خبرنامہ

جماعت اسلامی، انتخابی تجزیوں کا ایک سلسلہ….اسد اللہ غالب

کوئٹہ چرچ

جماعت اسلامی، انتخابی تجزیوں کا ایک سلسلہ….اسد اللہ غالب

ہر کٹھور دل سیاست دان اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ اس ملک میں اگر کوئی سیاسی پارٹی ہے تو اس کانام ہے جماعت اسلامی، اس کا ایک تنظیمی ڈھانچہ ہے۔ اوپر سے لے کر گراس روٹ لیول تک اس کی موجودگی نظر آتی ہے۔ یہی ایک جماعت ہے جس کے باقاعدہ انتخابات ہوتے ہیں، یہ ایک نظریاتی پارٹی بھی ہے، اور اس کی حب الوطنی پر بھی شک کی کوئی گنجائش نہیں، اس نے اکہتر میں پاکستان کی بقا کی جنگ لڑی اور اس جرم میں اس کے راہنما آج پچاس برس بعد بھی پھانسیاں پا رہے ہیں، یہی ایک پارٹی ہے جس کے پاس کارکنوں کی تربیت کے لئے تفسیر قرآن سے لے کر زندگی کے ہر شعبے کے لئے اسلامی نظریات سے بھرپور لڑیچر کا ذخیرہ ہے اورا س جماعت کے بانی مولانا سید مودودی عالمی سطح کے ایک جید سکالر شمار کئے جاتے ہیں، یہی ایک جماعت ہے جو تعلیم یافتہ نوجوانوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس نوجوانوں کا ایک لشکر ہے مگر یہ ایک ہجوم کی شکل میں ہے، نظریات سے بے بہرہ اور ہوش وخرد سے عاری۔
جماعت اسلامی اس الیکشن میں ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے مہم چلا رہی ہے۔ جماعت کے پاس کچھ تو مخصوص نشستیں ہیں، مگر جماعت ملک کے ہر حلقے میں ووٹ بنک کی مالک ہے، اس لئے الیکشن سے پہلے اگر کسی نے اسے نظرانداز کیا بھی ہے تو الیکشن کے بعد حکومت سازی کے مرحلے پر اس کی ضرورت بہرحال محسوس ہو گی۔ خاص طور پر کے پی کے اور بلوچستان میں اس کی مرضی چلے گی۔ جماعت اسلامی جہاں سے جیتنے کی پوزیشن میں نہیں ہو گی، وہاں وہ یقینی الیکٹ ایبل امیدوار کو ہرانے کا باعث بن سکتی ہے اور کسی دوسرے کی لاٹری نکل سکتی ہے۔ اس لئے ابھی وقت ہے کہ ملک کی دونوں بڑی پارٹیا ں یعنی ن لیگ اور پی پی پی جماعت اسلامی کے ساتھ انتخابی اتحاد بنانے کو تیار نہیں ہیں تو ابھی وقت ہے کہ وہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ یا ووٹ ایڈجسٹمنٹ کر کے اپنی یقینی سیٹیں بچا لیں۔ یہ ہر ایک کے علم میں ہے کہ دونوں بڑی سیاسی پارٹیاں جماعت اسلامی اور دیگر دینی جماعتوں سے الرجک کیوں ہیں، اس کی وجہ امریکی دبائو ہے کہ مذہب کو معاشرے میں سر نہ اٹھانے دیا جائے مگر جب ایسا مصنوعی طور پر کیا جاتاہے تو تحریک لبیک جیسا سونامی معاشرے کو گھیرے میں لے لیتا ہے، یہ یقینی امر ہے کہ جماعت اسلامی اور اس کی اتحادی مذہبی جماعتیں متشدد نہیں اور لبرل نقطہ نظر کی حامل ہیں، وہ طاقت اور
ڈنڈے پر یقین نہیں رکھتیں اور مشاورت سے چلنا چاہتی ہیں، مولانا مودودی میاں طفیل محمد، قاضی حسین احمد، منور حسن اور سراج الحق میں سے ہر کوئی معتدل مزاج کا مالک رہا ہے۔ کسی نے بھٹو یا بھاشانی کی طرح گھیرائو جلائو کا نعرہ نہیں لگایا، نہ ادھر ہم ادھر تم کا فلسفہ پیش کیا۔ نہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے والوں کی ٹانگیں توڑنے کی دھمکی دی اور نہ عمران یا شہاز شریف کی طرح کبھی یہ کہا کہ فلاں فلاں کو سڑکوں پر گھسیٹیں گے۔ اصغر خان کی طرح بھی یہ نہیں کہا کہ سامنے والے درخت پر بھٹو کو پھانسی دیں گے، بے نظیر کی طرح بھی نہیں کہا کہ اگر میں چاہتی تو لاہور چھائونی کو آگ لگوا سکتی تھی یا گورنر ہائوس لاہور پر قبضہ کر سکتی تھی۔ پی پی پی سیاسی قربانیوں کا
