خبرنامہ

غیر ملکی جنگ کی بحث۔ وہ بھی غم زدہ لواحقین کے منہ پر…اسد اللہ غالب

کوئٹہ چرچ

غیر ملکی جنگ کی بحث۔ وہ بھی غم زدہ لواحقین کے منہ پر…اسد اللہ غالب

یوم دفاع اور یوم شہدا کی تقریب میں وزیر اعظم عمران خان کو مہمان خصوصی بنایا گیا۔ایک سوال ذہن میں آیا کہ کیا اس ملک کا کوئی صدر نہیں ہے۔ جواب بھی خود ہی ذہن میں آ گیا کہ جس کی تقریب ہو، اس کی مرضی جسے چاہے مہمان خصوصی بنائے۔مگر جی ایچ کیو کو یہ تو علم تھا کہ عمران خان وارا ٓن ٹیر کے خلاف ہے۔ وہ اس نظریئے کا کئی بارا ظہار کر چکا ہے۔ کسی شخص کو اپنا نظریہ رکھنے کا حق حاصل ہے ، یہ اس کا جمہوری حق ہے مگر کیا یہ بھی حق ہے کہ وہ اس کاا ظہار ایک ایسی فوج کی تقریب میں کرے جو وار آن ٹیرر کا حصہ رہی ہے اور جس نے اس جنگ میں بے مثال ا ور لازوال قربانیاں دی ہیں اور انہی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے اور قربانیاں دینے والوں کی ماﺅں، بیواﺅں، یتیموں اور دیگر رشتے داروںکو عزت و احترام دینے کے لئے تقریب منعقد کی جائے۔ چلئے مان لیتے ہیں کہ یہ جس ادارے کی تقریب تھی ،اس کا ذاتی مسئلہ ہے۔ مگر یہ پہلی بار ہو اکہ کسی وزیر اعظم کو اس تقریب میںمدعو کیا گیا۔ اور یہ بھی پہلی بار ہو اکہ ا س تقریب کے ا سٹیج سے حکومت کے استحکام کی دعا کی گئی،یہ بھی کوئی بری بات نہیں اچھی بات ہے کہ فوج جسے سول حکومت کا مخالف سمجھا جاتا ہے، وہ سول حکومت کی بلندی درجات کی دعا کر رہی ہے اور ایک منتخب وزیر اعظم کو اپنی ایک تقریب میںمدعو بھی کر رہی ہے۔ اسے گارڈ آف آنر بھی پیش کر رہی ہے ورنہ اسلم بیگ کے زمانے میںوزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹوکوجی ایچ کیو میں بلایا گیاتو میزبان جرنیل نے سر پہ ٹوپی نہیں پہنی تاکہ منتخب وزیرا عظم کو سیلوٹ نہ کرنا پڑے۔ واجپائی پاکستان آئے تو فوجی سربراہوںنے اس کااستقبال واہگہ بارڈر پر نہیں کیا بلکہ رات کے عشایئے میں شرکت کی،جس میں وہ سول کپڑوںمیں شریک ہوئے اور یوں دشمن ملک کے وزیر اعظم کو سیلوٹ کرنے کی زحمت سے بچ گئے۔ اب نیا پاکستان ہے ، بدلا ہوا پاکستان ہے وزیر اعظم کہتے ہیں کہ سول ا ور فوج میںکوئی کشمکش نہیں۔ وہ کہتے ہیں تو ٹھیک ہی کہتے ہوں گے اور ایسی کشمکش ہونی بھی نہیںچاہئے ،یہ ملک کے لئے زہر قاتل ہے۔مگر یہ جو اپنی جنگ اور بیرونی جنگ کا قصہ ہے، اگر تو فوج کا نظریہ بھی یہی ہے جو وزیر اعظم کا ہے تو ہم کون ہوتے ہیں نکتہ آفرینی کرنے والے لیکن اگر فوج نے اس تقریب میں شہدا کے لواحقین کو مدعو کر رکھا تھا تو لازمی بات ہے کہ فوج اس جنگ کو غیروں کی جنگ نہیں سمجھتی ۔ یہ غیروں کی جنگ ہوتی تو پھر ہم شہید کن کو کہیں گے اور شہیدوں کے لواحقین کسے کہیں گے۔اپنی جنگ اور بیرونی جنگ کی بحث نئی نہیں مگر اسے جی ایچ کیو میںجا کر اس طرح برملا کسی نے بیان نہیں کیا۔ کہنے کو پاکستان کی اکثر سیاسی جماعتوںنے اسے امریکی جنگ کہا ، پاکستان کی جنگ نہیں کہا،۔ ایک یوسف رضا گیلانی بے چارے تھے جو پہلی بار وائٹ ہاﺅس گئے تو انہوںنے اسے پاکستان کی جنگ کہا۔ اور دلیل یہ دی کہ اس جنگ میں ان کی پارٹی کی لیڈر محترمہ بے نظیر بھٹو کوشہید کیا گیا تھا۔ ایک زمانے میں فوج نے فاٹا میں چھپے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا قصد کیا تو ہر کوئی کہنے لگا کہ ان سے مذاکرات کرو ، جنگ نہ کرو۔ مذاکرات کے لئے کمیٹیاں بھی بن گئیں۔ ان کمیٹیوں کو ہیلی کاپٹر بھی دے دیئے گئے اور ان کی اڑانیں بھی دیکھنے میں آئیں مگر نہ مذاکرات ہوئے ، نہ امن قائم ہوا۔اسی اثناءمیںدہشت گردوں کے ایک لیڈر بیت اللہ محسود کو ڈرون نے مار دیا جس پر مذاکرات ختم ہوگئے۔ اسوقت کے وزیر داخلہ چودھری نثار نے گھنٹے بھر تک مرثیہ پڑھا اور ثابت کیا کہ اس لیڈر کو امریکہ نے جان بوجھ کر مارا ہے اور مذاکرات کوسبو تاژ کیا ہے۔ یہیں سے ایک بحث چھڑی ، کیونکہ کچھ لوگوںنے اس لیڈر کو شہید کہہ ڈالا۔ جماعت اسلامی کے امیر منور حسن نے کہا کہ امریکہ کی جنگ لڑتے ہوئے پاکستانی فوجی مرے گا تو اسے شہید نہیں سمجھیں گے۔ جی ایچ کیو اس بیان پر بڑا برافروختہ ہوا، آئی ایس پی آر کے ترجمان کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ جماعت ا سلامی اپنے امیر کے اس بیان کی مذمت کرے اور اس پر معافی مانگے۔ جماعت کی شوری کاا جلاس ہوا اور لیاقت بلوچ نے اس کے فیصلے کا اعلان کیا کہ جماعت اس بیان پر معافی مانگنے کے لئے تیار نہیںبلکہ وزیر اعظم کو شکائت کرے گی کہ فوج سیاست میں ملوث ہو رہی ہے۔ ابھی یہ بحث ختم نہیںہوئی تھی کہ مولانا فضل الرحمن نے فتوی جاری کر دیا کہ امریکی فوج کے خلاف لڑتے ہوئے کتا بھی مر جائے تو اسے شہید کہیں گے۔
ہماری تاریخ بہت خلط ملط کر دی گئی ہے مگر ا س تفصیل میں جانے سے قبل میں قوم کو یہ یاد دلانا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہم نے وار آن ٹیر کی جو جنگ لڑی ، اس کا فیصلہ بھی ہمارے ایک آرمی چیف جنرل پرویز مشرف ہی نے کیا، عمران خان ان دنوں اس کے ساتھی تھے ۔ اگرچہ ا سکے فیصلے پر ہر کوئی تنقید کرتا ہے مگر پرویز مشرف چلا گیا۔ زرداری آگیاا ور یہ جنگ پہلے سے تیز کر دی گئی۔ نواز شریف کے دور میں تو ضرب عضب کا فیصلہ بھی ایک آرمی چیف جنرل راحیل شریف ہی نے کیا اور یہ ریکارڈ کی بات ہے کہ ضرب عضب کی تائید تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوںنے کی، فوج سے ڈر کے کی ، منافقت میں کی یا دل سے کی۔ اس قومی تائید اور فوج کی قربانیوں کے صدقے ہم نے یہ جنگ جیتی۔اب یہ ایک عجیب تضاد ہے کہ ایک طرف وزیر اعظم عمران خاں نے یہ مانا کہ دنیا دہشت گردوں کے خلاف اس طرح جنگ نہیں جیت سکی جس طرح پاک فوج نے جیتی اور دوسری طرف وہ ا س جنگ کی مخالفت کا اظہار بھی کرتے ہیں تو ان دونوں میں سے ان کے کس موقف کو درست مانا جائے۔ یہ بھی پہلا واقعہ نہیں کہ پاک فوج ایک جنگ لڑ رہی ہو اور کوئی وزیر اعظم اس کی مخالفت کرے۔ نناوے میں فوج نے کارگل کی جنگ لڑی جس کی مخالفت وزیر اعظم نواز شریف نے کی۔ نواز شریف اور فوج کے درمیان اسی مسئلے پر ایک کشمکش شروع ہوئی جس میں نواز شریف کی حکومت ختم کر دی گئی اور ملک پر مارشل لا نافذ کر دیا گیا۔ کارگل کی حمایت کی سزا مجھے نواز حکومت نے بھی دی ا ور بھارتی حکومت نے بھی دی۔ نواز حکومت نے میرا گھٹنا توڑاا ور بھارت نے میری ویب سائٹ پر قبضہ کر لیا جسے میں تین روز کے اندر واپس لینے میں کامیاب ہو گیا۔ نواز شریف تیسری بار وزیر اعظم بنے تو انہوںنے اس بحث کو پھر زندہ کردیا۔ انہوںنے کہا کہ انہوں نے واجپائی کو بر صغیر
میں قیام امن کے لئے پاکستان مدعو کیا مگر جنرل مشرف نے کارگل کی جنگ شروع کر کے ان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا۔پاک فوج نے ملک کے اندر کئی آپریشن کئے ۔ ان میں بلوچستان کے ا ٓپریشنز کی مخالفت کی گئی۔ مشرقی پاکستان میں فوجی ا ٓپریشن ہوا تو اس پر بھی مختلف آرا سا منے ا ٓئیں ۔ بھٹو نے تو آپریشن شروع ہونے پر بیان دیا تھا کہ خدا کا شکر ہے پاکستان بچ گیا۔ جن لوگوںنے فوجی ا ٓپریشن میں ساتھ دیا ، انہیں بنگلہ دیش نے اب پھانسیاں دے دی ہیں۔ مگر آپریشن کی جن لوگوںنے مخالفت کی ، ان کو بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت نے تمغوں سے نواز۔ عاصمہ جہانگیر کو بھی تمغہ ملا وہ تو دنیا میں نہیں ہیں۔مگر اپنے والد وارث میرکے حصے کا تمغہ وصول کرنے والے حامد میر گزشتہ رات کی تقریب میں نمایاں طور پر نظر آئے۔میں اور پیچھے جاتا ہوں ، بھارت نے کشمیر پر قبضہ کیا۔ قائد اعظم نے فوج کو حکم دیا کہ وہ بھارت کے خلاف حرکت میں آئے مگر فوج کے سربراہ نے انکار کر دیا۔ اس پر ایک قبائلی لشکر نے کشمیر کو آزاد کرانے کے لئے جہاد شروع کیا تو جماعت ا سلامی کے امیر مولانا مودودی نے اس جہاد کی مخالفت کی۔ مگر یہی جماعت اسلامی ہے جس نے مشرقی پاکستان کے دفاع کی جنگ لڑی اور اس نے افغانستان میں سوویت روس کی افواج کے خلاف بھی جہاد کیا اور یہ اصرار نہیں کیا کہ یہ جنگ پاک فوج کو لڑنی چاہئے ۔ اصولی طور پر یہ جنگ پاک فوج ہی کو لڑنا چاہئے تھی ، اسے آﺅٹ سورس نہیں کرنا چاہئے تھا۔ مگر شاید اس نے اس لئے نہیں لڑی کہ سوویت افواج نے پا کستان پر جارحیت نہیں کی تھی۔اس جنگ میں امریکہ کھل کر پاکستان اور مجاہدین کی پشت پر کھڑا تھا اور یہ اس کاا یجنڈہ تھا کہ سوویت روس کو ملیا میٹ کر دیا جائے جس میں اسے کامیابی ہوئی۔ اس کامیابی کے بعد امریکہ نے مجاہدین اورپاکستان کو یکسر فراموش کر دیا۔ اور موجودہ وار آن ٹیرر بنیادی طور پر انہی افغان مجاہدین کے خلاف لڑی جا رہی ہے۔مگر کچھ کچھ گڈ مڈ بھی ہو گیا ہے ا ور اب مجاہدین اور دہشت گردوں میں تمیز نہیں کی جا رہی۔ عمران خان کا بھی المیہ یہی ہے۔دہشت گرد وہ ہیں جنہوںنے کامرہ پر دو بار حملے کئے اور ایواکس کو تباہ کیا۔ کراچی کے نیول بیس پر حملہ کیا اور اورین طیارہ تباہ کیا، یہ دونوں طیارے بھارت کو نقصان پہنچاتے ہیں ، کسی دہشت گرد کے خلاف استعمال نہیں کئے جا سکتے۔ اس کے علاوہ دہشت گردوںنے سوات کے چوکوںمیں لوگوں کے روزانہ گلے کاٹے، فاٹا میں پاک فوج کے جوانوں کو قیدی بنایا، ان کے گلے کاٹے اور ان کو فٹ بال کے طور پر استعمال کیا۔انہی دہشت گردوں نے بازاروں ، مزاروں، اسکولوں، جلسے،جلسوں، حتی کہ جنازوں کو بھی نشانہ بنایا ، اسکولوں کو نذر آتش کیا۔ابھی الیکش مہم کے
دوران صرف مستونگ میں پونے دو سو بے گناہوں کو شہید کیا۔ یہ تعداد آرمی پبلک اسکول کے شہدا سے زیادہ ہے۔ وزیر اعظم عمران خان اگر ان دہشت گردوں کے خلاف جنگ کے خلاف ہیں تو ان سے نجات کا کوئی متبادل فارمولہ بھی بتائیں اور اگر مستقبل کے بارے میں بھی انہوں نے جی ایچ کیو پر اپنی پالیسی مسلط کرنی ہے توپھر دہشت گردی کا نشانہ بننے والے مظلوم پاکستانیوں کو بتائیں کہ وہ کس فوج اور کس حکومت سے تحفظ مانگیں۔تعجب ہے کہ جی ایچ کیو میں چھ گھنٹے کی بریفنگ ، ایئر چیف اور نیول چیف کی بریفنگ بھی وزیر اعظم عمران خان کی رائے درست نہ کرسکی۔