خبرنامہ

ایک صفحہ، ایک کتاب، قابل قدر بات….اسداللہ غالب

کوئٹہ چرچ

جی ایچ کیو میں وزیر اعظم عمران خان اپنی حکومتی ٹیم کے ہمراہ بریفنگ کے لئے گئے۔ یہ سلسلہ آٹھ گھنٹے تک چلتا رہا۔ بریفنگ کے اختتام پر وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ حکومت اور فوج ایک صفحے اور ایک کتاب پر ہیں۔یہ سن کر پاکستانی عوام نے سکون کا سانس لیا ۔ وہ اکہتر بر س سے فوج اور سول اتھارتی میں تصادم کی وجہ سے سنگین نتائج بھگت رہے تھے۔
میں واقعات کا سلسلہ پیچھے کی طرف لے کر چلتا ہوں۔ پچھلی حکومت میں میاںنواز شریف نے فوج سے محاذ آرائی کی انتہا کر دی تھی، ڈان لیکس اس کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ نواز شریف کی نااہلی ہوئی تو کہا گیا کہ جج اور جرنیل مل کر فیصلے کرتے ہیں۔الیکشن مہم شروع ہوئی تو پھبتی کسی گئی کہ عمران خاں سے لاڈلے کا سا سلوک کیا جارہا ہے اور کوئی خلائی مخلوق اس کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ ڈان لیکس کے مسئلے پر طرفین میں شدید بیان بازی ہوئی۔وزیر اطلاعات پرویز رشید اور پی آئی او راﺅ تحسین علی خان کو فارغ کیا گیا۔ بعد میںمشیر خارجہ طارق فاطمی کا گلا بھی گھونٹ دیاگیا۔نواز شریف کے پورے دور میں شہباز شریف ا ور چودھری نثار تو جی ایچ کیو میں چھپ چھپا کر جاتے رہے اور آرمی چیف سے ملاقاتیں کرتے رہے جس پر نواز شریف نے اظہار ناپسندیدگی کیا اور کہا کہ ا گر انہوں نے ملنا ہی ہے تو دن کی روشنی میں جائیں۔ نواز شریف نے اپنے دور حکومت میں دو آرمی چیفس کا تقرر کیا۔جنرل راحیل کی تقرری پر تو کوئی منفی بات نہیں ہوئی۔ سوائے اسکے کہ جنرل راحیل پہلی بار نواز شریف سے پی ایم ہاﺅس ملنے گئے تو کمرے میں ایک بنچ نما میز رکھی تھی جس پر سبز رنگ کا کپڑا بچھا تھا۔ سامنے نواز شریف اور دوسری طرف جنرل راحیل، اس انداز کی نشست تو کچہری میں کسی اوتھ کمشنر کی بھی نہیں ہوتی۔ بہر حال راحیل شریف نے اپنی اننگز شروع کی اور اپنے پیش رو جنرل کیانی کے فاٹا کے آپریشن کو آگے بڑھانے لگے تو حکومتی صفوں سے سخت مخالفت شروع ہو گئی اور یہ نعرہ لگایا گیا کہ دہشت گردوں سے مذاکرات کے ذریعے امن قائم کیا جائے گا۔ دنیا میں امن کے ا س فارمولے کو کہیں نہیں آزمایا گیا۔ آئر لینڈ کے باغیوں سے مذاکرات ہوئے۔ ویت نامی باغیوں سے مذاکرات ہوئے تو برسوں کی خونریز جنگ کے بعد۔ فتح مکہ میں بھی عام معافی کا اعلان ہو اتو بیس بائیس برس کے غزوات کے بعد۔بہر حال مذکرات کا نتیجہ تو یہ نکلا کہ دہشت گردوںنے آرمی پبلک اسکول کے ڈیڑھ سو پھول جیسے بچوں کو بے دردی سے شہید کر دیا۔ اس کے بعدپوری قوم دہشت گردوں کے خلاف متحد تو ہو گئی۔