خبرنامہ

شہباز کی اگلی پرواز….اسداللہ غالب

کوئٹہ چرچ

شہباز کی اگلی پرواز….اسداللہ غالب

شہباز شریف کے بارے میں میری یہ دیرینہ خواہش پوری ہو گئی ہے کہ وہ اس ملک کے وزیر اعظم بنیں اور چیف ایگزیکٹو کے اختیارات کے تحت ملک کو چلائیں، انہوںنے صوبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا کئی بار منوا یا، مگر اصل میں ان کی ضرورت پورے ملک اور ساری قوم کو ہے تاکہ وہ کھل کر باقی صوبوں کی بھی وہی خدمت بجا لائیں جو پنجاب میں نظر آ رہی ہے، عمران خان کا وزیر اعلی تو ان کی ایک بھونڈی نقل بھی نہیں اتار سکاا ور سندھ کی حکومت یہ راگ ہی الاپتی رہ گئی کہ کراچی سرکلر ریلوے کو سی پیک کا حصہ بنایا جائے ، ان تمام صوبائی حکومتوں کو معلوم ہوناچاہئے کہ شہباز شریف انشی ایٹو لینے والے انسان ہیں، لاہو کی اورنج ٹرین پر انہوں نے بہت پہلے سے کام شروع کر دیا تھا اور جب چینیوںنے دیکھا کہ کہیں یہ منصوبہ ان کے ہاتھ ہی سے نہ نکل جائے تو وہ ا سکی سرپرستی کے لئے آگے بڑھے۔کراچی والے تو انتظار کرتے ہیں کہ آسمان سے ہن برسے یا چھت پھٹے اور پیسوں کی بارش شروع ہو جائے تب وہ کسی منصوبے کی الف ب پر کام شروع کریں۔ میاں شہباز شریف معجزوں کاا نتظار نہیں کرتے، خود معجزے کر کے دکھاتے ہیں۔

