خبرنامہ

تحریک انصاف کا مذاق ، ٹھٹھا اور مخولیہ رویہ….اسداللہ غالب

کوئٹہ چرچ

تحریک انصاف کا مذاق ، ٹھٹھا اور مخولیہ رویہ

تحریک انصاف کو پانچ سال ملے کہ وہ نگران حکومتوں کے لئے کوئی ڈھنگ کا نام سوچ لے۔ مگر اس پارٹی نے پانچ سال کی ٹرم سڑکوں پر جلسے جلوسوں اور دھرنوں میں گزار دی۔ اور وہ ناداں گر گئے سجدے میں جب وقت قیام آیا، عمران خان کو اس مصرعے کامطلب نہیں آتا، محمود الرشید اچھی طرح جانتے ہیں لیکن میں پہلے دن سے کہہ رہا ہوں کہ تحریک انصاف پنجاب پر جماعت اسلامی کا ایک باغی گروپ حاوی ہے،۔ وہ جماعت کے وفا دار نہ تھے تو تحریک انصاف سے کیسے وفا کرتے۔ میاںمحمودالرشید ایوان میں قائد حزب اختلاف کی مسند پر فرو کش ہوئے اور پنجاب کی صدارت کے عہدے پر اعجاز چودھری متمکن تھے۔نہ کسی علیم خان کی چلی اور نہ بہت ہی پیارے احسن رشید کی جو گھل گھل کر خالق حقیقی سے جا ملے۔اس شخص نے طویل عرصے تک پنجاب میں پارٹی کے تن مردہ میں جان ڈالے رکھی۔ مگر جب پارٹی پر برگ و بار آیا تو اڑا لی طوطیوں نے بلبلوں نے داستاںمیری کا منظر تھا۔پھر پنجاب کی پارٹی سیاست پر امپورٹد چودھری سرور حاوی ہوتے چلے گئے مگر جیساکہ میںنے عمران خان کو سیاست شروع کرنے سے پہلے مشورہ دیا تھا کہ وہ سیاسی پرندہ نہیں، ادھر منہ نہ مارے، اس نے کہا کہ میرا آئینی حق ہے ، آئین یا تو عمران خان کے لئے محترم ہے یا مولانا فضل ا لرحمن کے لئے مگر دونوں اس پر عمل کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔عمران تو دوہرے کردار کا مالک تھا ، وہ ایک صوبے کی حکومت بھی چلا رہا تھا اور الیکشن دھاندلی کے خلاف دھرنے پہ دھرنا بھی دے رہا تھا اور ساتھ ہی امپائر کی انگلی کی طر ف بھی دیکھ رہا تھا۔ اس نے پانچ سالہ ٹرم کے دوران پشاور میں شوکت خانم کا ہسپتال تعمیر کیا مگر کسی گاﺅں میں ایک ڈسپنسری بھی حکومتی انتظام میں کھڑی نہ کی، ایک پلاٹ اس نے ذاتی ہسپتال کے لئے کراچی کے ڈیفنس میں جنرل راحیل شریف سے اچک لیا۔ سب کچھ ذاتی مفاد کے لئے ، اس نے صوبے کی کسی کچی بستی میں ڈسپنسری بھی حکومتی سطح پر قائم کرنے میں دلچسپی نہ لی۔وہ بس حکومت کے مزے لوٹتا رہا ۔ پلاننگ کے قریب بھی نہ پھٹکا، اسکی پارٹی نے پنجاب اور خیبر پی کے میں نگرانوں کے نام دینے تھے، دنوں صوبے بے حکومتے چل رہے ہیں۔پنجاب میں ایک نام دیا اور اگلے سانس میں واپس لے لیا۔ اپنے وعدوں سے پھر جانے والی پارٹی پر کون اعتماد کرے گا ، جو کرے گا وہ پاکستان کی لٹیا ڈبونے میں تحریک انصاف کا ساجھی ہو گا۔ جو پارٹی اپنے فیصلے پر چوبیس گھنٹے قائم نہیں رہتی ، وہ عوام کے ساتھ کئے گئے وعدوں اور اقوام عالم کے ساتھ کئے گئے معاہدوں پرکیا قائم رہے گی۔ جب بہت لعن طعن سننی پڑی تو تحریک انصاف نے چند نام اور دے دیئے، ان ناموں کو سن کر ہر کسی کو گھن محسوس ہوئی کیونکہ ان اصحاب نے ہمیشہ دوسروں پر گند ا چھالا۔ تحریک انصاف تو لگتا ہے کہ نگران سسٹم کی تشکیل کے لئے سنجیدہ ہی نہیں تھی ورنہ وہ غلاظت سے لتھڑے نام کیوں پیش کرتی اور ان میں ایک نام اس شخص کا تھا جس نے نظریہ پاکستان ٹرسٹ کوایک پلاٹ دینے کے لئے خادم اعلی کے فیصلے پر عمل در آمدسے صاف انکار کر دیا، یہ شخص بڑا نصاف پسند کہلاتا ہے جس نے میرے مرشد مجید نظامی کی درخواست کو ٹھوکر ماری اورا سے وہ تین پلاٹ نظر نہیں آتے جو عمران خا ںنے شوکت خانم ہسپتال کے لئے اینٹھے۔ دوسری طرف میاں شہباز شریف کی طرف سے دئے گئے ناموں پر نظر ڈالئے، جسٹس ریٹائرڈ ثائر علی اور طارق سلیم ڈوگر کے ناموں کو چومنے کو جی چاہتا ہے،ثائر علی کی زندگی گورنمنٹ کالج لاہور، عدالت عالیہ پنجاب اور سپریم کورٹ تک ہر کسی کی نظر میں ہے ۔ طارق سلیم ڈوگر ایک دیاندار اورپروفیشنل پولیس افسر رہے ، کوئی بھی ان ناموں پر انگلی نہیں اٹھا سکتا مگر تحریک انصاف ان میں سے کسی کو تب قبول کرتی جب وہ اگلے سفر کو شروع کرنے کے حق میں ہوتی، اس نے تو تہیہ کر رکھا ہے کہ کوئی امپائر اسے حکومت دلوائے یا اوریا مقبول جان اور ایاز امیر کی شکل میں الیکشن کرائے بغیر انہیں پنجاب کی حکومت مل جائے۔
عمران خان کو پارلیمانی نظام سے کتنا عشق ہے۔ ا سکا اندازہ اس امر سے لگائیں کہ وہ کتنی بار پارلیمنٹ میں آیا، ایک بار دو بار یا تین بار، اس کی حاضری کو ایک انگلی کو پوروں پر گنا جا سکتا ہے۔ عمران خان نے لاہور کے جلسے میں پارلیمنٹ پر لعنت بھیجی، ایک بار نہیں دو بار بلکہ تین بار اور ابھی اس کا کلیجہ ٹھنڈا نہیں ہو پایا تھا،ا س نے کہا کہ لعنت معمولی لفظ ہے وہ اس سے برھ کر کچھ کہنا چاہتا تھا۔ کیا وہ پارلیمنٹ کو ماں بہن کی گالی دینا چاہتا تھا۔عمران خان کے طبقے میںاسے گالی نہیں سمجھا جاتا ، روز مرہ کی زبان کہا جاتا ہے۔ یہی زبان لکھنے اور بولنے والے دو اصحاب جلیلہ کے نام تحریک انصاف نے پنجاب کی نگران حکومت کے لئے پیش کئے، تحریک انصاف کو کوئی احساس نہیں تھا کہ نگران وزیر اعلی کے لئے نام پیش کرنا ہے،گند بکھیرنے والوں اور باسٹھ تریسٹھ کی دھجیاں بکھیرنے والوں کو تخت لاہور دان نہیں کرنا۔عمران خاں نے ان دو لکھاریوں اور اینکروں سے دوستی کا حق ادا نہیں کیا، ان سے دشمنی کمائی، ان کو گالیوں کا نشانہ بنوایا جیسے ایک نام پر اتفاق کر کے اپنے سوشل میڈیا پر اس کے خلاف واہی تباہی سے کام لیا ۔اور طوفان بد تمیزی کھڑا کیا۔
ساری دنیا کہتی ہے کہ الیکشن وقت پر ہوں ، مگر الیکشن وقت پر تب ہوں گے جب تحریک انصاف دو صوبوں میں کوئی حکومت بننے دے گی۔سندھ والوںنے بنا لی جہاں بہت پھڈے کا خدشہ تھا، مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی نے وفاق کی بنالی جو کسی معجزے سے کم نہیں، مگر تحریک انصاف یاتو الیکشن نہیں چاہتی اور ا سکے بغیر حکومت پر قابض ہونا چاہتی ہے۔ یہ خواہش تو نیٹوفورسز ہی پوری کر سکتی ہیں جو افغانستان کے حامد کرزئی کی طرح عمران خان پر بھی مہربان ہو جائیں ۔
عمران خان کے لئے اب بھی وقت ہے کہ سیاست چھوڑے، اسے مخول شغل کرنے کا شوق ہے ۔ اس کے لئے وہ نکاح کرتا رہے اور طلاقیں دیتا رہے، عورت ذات کے لئے اس سے بڑاٹھٹھہ اور مخول اور کیا ہو سکتا ہے ، عمران خان براہ کرم پاکستانی عوام کو اپنی منکوحہ خیال نہ کریں۔ اور ان سے ٹھٹھہ بند کریں۔ عوام اس کی سیاست سے بیزار ہیں ، وہ جان گئے ہیں کہ عمران خان سیاسی فیصلے کر ہی نہیں سکتا ، کر لے تو ان پر قائم نہیں رہ سکتا۔عمران خاں کی پارٹی کو الیکشن میں اپنی شرمناک شکست نظر آ رہی ہے، اسی لئے وہ حیلے بہانوں سے الیکشن کے التوا کے لئے کوشاں ہیں ، یقین نہ آئے تو خیبر پی کے کے سابق حکمران پرویز خٹک کا خط پڑھ لیں۔±اور اسے سند کے طور پر محفوظ کر لیں۔