ایک اعلامئے پر بھی سبھی نے دستخط کر دیئے مگر کسی صوبے نے اس پر عمل نہ کیا۔ بس فوج اور رینجرز جو مارا ماری کر سکتے تھے، تن تنہا کرتے رہے۔پنجاب نے تو رینجرز کو صوبے میں داخل ہی نہ ہونے دیا اور سندھ میں جہاں رینجرز ابتدائی طور پر چلے گئے تھے ، وہاں ان کے قیام میںتوسیع کے لئے پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت بار بار نخرے کرتی حالانکہ رینجرز کے آپریشن کا پھل بھی ا سکی جھولی میں گر ا تھا۔
ترکی میں ایک فوجی بغاوت ہوئی جس پر اردوان نے قابو پا لیا۔پتہ نہیں یہ بغاوت فرو کرنے پرترک عوام نے کسی خوشی کاا ظہار کیا یا نہیں لیکن نواز شریف، شہباز شریف نے مبارک بادوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کر دیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان میں بھی اگر فوج نے منتخب حکومت کو ہٹانے کی کوشش کی تو ا سکا مقابلہ عوامی طاقت سے کیا جائے گا۔ ن لیگ کے منشی منقے آپے سے باہر ہور ہے تھے، ان کے کالم شعلے اگل رہے تھے اور اس عزم کا اظہار کر رہے تھے کہ پاکستان کے عوام بھی فوجی بغاوت کی صورت میں ترک عوام کی طرح گھروں سے نکل کر باغی فوجیوں کا حلیہ بگاڑ دیں گے۔
اسی ماحول میں پانامہ انکشافات سامنے آئے جن میں شریف خاندان کو کرپشن اور منی لانڈرنگ کے لئے مورد الزام ٹھہرایا گیا تھا۔ اس الزام میں نواز شریف کو نااہل کیا گیا تو ان کے عقاب صفت مشیروںنے انہیں جی ٹی روڈ کا رخ کرنے پر اکسایا ۔اس جلوس میں نواز شریف نے بار بار سوال کیا کہ مجھے کیوں نکالا۔ ان کی بیٹی مریم کہہ رہی تھیں کہ روک سکو تو روک لو نواز شریف آ رہا ہے مگر نوا ز شریف اڈیالہ جیل جا پہنچے اور مزاحمت کے سارے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔
جنرل راحیل ریٹائر ہوئے تو نئے چیف کی تقرری کے لے قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔ حکمران اتحاد کے ایک حلیف اور جماعت اہل حدیث کے اپنے گروپ کے راہنما سینیٹرمولانا ساجد میر نے ایک وڈیو سوشل میڈیا پر پھینکی جس میں الزام لگایا گیا کہ چیف بننے کی دوڑ میں شامل جنرل قمر جاوید باجوہ قادیانی ہیں۔اپنی افواج کے ممکنہ سربراہ کے بارے میں یہ الزام کیوں عائد کیا گیا۔ ایک مسلمان کو اس سے بری گالی ا ور نہیں دی جا سکتی مگر قمر باجوہ نے صبر اور حوصلے سے یہ الزام سنا اور برداشت کیا ۔
آرمی چیف قمر باجوہ کی عزت افزائی میں کوئی کمی رہ گئی تھی تو انہیں سینیٹ میں طلب کیا گیا جہاں ان سے ہر وہ الٹا سیدھا سوال کیا گیا جو انتہائی نازیبا تھا۔یہ اجلاس خفیہ تھا مگر حکمرنوں نے ا سکی ایک ایک تفصیل افشا کر دی۔ جس سے چیف کی کھلی توہین کا تاثر ملتا تھا۔آرمی چیف یہ وار بھی حوصلے سے سہہ گئے۔