دعویٰ کرتی ہے تو جماعت اسلامی قربانیاں دینے میں پیچھے نہیں رہی، مولانا مودوی کو پھانسی کی سزا سنائی گئی، ان کے کارکنوں کو بھرے جلسوں میں شہید کیا گیا اور پلٹن میدان مین ان کا جلسہ مکتی باہنی کے غنڈوں نے اکھاڑ دیا تھا۔ جب تک حکومت پاکستان نے کشمیر جہاد کو دہشت گردی نہیں کہا تو تب تک جماعت کے نوجوان کشمیریوں کے شانہ بشانہ قربانیاں دیتے رہے اور جماعت کے اکابرین کے نوجوان تو کیا کم سن بچے وادی کشمیر میں شہید ہوئے، سید علی گیلانی جماعت اسلامی سے قربت کا رشتہ رکھتے ہیں اور کشمیر کو پاکستان بنانے کے لئے اس بڑھاپے میں قید و بند کی صعوبتیں سہہ رہے ہیں۔ جماعت کے پاس گورننس کا بھی تجربہ ہے۔ اس کے چار وزرا جنرل ضیا الحق کے ساتھ کام کرتے رہے جبکہ پروفیسر خورشید احمد ملکی معیشت کی پلاننگ میںمصروف رہے۔ دو ہزار دو کے الیکشنوں کے بعد ایم ایم اے نے صوبہ کے پی کے میں حکومت چلائی اور پانچ برس تک چلائی۔ پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر بھی وہ حکومت میں رہے۔
ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن کا ہے، کوئی اربوں کھربوں کی لوٹ کھسوٹ میں ملوث ہے، کوئی بنکوں کے قرضے ہڑپ کر چکا ہے اور کوئی محلے کی نالیوں کے ٹھیکے کے پیسے کھا چکا ہے مگر جماعت کرپشن کے قریب تک نہیں پھٹکی۔ یہ پاک صاف لوگ ہیں، باسٹھ تریسٹھ پر پورا اترنے والے پکے ا ور سچے صادق اور امین۔ باقی لیڈروں کو صاق اور امین ہونے کا ٹھپہ عدالت سے لگوانا پڑتا ہے، جماعت کے لئے عوام کے دل گواہی دیتے ہیں کہ یہ صادق اور امین ہے۔ خیانت نہیں کرتی، بد دیانتی نہیں کرتی۔ آج ملک کے ووٹروں کو انہی لوگوں کی تلاش ہے، جماعت نے ایم ایم اے کے ساتھ مل کر اپنے امیدوار میدان مں اتارے ہیں اور الیکشن جیتنے کے تصور کے ساتھ ان کے قائدین انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ مولانا ساجد میر اور مولانا فضل الرحمان وہ نابغہ روز گار شخصیتیں ہیں جو سراج الحق اور برادرم لیاقت بلوچ کے شانہ بشانہ ووٹروں کے دلوں پر دستک دے رہے ہیں۔ ایم ایم اے ایک بہت بڑی قوت ہے اور امیر العظیم جیسے نبض شناس اس عظیم گروپ کی میڈیا مہم کے مدارلمہام ہیں۔ میںنے ان سے پوچھا ہے کہ آپ لوگوںنے اللہ اکبر پارٹی کے ساتھ اتحاد کیوںنہیں کیا ان کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی ضرورت بھی محسوس کیوں نہ کی۔ جبکہ گزشتہ روز حامد میر سابق وزیراعظم نواز شریف کے حلقے میں گئے جہاں گندگی تھی، تعفن تھا ور گلیوں اور گھروںمیں پانی تھا تو کئی لوگوںنے حامد میر کے سوال کے جواب میں کہا کہ وہ اگلے الیکشن میں اللہ اکبر کے امیدواروں کو ووٹ دیں گے۔ اور اس وقت جب ہر طرف گندگی پھیلی ہوئی ہے۔
تواس تحریک کے کارکن محلوں میں پھیلے ہوئے ہیں اور گندگی صاف کرنے میں مصروف ہیں۔ انہوںنے یہ بھی کہا کہ وہ گلی محلے کے مسائل حل کرنے کے لئے کسی حکومت کی طرف نہیں دیکھتے بلکہ اس بات کے قائل ہیں کہ یہ مسائل محلے والوں نے اپنی سطح ہی پر حل کرنے ہیں۔ اس طرح کی ایک اہم ترین تحریک کو ایم ایم اے میں شامل نہ کرنا مذہبی جماعتوں کے لئے فائدہ مند ثابت نہیںہو گا۔ امیر العظیم نے وضاحت کی کہ وہ اللہ اکبر تحریک کو ہر پیش کش کرتے رہے ہیں مگر بات بنی نہیں، مستقبل میں کوئی بھی قابل عمل تجویز آئی تواس پر کسی ہچکچاہٹ کے بغیر عمل کیا جا سکے گا۔
جماعت اسلامی اور ایم ایم اے کی شکل میں پاکستان کی مذہبی جماعتوں کو ایک ٹیسٹ درپیش ہے۔ اس ٹیسٹ کا نتیجہ کیا نکلتا ہے مگر یہ بات طے ہے کہ آئندہ اس ملک میں اسلام کو پس پشت ڈال کر کوئی قانون سازی نہیں کی جا سکے گی، جماعت اسلامی اور ایم ایم ا ے کا مقصد محض حصول اقتدار نہیں بلکہ ملک کو اس کی نظریاتی بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔ اس مقصد میں یہ گروہ سو فیصد حد تک کامیاب نظر آتا ہے۔