خبرنامہ

بحالی معیشت کے نئے افق…اسد اللہ غالب

کوئٹہ چرچ

بحالی معیشت کے نئے افق…اسد اللہ غالب

کسی بھی ملک کے مالیاتی اور معاشی تجزیئے کے لئے عالمی ادارے موڈیز کی رپورٹیں اہمیت اور ریفرنس کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ ادارہ جو پاکستان کے بارے میں کرونا کے دوران منفی اثرات بیان کرر ہا تھا اسی نے اب جو رپورٹ شائع کی ہے اس میں پاکستان کو کامیاب ملکوں کی فہرست میں شامل کیا ہے جس نے کرنٹ اکاؤنٹ یعنی تجارتی خسارہ بڑی حد تک قابو پا لیا ہے۔ سٹاک ایکسچینج میں بتالیس فیصد اضافہ ہواجوستائیس ہزار پوائنٹس سے بڑھ کر اٹھتیس ہزار تک پہنچ گئی۔ اسی طرح آٹو موبائل سیکٹر کو کورونا کے پہلے ماہ میں انتہائی خراب حالات کا سامنا تھا اور اپریل میں ایک بھی گاڑی فروخت نہیں ہوئی تھی جبکہ جون میں آٹھ ہزار نو سو نوے گاڑیاں فروخت ہوئیں جو حکومتی پالیسی پر اعتماد کی مظہر ہے۔اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق چھ سو تیس ارب روپے کے قرضے موخر ہوئے۔چوبیس جولائی سے اب تک ایک سو اٹھاون ارب روپے کے قرضے ری سٹرکچر کئے گئے ہیں۔اس طرح کے کئی دیگر اقدامات کئے گئے جن کی وجہ سے بینکنگ کا شعبہ جو پچیس مارچ کے وقت کورونا سے متاثر تھا اس میں آج تیس فیصد تک بہتری آ چکی ہے۔برآمدات میں اضافے کے لئے بھی کئی اقدامات کئے گئے جن میں بجلی اور گیس کے لئے سبسڈی شامل تھی۔اور کمرشل میٹرز میں گزشتہ برس کے پیش نظر تین ماہ کی اوسط ا دائیگی حکومت نے اپنی طرف سے پیسے جمع کرا دیئے ہیں۔ بر آمدات کے لئے دو سوارب روپے قرضوں کی مد میں رکھے گئے۔جن کی وجہ سے مئی میں برآمدات جو کورونا کی وجہ سے کم ہو کر ایک اشاریہ دوارب ڈالر پر آ گئی تھیں‘ جون میں بڑھ کر ایک اشاریہ اٹھاون ارب ڈالر ہو گئیں۔اسی طرح ٹیکسٹائل سیکٹر کی کارکردگی بھی دوبارہ بہتر ہو رہی ہے اور دوبارہ بڑی تعداد میں آرڈرز موصول ہو رہے ہیں۔
سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین کا منصب جنرل عاصم سلیم باجوہ نے سنبھالا اس کے بعد ترقیاتی پراجیکٹس کی رفتا تیز تر ہوگئی۔ وزیر اعظم عمران خان نے بھاشا ڈیم کا خود افتتاح کیا، جو سات آٹھ برس میں دس لاکھ ٹن سیمنٹ کی طلب پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ملک میں بجلی کی پیدا وار کے لئے انیس پراجیکٹ میں سے بارہ مکمل ہو چکے ہیں جبکہ باقی سات پر تیزی سے کام جاری ہے اور پانچ نئے پراجیکٹ بھی شروع کئے گئے ہیں جن کشمیر میں کوہالہ اور آزاد پتن ہائیڈرو پاور میں پانی سے بجلی پیدا کرنے کے دو منصوبوں پر معاہدہ طے پایا ہے جس پر تقریباًچارارب ڈالر سرمایہ کاری ہو گی جبکہ ایم ایل ون پر بھی کام عنقریب شروع ہو جائیگا۔ گزشتہ حکومت نے ونڈ پاور کے پراجیکٹ ادھورے چھوڑ دیئے تھے ان میں سے سات کو نئے سرے سے شروع کیا گیا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کی لاگت بھی کم ہے اور فی یونٹ بل بھی پچھلے ونڈ منصوبوں سے آدھا رہ گیا ہے۔ اسی کے ساتھ ہی سی پیک کے باقی منصوبوں پر بھی تیزی سے کام جاری ہے خاص طور پر مغربی روٹ اور مشرقی روٹ کے نا مکمل حصوں کو مکمل کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعظم اب فل فارم میں ہیں اور جو ہنر کرکٹ کے میدان میں دکھاتے ہیں اب اسی پر اتر آئے ہیں۔ انہوں نے لاہور میں دریائے راوی کی بحالی کے لئے پانچ ہزار ارب کا ایک منصوبہ شروع کیا ہے۔ اس کے لئے الگ ادارہ تشکیل دے دیا گیا ہے جو لاہور کے گندے پانی کے نالوں اور برسات کے پانی کو صاف کر کے راوی کے بیڈ میں ڈالے گا اور اس کی وجہ سے لاہور شہر میں پانی کی سطح اوپر آ جائے گی اب اور لوگوں کو غلیظ پانی پینے اور ہیپاٹائٹس کا شکار ہونے سے محفوظ ہونے کا موقع ملے گا۔ وزیر اعظم نے میگا شہروں کے لئے بھی نیا ویژن دیا ہے کہ شہروں کو پھیلنے کی پالیسی ختم کی جائے گی ا ور نئے شہروں میں بلند عمارتوں کی تعمیر کے رجحان کی حوصلہ افزائی کی جائے گی تاکہ پانی بجلی گیس اور سیوریج کی سہولتوں پر کم لاگت سے کام چل جائے۔
ملک میں شفافیت کے وعدے کی تکمیل کے عزم کو وزیرا عظم نے پھر دہرایا ہے وہ پہلے بھی مافیاز کا ذکر کر چکے ہیں جو ان کے اصلاحاتی ایجنڈے کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں اور ہر قانون کی منظوری کے لیے این آر او مانگنے لگ جاتے ہیں بہر حال حال وزیر اعظم کہتے ہیں کہ میں کسی کی بلیک میلنگ کا شکار نہیں ہوں گا اور جن لوگوں نے ملک کا پیسہ لوٹا ہے ان سے واپس لے کر چھوڑوں گا یا وہ خود رضا کارانہ طور پر یہ پیسہ واپس لے آئیں، یہ اتنی بڑی رقم ہے کہ اس سے ماضی کا سارا قرضہ بھی اتر سکتا ہے اور اگلی کسی حکومت کو قرضہ لینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ بیرونی قرضہ بڑی کڑی شرائط پر ملتا ہے اور اس کا سارا بوجھ براہ راست عوام پر لاد دیا جاتا ہے جو پہلے ہی بلبلا رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے احتساب کا جو عمل شروع کر رکھا ہے اسی سے ہی معاشی اور مالیاتی شعبے میں حقیقی بہتری آسکتی ہے، اس احتسابی عمل نے عوام کو کم از کم یہ سکون تو بخشا ہے کہ چوروں اور ڈاکوؤ ں کے گرد دائرہ تنگ کردیا گیا ہے اور حکومت معاشی بحالی کے لیے جس اعتماد سے اقدامات کر رہی ہے اس نے رواں سال کے پہلے آٹھ ماہ میں مثبت نتائج ظاہر کیے ہیں۔آج معیشت نہ آئی سی یو میں ہے نہ وینٹی لیٹر پر ہے نہ قرض دینے والے ملکوں اور اداروں کی محتاج ہے، یہ صورت حال ایک تابناک اور روشن مستقبل کی خبر دے رہی ہے، حکومت نے بھی سکھ کا سانس لیا ہے اور عوام کو بھی سکھ کا سانس دلانے کے لیے ہر وہ ضروری اقدام کیا جاچکا ہے جو باقی دنیا کرونا کے دوران نہیں کرپائی۔وزیر اعظم عمران خان اس کے لیے داد کے مستحق ہیں۔