خبرنامہ

جدید صحافت کا مارکو پولو…اسد اللہ غالب

کوئٹہ چرچ

جدید صحافت کا مارکو پولو…اسد اللہ غالب

یں نے کاروان علم کی تقریب کے حوالے سے جاوید چوہدری کے کردار کو سراہا۔ کئی روز بعد ان کا فون آیا تو میںنے ایک بار پھر ان کے انسانی ہمدردی کے عظیم الشان جذبوں کی ستائش کی۔ انہوںنے میری خیر خیریت پوچھی۔ وہ بہت دلگیر ہوئے۔ اپنے لئے اس قدر پریشان میںنے نیشنل بنک کے سربراہ سعید احمد کو دیکھا تھا۔ وہ تو پچاس برس سے میرے دکھ سکھ کے ساتھی ہیں۔ مگر جاوید چوہدری سے تعلق دفتری حد تک رہا اور وہ بھی بہت مختصر عرصے کے لئے۔ نوائے وقت میں ہم اکٹھے رہے، دو اور اخباروں میں بھی اکٹھے کام کرنے کا موقع ملا۔ ان سے شروع شروع میں انتہائی قربت تھی، وہ مجھے اپنے بڑے بچے کی طرح عزیز تھے جو اسی یونیورسٹی میں داخل ہوئے جہاں سے جاوید چوہدری فرسٹ کلاس فرسٹ کے اعزاز سے فارغ التحصیل ہوئے تھے۔ نوائے وقت میں وہ مین نیوز ڈیسک پر مصروف رہتے اور میں اداریہ نویسی کی گتھیوں میں الجھا رہتا۔ جاوید چوہدری کیوں کالم نویسی کی طرف آئے مگر جیسے ہی آئے، وہ یکبارگی چھا گئے، اس کی وجہ ان کی ندرت بیانی تھی۔
میں جاوید چوہدری پر تفصیل سے لکھنا چاہتاہوں اور چند دوسرے کالم نویسوں پر بھی لکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ یہ میرے ہم عصر ہیں۔ عبدالقادر حسن، منو بھائی بزرگ نسل سے تعلق رکھتے ہیں مگر ہمارا زمانہ ایک ہی ہے۔ اسی طرح جاوید چوہدری، سعید آسی، اجمل نیازی اور حامد میر بھی ہمارے ساتھی ہیں، چند برسوں کے فکر اور فرق سے زمانہ نہیں بدل جاتا۔ ان نوجوانوں کے سامنے بھی وہی موضوعات ہیں جو ہم بوڑھوں کے قلم کی توجہ بنتے ہیں۔فیصلہ قارئین کرتے ہیں کہ کس سے کیا ملا۔ میں ایک کالم نویس کے ساتھ ساتھ ایک قاری بھی ہوں۔ اس لئے میری بھی ایک رائے ہے جس کا میں اظہار ضروری سمجھتا ہوں، میں کوئی بات غلط لکھوں گا تو یہ نوجوان ہمارے درمیان موجود ہیں جو ریکارڈ کو درست کر سکتے ہیں۔ اور میرے تجزیئے اور میری رائے کی اصلاح کر سکتے ہیں۔
جاوید چوہدری کا ہر کالم مجھے چونکا دیتا ہے۔ یہ کالم ہیں یا الف لیلیٰ ہیں۔ ان کے پیچھے کسی شہر زاد کے تجربے کی جھلک ملتی ہے۔ ایک کہانی ہے جو اگلی کہانی سے الگ بھی ہے مگر جڑی ہوئی بھی ہے۔میں عباسی خلیفہ نہیں مگر مجھے اس الف لیلیٰ نے اپنے سحر میں جکڑ رکھا ہے۔ بعض اوقات مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ افلاطون، ارسطو، سقراط، بقراط ‘ نیتشے، روسو، برٹرینڈ رسل، ابن رشد، بوعلی سینا اور ابن خلدون کا سارا فلسفہ ان کہانیوں میں نگینوں کی طرح بڑی خوبصورتی اور سلاست کے ساتھ سمو دیا گیا ہے۔ میں آج کے بھارتی، جرمن، فرانسیسی برطانوی، امریکی یا جاپانی مصنفین کے نام ا س کالم کی تنگنائے میں درج نہیں کر سکتا جن سے جاوید چوہدری نے اکتساب فیض کیا ہے۔ جاوید چوہدری کی خوبی یہ ہے کہ وہ آج کے اردو کالم نویسوںمیں سب سے زیادہ صاحب مطالعہ کالم نویس ہیں۔ کوئی کتاب اس کی زد سے بچی نہیں رہ سکی اور ہر کتاب کا نچوڑ اور رس اس نے کسی نہ کسی کالم میں سجا کے رکھ دیا ہے۔ لکھنے کے لئے مشاہدہ ضروری ہے۔ ہمارے استاد اور انشائیہ پرداز سید مشکور حسین یاد فرمایا کرتے تھے کہ اگر کسی نے لاہور کی ویگن میں اکڑوں ہو کر سفر نہیں کیا تووہ اس کے مسافر کی بپتا کیسے لکھے گا۔ جاوید چوہدری نے بھی یہی نصیحت پلے باندھ لی اور وہ اپنے مشاہدے کو وسعت دینے کے لئے دنیا کے کسی نہ کسی کونے کی طرف نکل جاتا ہے، کبھی وہ قطب شمالی میں ٹھٹھر رہا ہوتا ہے تو کبھی قطب جنوبی کے برفزاروں میں منجمد ہو جاتا ہے۔ ایک بارپتہ نہیں اسے کیا سوجھی کہ وہ فجی جا پہنچا۔ مجھے فجی کا ایک صحافی ستندرا شادل انیس سو چھیاسی میں کوالالم پور کی ایک ماہ پر محیط ورکشاپ میں ملا تھا، وہ کہا کرتا تھا کہ اس کا ملک دنیا کے نقشے پر ایک نکتے کے برابر بھی نہیں۔ اس ملک سے جاوید چوہدری وہ لکیر دریافت کر لائے جو دن رات کا اور تاریخ کا تعین کرتی ہے۔ ایک قدم آگے پیچھے ہونے سے آپ ٹائم مشین میں گھوم جاتے ہیں۔ کبھی آگے اور کبھی پیچھے۔ آسٹریلیا کی غاروں سے اس نے نرالے سبق اخذ کئے۔ وہ دنیا کے عجائبات دیکھنے کے لئے کسی میوزیئم میں نہیں جاتا بلکہ بذات خود ان کے سر پہ جا کھڑا ہوتا ہے اور ان کو ایسے زاویئے سے دیکھتا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے، میںنے جاوید چوہدری کو جدید صحافت کا مارکو پولو لکھا ہے، تو غلط نہیں لکھا، میں اسے ابن بطوطہ بھی لکھ سکتا ہوں اور کولمبس بھی کہ اس نے جتنے سفر اکیلے نے کئے ہیں، ان سب نے مل کر بھی نہ کئے ہوں گے۔ وہ سفر کا رسیا کیوں ہے، شایدا س لئے کہ سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے مگر میںجانتا ہوں کہ جاوید چوہدری کو کسی مسافر نواز کی حاجت نہیں۔ وہ اپنے آپ کو خود نوازنے کی حیثیت کا مالک ہے۔
ہر انسان کی طرح جاوید چوہدری پر بھی برا وقت آیا ہو گا مگر میںنے اسے کبھی برے حالوں میںنہیں دیکھا، ایک بار میں پنڈی گیا تو اس نے فرمائش کی کہ میں اس کے گھر ضرور آﺅں، میں نہ، نہ کر سکا، مری روڈ پر ایک چھوٹی سی بستی میں ایک چھوٹا سا مکان تھا مگر انتہائی صاف ستھرا اور ہر چیز میں ایک قرینہ۔ اب تو جاوید چوہدری ایک بڑا آدی بھی ہے اور بڑے ہی گھر میں رہتا ہے، یہ سب ا سکی پانچ انگلیوں کی محنت کا حاصل ہے۔ اس نے ایک بار لالہ موسی مدعو کیا، یہ شادی کی تقریب تھی جو یادگار محفل بن گئی، تمام اہل صحافت، سیاست اور حکومت اکٹھے تھے، صدر رفیق تارڑ سمیت۔ میں بھی ایک بار اسے اور اجمل نیازی سمیت دیگر کالم نویسوں کو اپنے علاقے میں لے گیا، سرحدی لکیر کے عین اوپر جہاں ایک اونچا واچ ٹاور بھی نصب تھا، جاوید چوہدری اس پھرتی سے اس پر چڑھ گیا جیسے وہ ایکرو بیٹس کا ماہر ہو مگر میں جانتا ہوں کہ وہ سرحد کے پار دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر گھورنا چاہتا تھا۔
میرا اندازہ ہے کہ جاوید چوہدری کو زر اندوزی کی عادت نہیں، وہ جتنا کماتا ہے، خود پر خرچ لیتا ہے اور اس کی ہر ضرورت پوری ہو جائے تو وہ دوسرے ضرورت مندوں کی تلاش میں سر گرداں ہو جاتا ہے۔ کاروان علم تک شاید وہ اسی لگن کی وجہ سے پہنچا، اگر ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی نے اس کی تعریف کی کہ اس کی وجہ سے ذہین مگر نادار بچوں کو کروڑوں روپے ملے تو ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی کو جھوٹ بولنے کی عادت نہیں۔ منو بھائی نے ساری عمر سند س فاﺅنڈیشن کو جلا بخشنے میں گزار دی، جاوید چوہدری بھی منو بھائی کے قبیلے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس نے کاروان علم کی سرپرستی کی ہے تو اپنے بڑوں کے نقش قدم پر چلنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔
مگر میں کالم نویسی کے ذکر سے تو بھٹک ہی گیا، اگر میں انتہائی اختصار سے بھی کام لوں تو یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ جاوید چوہدری جیسا کالم نویس مجدد الف ثانی کی طرح ہزار سال میں ایک ہی ہوتا ہے۔پچھلے دنوں ضیا شاہد نے میرے بہترین کالم کے عنوان سے کتاب شائع کی۔ مجھے جاوید چوہدری کے بہترین کالموں کا انتخاب کرنے کوکہا جائے تو میں اس کے سارے کالم جلد در جلد شائع کر دوں۔ اس نے ہم بوڑھوں کو حیران ہی نہیں کیا بلکہ پچھاڑ کر رکھ دیا ہے۔ وہ کالم لکھنے سے محبت کرتا ہے اور محبت میں انسان ڈنڈی نہیں مار سکتا۔ چند سطریں گھسیٹ کر اسے کالم نہیں کہہ سکتا۔ ایک کالم نویس نے نوائے وقت میں برسوں کالم لکھے، ایک بار تھوڑا سا معاوضہ بڑھوا لیا تو میرے مرشد مجید نظامی نے انہیں پیغام بھجوایا کہ کچھ سطروں کا بھی اضافہ کر دو۔ مگر جاوید چوہدری کے سامنے سطریں قطار اندر قطار ہاتھ باندھے کھڑی ہوتی ہیں۔ وہ ایک ایک لفظ کے ساتھ یوں کھیلتا ہے جیسے مانجھی متلاطم لہروں کا سینہ چیرتا ہوا ساحل مراد کی طرف بڑے سکون کے ساتھ بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ آگے ہی آگے۔ اور آگے۔ سفر کی کوئی منزل نہیں ہوتی۔ جاوید چوہدری کے سفر جغرافیائی بھی ہیں اور علمی بھی۔ اس کے یہ سفر منزل کے حصول تک جاری رہیں گے اس کا یہ سفر نوائے وقت سے شروع ہوا تھا۔ (غالب نامہ سے ایک اقتباس)