خبرنامہ

اوور سیز پاکستانیوں کا ووٹ، چیف جسٹس کا بڑا کارنامہ…اسد اللہ غالب

کوئٹہ چرچ

اوور سیز پاکستانیوں کا ووٹ، چیف جسٹس کا بڑا کارنامہ…اسد اللہ غالب

چیف جسٹس آف پاکستان نے خاموشی سے ایک کارنامہ انجام دیا ہے ، اگرچہ ڈیمز کی تعمیر کے لئے وہ انتہائی سرگرم کردار ادا کرر ہے ہیں اور ان کی اپیل کا رد عمل بھی حوصلہ افزا ہے۔ کسی چیف جسٹس کی ذمے داریوں میں ڈیم کی تعمیر شامل نہیں مگر وطن عزیز پانی کے سبگین بحران سے دوچا ر ہے اور پانی ایک بنیادی حق ہے جس کی وجہ سے چیف جسٹس نے اس ہمالیائی پراجیکٹ میں ہاتھ ڈال کر قوم کو اول تو جگانے کی کوشش کی ۔ دوسرے انہوں نے سیاستدانوں کو بھاشہ ا ور مہمند پر متحد بھی کیا۔ اس پر پی پی پی کے لیڈر فاروق نائیک نے تو کہا ہے کہ تاریخ چیف جسٹس کے احسان کو یاد رکھے گی۔ مگر اس سے بھی بڑا احسان چیف جسٹس نے قوم پر یہ کیا ہے کہ دیار غیر میں بسنے و الے پاکستانیوں کو ووٹنگ کے عمل میں شرکت کا موقع بہم پہنچایا اور وہ بھی ان کی دہلیز پر انہیں یہ سہولت فراہم کی گئی۔اووور سیز پاکستانی ملک کے لئے عظیم سرمایہ ہیں، وہ خون پسینہ ایک کر کے ملک کی خدمت میں مصروف ہیں ، ان کی ترسیلات سے قومی خزانے کو بڑی تقویت ملتی ہے اور ان کے خاندان الگ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل ہیں۔مگر کیا ظلم ہے کہ ان اوور سیز پاکستانیوں کو اپنے ملک کی حکومت اور قانون سازی کے عمل سے ستر برسوں سے محروم رکھا گیا۔ اگر ان میں سے کوئی وووٹ ڈالنا چاہتا تھا تو اسے چھٹیاں لے کر اور مہنگی ٹکٰٹیں خرید کر پاکستان آنا پرتا تھا۔مگر حالیہ ضمنی الیکشن میں اوور سیز پاکستانیوں نے پہلی باراپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ اس معرکے کی تفصیل بڑی دل چسپ ہے۔ پاکستان کا پہلا دستور تہتر میں بنا، یہ دستور اوور سیز پاکستانیوں کے حق رائے دہی کے بارے میں خاموش رہا، شاید اس وقت یہ مسئلہ تھا بھی نہیں۔ مجھے اسی اور نوے کے عشرے میں کئی بار بیرونی ملکوں خاص طور پر یورپ میں جانے کا مووقع ملا تو ان پاکستانیوں کاایک ہی سوال ہوتا تھا کہ انہیں ووٹ کا حق دیا جائے اور بیرون ملک کنسٹی چیونسیاں بنا کر انہیں چند نمایندے پارلیمنٹ میں بھیجنے کا موقع دیا جائے، ستم ظریفی یہ ہے کہ ملک کے بڑے بڑے سیاست دان، بیور وکریٹ بیرون ملک جاتے تھے ا ور ان لوگوں کی میزبانی سے لطف اندوز ہوتے تھے مگر ان کی آواز پر کان دھرنے کے لئے تیار نہ تھے۔ اوور سیز پاکستانی بے چارے چیختے رہے۔ چلاتے رہے۔ ان کی صدا بصحرا ثابت ہوتی رہی۔ با الآخر ترانوے میں ایک آئینی ترمیم کے ذریعے انہیں ووٹ کا حق تو دے دیا گیا مگر وہ ووٹ ڈالیں توکیسے۔ صرف ایک طریقہ تھا کہ وہ پاکستان آئیں اور یہاں اپنے پسندیدہ امید وار کو ووٹ ڈالیں۔ اوور سیز پاکستانیوں نے جد وجہد جاری رکھی ، حتی کہ ان کے مطالبے کا چیف جسٹس نے نوٹس لیا۔ اوور سیز پاکستانیوں نے بھی رٹ دائر کی ۔ تحریک انصاف کا ابھی منشور تھا کہ وہ ان لوگوں کو ای ووٹنگ کا حق دلوائے گی۔ چنانچہ عمران خان اور ڈاکٹر عارف علوی بھی اس مقدمے کے فریق بن گئے۔ چیف جسٹس نے انصاف سے کام لیتے ہوئے حکم جاری کیا کہ نادرا ای ووٹنگ کا ایک نظام تشکیل دے تاکہ اووردسیز پاکستانی اپنے گھر بیٹھے پاکستان کے الیکشن میں شرکت کر سکیں۔میری یہ رائے ڈھکی چھپی نہیں کہ نادرا کے پاس ٹیکنالوجی موجود ہے، ہنر مندی بھی موجودہے۔ یہ ادارہ بیس کروڑ پاکستانیوں کا بہت بڑا ڈیٹا پوری ذمے داری سے سنبھالے ہوئے ہے اور اس کی ٹیکنالوجی کا لوہا بیرنی ممالک بھی مانتے ہیں۔ نادرا کے موجودہ چئیر میں عثمان مبین تیئیس برس سے ایک دن کم کی عمر میں اس ادارے میں شامل ہوئے ا ور اپنی خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر اعلی تریں منصب پر فائز ہیں۔ ان کے ساتھ آئی ٹی کے ماہرین کی ایک بہترین ٹیم ہے، نادرا نے ای ووٹنگ کا نظام بنا دیا مگر چیف جسٹس نے اپنے اطمینان کے لئے اس کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کروانے کا فیصلہ کیا تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ کہیں وقت آنے پر یہ نظام دھوکہ تو نہیں دے جائے گا۔ ڈاکٹر عمر سیف اور دیگر ممتاز آئی ٹی کے ماہرین نے نادرا کے نظام کی جانچ پڑتا ل کی اور اسے کئی ٹیسٹوں سے گزار کر چیف جسٹس کو او کے کی رپورٹ پیش کی۔ پھر بھی چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے تو اس نظام کو پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر ٹیسٹ کیا جائے، یہ ٹیسٹ حالیہ ضمنی الیکشن میں کیا گیا۔ اوور سیز پاکستانیوں سے کہا گیا کہ وہ ا پنےآپ کو ایک سافٹ ویئر کے ذریعے ووٹر کے طور پر رجسٹر کریں۔ چونکہ ضمنی الیکشن میں سیاسی پارٹیوں کا وہ جوش و خروش نہیں ہوتا جو عام انتخابات میں ہوتا ہے تو بڑی مشکل سے سات ہزار کے قریب لوگوں نے اپنے آپ کو رجسٹر کروایا اور ان میں سے چھ ہزار ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ ووٹنگ کی یہ شرح اسی فی صد سے زائد بنتی ہے۔ میں نے کل کے کالم میں لکھا تھا کہ اس سرور پر دس ہزار کے قریب ہیکروں کا حملہ ہوا۔ یہ بات میڈیا میں آئی مگر اب میری تحقیق ہے کہ یہ نظام مکمل طور پرہیکر پروف ہے اور ضمنی الیکشن میں کسی ہیکر نے ایک بھی حملہ نہیں کیا، پھر بھی سرور کی نگرانی کے لئے نادرا کے ماہرین کی ایک ٹیم الیکشن کمشن کے دفتر میں موجود رہی۔ اس تجربے پر چیف جسٹس بھی مطمئن ہیں اور حکومت وقت بھی دعوی کرتی ہے کہ اس نے اپنے منشور کا یک بڑا وعدہ پورا کر دیا۔
قومی تاریخ میں یہ ایک بڑا کارنامہ ہے۔ اس سے پاکستان آئی ٹی کے ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ کندھے سے کندھا ملائے کھڑا نظر آتا ہے۔ اقبال نے کہا تھا ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی۔ ہماری قوم جو قابل سے مالا مال ہے۔ کیا یہ ڈاکٹر عبدالقدیر نہیں تھے جنہوں نے ملک کو خطے میں ناقابل تسخیر بنا دیا ہے۔ امریکہ کے ہسپتالوں سے لے کر آئی ٹی کی بڑی کمپنیوں تک ہمارے پاکستانی اپنے کمالات دکھا رہے ہیں۔ ٹھیک ہے امریکہ چاند پر پہنچا مگر چاند سے لائے گئے ٹکڑوں پر تحقیات کرنے والے والوں میں ڈاکٹر سعید اختر درانی ناسا کی ٹیم میں شامل نہ تھے۔ وہ ماہر اقبالیات بھی یں۔ پاکستان کے طو ل و عرض میں خیراتی ادارے چل رہے ہیں ، ان میں سے اکثر بیرون ملک پاکستانیوں کی فراخدلانہ امداد کے مرہون منت ہیں ۔ آج ہم نے انہیں ایک حق دیا ہے تو وہ اس کے لئے محترم چیف جسٹس آف پاکستان کے شکر گزار ہیں۔ پی ٹی آئی کے بھی شکر گزار ہیں ۔ نادرا کے ماہرین لائق تحسین ہیں کہ جنہوں نے ایک سسٹم بنایا اور اسے چلاکر دکھایا،۔ میں تو اس قت کا منتظر ہوں جب امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرح ہمارے اپنے ملک میں ای ووٹنگ کا نظام آ جائے گا۔ اس نظام کے آ جانے سے دھاندلی ا ور فرڈ کے الزامات کی کوئی گنجائش نہیں رہے گی۔ اس نظام کی وجہ سے ہم کلی طور پر شفاف الیکشن کروانے کے قابل ہو جائیں گے اور دھاندلی دھاندلی کی گردان ختم ہو جائے گی۔ میں بائیس برس سے ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ ہوا۔ اگرچہ پیشہ میرا صحافت ہے مگر میں اپنے ٹیکنالوجی کے تجربے کے پیش نظرکہہ سکتا ہوں کہ نادار سے ای ووٹنگ کا نظام بنانے کو کہا جائے تو یہ کوئی ناممکن کام نہیں ہو گا مگرا س کو استعمال میں لانے کے لئے ہمیں سو فیصد شرح خواندگی لانا ہو گی کیونکہ ووٹوں کی مشینی پنجنگ کا کام ایک دیہاتی ان پڑھ مرد یا عورت یا نوجوان تو نہیں کر سکتا۔ اس نظام سے بہرہ مند ہونے کے لئے ہمیں تعلیم کے شعبے وکوبھی متحرک اور سرگرم کرنا ہو گا۔