زرداری دور میںکوئی لمحہ ایسانہیں گزرا جب حکومت نے فوج کے خلاف موچہ نہ لگایا ہو۔ میمو گیٹ اس کی انتہا تھی اور کیری لوگر بل آیا تو اس محاذ آرائی کی بھر پور نیٹ پریکٹس کی گئی۔پیپلز پارٹی کو بھٹو کی پھانسی نہیں بھولتی۔ یہ اقدام جنرل ضیا لحق نے کیا مگر پیپلز پارٹی اس کے لئے ہر خاکی وردی والے کو مطعون کرتی ہے۔ لڑائی اس قدر بڑھی کہ صدر زرداری کو چند روز کے لئے علاج کے بہانے دوبئی فرار ہونا پڑا۔میمو گیٹ کا بھوت آج بھی قوم کے سر پہ سوار ہے اور عدالتیں حکم دے رہی ہیں کہ حسین حقانی کو امریکہ سے واپس لایا جائے۔
زرداری کا ایک مشہور مقولہ یا طعنہ یہ بھی تھا کہ تم تین سال کے لئے آتے ہو، ہم نے سدا سیاست کرنی ہے۔
پچاسی سے ننانوے تک کا عرصہ سول ملٹری تصادم کا کلائمیکس تھا۔ نواز شریف کو جنرل جیلانی لائے مگر سینیٹر طارق چودھری کے ذریعے مطالبہ داغا گیا کہ جنرل جیلانی کو فارغ کیا جائے۔ اگلے کچھ عرصے کے لئے یوں لگا کہ نواز شریف اور فوج ایک صفحے پر ہیں مگر پیپلز پارٹی ا س دور میںمغضوب رہی۔ اسے سیکورٹی رسک کہا گیا۔ اعتزاز احسن پر الزام تھا کہ انہوںے خالصتانی لیڈروں کی لسٹیں بھارت کے حوالے کیں۔ نواز شریف کے لئے آئی جے آئی بنائی گئی۔خفیہ خزانے سے اسے بھاری رقوم فراہم کی گئیں مگر یہی نواز شریف حکومت میں آئے تو نہ ان کی جنرل کاکڑ سے بنی۔ نہ جنرل آصف نواز سے بنی۔ انہیں ذہنی تناﺅ کا شکار کیا گیا جس کی وجہ سے وہ چل بسے۔ جنرل جہانگیر کرامت نے صرف سیکورٹی کونسل کی تشکیل کی تجویز دی تو ان سے استعفی لے لیا گیا۔ اس دوران ن لیگ صدر لغاری کو فارغ کرنے اور ایک چیف جسٹس کو ہضم کرنے میںکامیاب رہی۔ اسی نشے میں نواز شریف نے اپنے آرمی چیف جنرل مشرف کو اس وقت برطرف کر دیا جب وہ ملک سے باہر تھے۔ ایک نیا آرمی چیف فائز کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی۔ فوج نے بحیثیت ادارہ فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ نواز شریف کی من مانی نہیں چلنے دے گی ۔ چنانچہ جنرل مشرف اور ان کے فوجی ساتھیوں نے مارشل لا نافذ کر دیا اور نواز شریف سیف ہاﺅس اور اٹک قلعے کی نذر ہوئے ۔پھر جلا وطن۔
یہ قومی تاریخ کا سیاہ باب ہے۔ ستتر سے اب اٹھارہ تک کے پچاس برسوں میں نہ کوئی کتاب تھی، نہ اس کے صفحات کہیں نظر آتے تھے،اب اگر ایک صفحہ اور ایک کتاب کا تاثر سامنے آیا ہے تواس سے مبارک بات اور کیا ہو سکتی ہے، دعا ہے کہ یہ کیفیت برقرار رہے اور فوج تو کجا، یہ حکومت پٹوایوں ، کلرکوں،اور میڈیا والوں کے ساتھ بھی کندھے سے کندھا ملا کر چلے۔
شیئر کریں: