے کہ پاکستان اس کا قریبی اسٹریٹجک ساتھی تھا، ہے اور رہے گا۔ وہ ہماری اہمیت سے آنکھیں بند نہ کرے، ویسے بھی یہ گلوبل دنیا ہے اور ہر کوئی دوسرے پر انحصار کر نے کے لئے مجبور ہے۔ امریکہ کو وارآن ٹیرر میں فتح پانی ہے تو اسے دل و جان سے پاکستان کا ساتھ دینا چاہئے۔اس کی دفاعی امداد سے ہاتھ نہیں رو کنا چاہئے، افغان جہاد میں یہ تجربہ امریکہ کر چکا ہے کہ اس نے مونگ پھلی کے برابر امداد کی پیش کش کی مگر پاکستان نے مٹھی بھر افغان مجاہد تنظموں کی مدد سے سوویت روس کو تتر بتر کر دیا۔پاکستان ا س صلاحیت سے خدانخواستہ محروم نہیں ہو گیا، اس کی جیو سٹریٹجک اور دفاعی افادیت سے انکار کر کے امریکہ کو ہزیمت کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا، اسے نوشتہ دیوار پڑھنے میں مشکل پیش نہیں آنی چاہئے۔
امریکہ سے عالی دماغ آ رہے ہیں کوئی وزیر خارجہ ہے، کوئی وزیر دفاع۔ انہیں تعصبات سے بالاتر ہو کر پاکستانی قیادت سے بات کرنا ہو گی۔