میرا تو موقف تھا کہ جب وزیر اعظم نواز شریف کو ہٹایا گیا تو وقتی طور پر کسی اور کو وزیر اعظم بنا کر شہباز شریف کو حلقہ ایک سو بیس سے قومی اسمبلی کی نشست پر الیکشن لڑوایا جائے ا ور اسمبلی کا حلف لینے پر انہیں اگلے الیکشن اور اس کے بعد کی ٹرم کے لئے بھی وزیر اعظم بنا دیا جائے مگر وہ جو کہتے ہیں کہ رموز مملکت خویش خسرواں دانند، ایسا نہ ہو سکا اور شہباز شریف کو وفاق کا منصب سنبھالنے میں اب کئی ماہ کی تاخیر ہو جائے گی ۔مشرف دور میں جمالی کو ہٹا کر شولت عزیز کو وزیر اعظم لانے کے لئے درمیانی عرصے میں شجاعت حسین کو وزیر اعظم بنا دیاگیا تھا اور بعد میں اسمبلی کی ٹرم تک شولت عزیز ہی چلتے رہے ارو پھر ویسے ہی چلتے بنے۔
میں اس بحث میں نہیں الجھنا چاہتا کہ ایسا کیوںنہ ہو سکا اور اب یہ فیصلہ کیوں ہوا۔ میرے نزدیک پارٹی قیادت کے لئے جو موزوں ہے، وہی فیصلہ سب کے لئے قابل قبول ہونا چاہئے اور میںنے پچھلے چند دنوں میں محسوس کیا ہے کہ میاںنواز شریف کے اس فیصلے کو سبھی نے خوش دلی سے قبو ل کر لیا ہے کہ ملک کے اگلے وزیر اعظم شہباز شریف ہو ں گے۔
عملی طور پر آج تک صورت حال یہ تھی کہ اعلی قیادت تو نواز شریف ہی کے ہاتھ میں تھی، وہی تین بار وزیر اعظم بنے مگر جب پہلے پہل نواز شریف سن پچاسی میں اسمبلی کاا لیکشن لڑ رہے تھے تو لاہور کی کوپر روڈ پر واقع ان کے مرکزی انتخابی دفتر کا کنٹرول شہباز شریف کے ہاتھ میں تھا، اس کے بعد سے آج تک شہباز شریف ایک چھوٹے بھائی کی حیثیت سے مخلصانہ طور پر اپنے بڑے بھائی کا دست و بازو بنے رہے۔ منصوبوں کاافتتاح تو نواز شریف کرتے تھے، بظاہر ان کی نگرانی بھی انہی کے ہاتھ میں تھی مگر قوت محرکہ شہباز شریف ہی تھے جنہوںنے اپنے بڑے بھائی کی ہر قدم پر کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے دل و جان سے مخلصانہ طور پر ساتھ دیا۔
شہباز شریف چار مرتبہ وزیر اعلی بن چکے ہیںمگر آخری دور میں انہوں نے ڈارئیونگ سیٹ پر بیٹھ کر ملکی ترقی کے منصوبے بنائے ا ور ان کی تکمیل کے لئے وہ ہر لحظہ کوشاں رہے، وہ چینی قیادت اور سرمایہ کاروں کے پاس گئے، جرمن ہنر مندوں سے بھی انہی کا رابطہ رہا اور ترکی کے ساتھ مذاکرات میں بھی زمام کار انہی کے ہاتھ میں تھی۔
لاہور میں میٹرو کے پہلے منصوبے کی تکمیل نے سبھی کی آنکھیں چندھیا دیں۔ انہیں طعنہ ملا کہ وہ صرف لاہور کے وزیر اعلی ہیں تو انہوںنے پنڈی اسلام آباد اور ملتان میں میٹرو چلا کر دکھا دی۔پھر وہ لاہور کے اورنج ٹرین منصوبے میں جت گئے، کبھی ایسا نہیں ہو ا کہ دو ملکوں کے درمیان معاہدہ ہو تواس میں بڈنگ کی جائے مگر شہباز شریف نے چینیوں سے تقاضا کیا کہ وہ بڈنگ کے بغیر منصوبہ قبول نہیں کریں گے، ان کی ضد پر بڈنگ بھی ہو گئی مگر شہباز شریف کو پھر خیال آیا کہ قوم کے سر سے مزید بوجھ کم کیا جائے۔ چنانچہ اس کے لئے انہوںنے نئی فرمائش ڈال دی کی بڈنگ کی رقم میں کمی کی جائے، چینی حیران بھی تھے ا ور پریشان بھی کہ ا ول تو بڈنگ ہی نہیں ہونی چاہئے تھی مگر یہ ہو گئی تو مزید کمی کس وجہ سے ، شہباز شریف نے کہا کہ وہ اپنی قوم کے سرسے بوجھ کم کرنا چاہتے ہیں ، اسطرح کم ترین نرخوں پر چینیوںنے اس منصوبے میں سرمایہ کاری کی حامی بھر لی۔
ملک میںلوڈ شیڈنگ کے اندھیرے تھے۔ ان کو دور کرنا صوبائی حکومت کا کام نہ تھا، مگر شہباز شریف نے اپبے بھائی کا کام اپنے ذمے لے لیا اور نہ صرف صوبے کے اندر بجلی کے کئی منصوبے شروع کئے بلکہ تھرپارکر اور کراچی تک میں بجلی کی پیداوار کے بڑے منصوبوں کاا ٓغاز کیا، یہ منصوبے پھل پھول لا رہے ہیں ، ملک سے اندھیرے چھٹ گئے ہیں،لوڈ شیڈنگ کا نام ونشان تک مٹ گیا ہے اور اب حکومت چاہے تو بجلی کے نرخ کم کر کے ووٹروں کا دل جیت لے ا ور اگلی ٹرم بھی جیت لے۔
یہی ہے وہ اعتماد جس کے برتے پر نواز شریف نے شہباز شریف کو اگلے وزیر اعظم کے طور پر نامزد کیا ہے۔اے حسن انتخاب کہنا چاہئے، مسلم لیگ ن میں ان سے زیادہ تجربے اور صلاحیت کا کوئی اور شخص نہیں ، اس لئے یہ اعتراض نہیں بنتا کہ گھر کے ایک شخص کو نامزد کر دیا گیا۔ ویسے بھی تیسری دنیا میں خاندانی سیاست کا ہی رواج ہے، ہر سیاسی خاندان میں باپ ، بیٹا، بیوی، بیٹی،بہن سیاست میں ہیں اور بعض تو مختلف سیا سی پارٹیوںمیں سرگرم عمل ہیں، شہباز شریف تو ہمیشہ مسلم لیگ میں رہے اور یہی جماعت ان کاا وڑھنا بچھونا ہے۔
مختلف ممالک کی قیادت کے ساتھ شہباز شریف کے براہ راست تعلقات ہیں، وہ کئی عالمی زبانوں پر عبور رکھتے ہیں اور گھاٹ گھاٹ کا پانی پی چکے ہیں،وزیر اعظم کے طور پر وہ پاکستان کو انہی بلندیوں پر لے جائیں گے جہاں وہ پنجاب کو پہنچا چکے ہیں۔ میری د عا ہے کہ وہ کامیاب ہوں اور پاکستان کی زبوں حالی دور کریں، معاشی ناہمواریوں کو مٹائیں جو ان کے خیال میں خونی انقلاب کا باعث بن سکتی ہیں، میری ذاتی خوہش ہے کہ وہ پاکستان کو جدید ٹیکنالوجی سے بہرہ مند کریں اورا سے سلی کون ویلی اور بنگلور کی سطح تک لے جائیں، ان کی سوچ بلند ہے، ان کی ہمت بلند ہے اور ان کے