خبرنامہ

مسلم حقوق کے تحفظ کے لئے ملک برکت علی کا کردار…اسداللہ غالب

کوئٹہ چرچ

سم اللہ
مسلم حقوق کے تحفظ کے لئے ملک برکت علی کا کردار
انداز جہاں۔۔۔اسداللہ غالب

میں نے اپنے کالموں میں ملک برکت علی کی ان خدمات کو اجاگر کرنے کی پوری کوشش کی ہے جو انہوں نے حصول پاکستان کے سفر میں کیں۔پاکستان کا تصور یکا یک سامنے نہیں آیا بلکہ یہ نتیجہ تھا مسلمانوں کی اس جدو جہد کا کہ ایک ہزار سال تک وہ جس ملک کے حکمران رہے اور اب انہیں وہاں کی غالب ہندو اور متعصب اکژیت سے پالا پڑ گیا تو وہ اپنے حقوق کا تحفظ کیسے کریں۔ اس سلسلے میں کبھی وہ ہندو سے مل کر جدو جہد کرنے کی طرف مائل رہے اور کبھی الگ راستہ چن لیا مگر آخر کار انہیں احساس ہوا کہ ایک علیحدہ مملکت کے حصول کے بغیر ان کے مقاصد کی تکمیل نہیں ہو سکتی۔ سوچ کے اس ارتقا میں کئی موڑ آئے مگر کسی مرحلے پر کسی مسلم راہنما نے اپنے ضمیر کا سودا نہیں کیاا ور مسلمانوں کے مفادات کو قربان کر نے کی روش اختیارنہیں کی۔ بہر حال یہ ہماری تاریخ ہے جسے ہمیں من و عن قبول کرنا ہے اور اس پر ہمیں کوئی شرمندگی لاحق نہیں۔میں ا س کتاب میں سے ایک اور طویل اقتباس آپ کی نذر کرتا ہوں تاکہ آپ کے سامنے تصویرواضح ہو جائے۔
1914میں جنگ عظیم کے دوران ترکی کے اس میں شامل ہونے اور مسلمان رہنماؤں کی گرفتاری سے بھی پنجاب کی سیاست پر بہت اثرات مرتب ہو ئے۔ اس واضح تقسیم کے بعدپنجاب کے وہ مسلمان جو سابقہ پالیسی میں تبدیلی کے حق میں تھے اور جس کی قیادت میاں فضل حسین کر رہے تھے وہ ترقی پسند کہلائے جبکہ اس کی مخالفت کرنے والے ،جن کی قیادت میاں محمد شفیع کر رہے تھے ، قدامت پسند کہلائے۔ جب ملک برکت علی نے ’’آبزرور ‘‘ میں بطور ایڈیٹر شمولیت کی تو ترقی پسند گروپ کو اپنے نظریات کے پرچار کے لیے ایک اچھا لکھاری مل گیا۔ ملک برکت علی ، تاج پیر الدین اور خلیفہ شجاع الدین اس گروہ کے روح رواں تھے۔ مولوی محبوب عالم کا ’پیسہ اخبار‘ پنجاب کے مسلمانوں کے قدامت پسند گروہ کی حمایت کرتا تھاجبکہ مولانا ظفر علی خاں کا ’’زمیندار‘‘ ترقی پسند گروپ کی حمایت کر تا تھا۔ اس کی اشاعت ختم ہوجانے کے بعد ’’آبزرور‘‘ نے یہ کام مکمل طورپر سنبھال لیاتھا۔
ترقی پسند گروہ کے قدامت پسندوں کے ساتھ اختلافات اب انتہا کو پہنچْ چکے تھے۔ ملک برکت علی بطور صحافی اور سیاستدان صفِ اول کے مسلمان رہنماؤں میں اپنا نام پیدا کر چکے تھے۔ اب وہ نہ صرف پنجاب مسلم لیگ کے ایک ممتاز لیڈر کے طور پر نمایاں ہو چکے تھے بلکہ صوبائی کانگرس کمیٹی کے بھی ایک ممتاز رکن تسلیم کئے جانے لگے تھے ۔ جون 1916 میں آپ نے ایل ایل بی کے امتحان میں اول پوزیشن حاصل کی لیکن وکالت کے بجائے آپ نے صحافت کے پیشے کو ترجیح دی۔ وہ سمجھتے تھے کہ اس وقت ’’آبزرور‘‘ کو ان کی زیادہ ضرورت ہے‘‘۔
سیاسی کیرئیر کے ابتدائی دور میں ملک برکت علی کا ایم اے جناح کے ساتھ بہت قریبی رابطہ ہوا جو ان کی زندگی کے اختتام تک جاری رہا۔ محمد علی جناح کیلئے ان کے دل میں عزت اور ان کی قائدانہ صلاحیتوں پر ملک برکت علی کے اعتماد کا اندازہ ان کے اس خط سے لگایا جا سکتا ہے۔ جو 8جون 1916کو ’’آبزرور‘‘ میں شائع ہوا۔ یہ وہ وقت تھا جب مسلم لیگ کے 1916 کے سالانہ اجلاس کیلئے صدارت کی بحث جاری تھی۔
’’اس وقت جب ہندوستان کے مسلمانوں کے سیاسی افق پر بادل گھنے ہوتے جا رہے ہیں اور جب ان کے بہت سے رہنماؤں کو بغیر کسی گناہ یا جرم کے نظر بند کیا جا رہا ہے تو ایسے موقع پر لکھنؤ کے مسلم لیگ کے اجلاس کا صدر ایسے شخص کو ہونا چاہیے جو بے پناہ حوصلے کا مالک ہو اور جب ہم مذکورہ بالا خوبیوں کے حامل رہنما کی تلاش میں مسلمان رہنماؤں کی جانب نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیں صرف مسٹر جناح ہی مناسب شخصیت دکھائی دیتے ہیں‘‘
لکھنؤ میں مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس 28دسمبر1916کو ہوا۔ اس اجلاس میں مشہور کانگرس مسلم لیگ سکیم جو لکھنؤ پیکٹ کے طور پر مشہور ہوئی تھی، منظور ہوئی۔ پنجاب کے گروہی اختلافات اس اجلاس میں بھی زیر بحث آئے۔اس اجلاس میں پرانی پنجاب مسلم لیگ کا وفاق سے الحاق ختم کر دیا گیا اور میاں شفیع کو آل انڈیا مسلم لیگ کے وائس پریذیڈنٹ کے عہدے سے ہٹا دیا گیاجبکہ نئی پنجاب مسلم لیگ کا آل انڈیا مسلم لیگ سے الحاق کر دیا گیا۔ نئی پنجاب مسلم لیگ کا الحاق ملک برکت علی اور ان کی پارٹی کی عظیم فتح تھی۔ ان کے مطابق پرانی مسلم لیگ کے الحاق کا خاتمہ پنجاب کے مسلمانوں کی تاریخ میں ایک تکلیف دہ باب کا خاتمہ تھا۔
اس عظیم کارنامے کا اعزاز پرجوش نوجوان مسلمانوں کو جاتا تھا اور بالخصوص اس نوجوان ملک برکت علی کو جس نے صرف 2 سال پہلے اس میدان میں قدم رکھا تھا اور شدید مخالفت اور نا مساعدد حالات میں کام کیا تھا۔ پرانی پنجاب مسلم لیگ نے مسلمانوں کا اعتماد حاصل کرنے کی ایک بار پھرکوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہو سکی ۔ اس کوشش میں ناکام ہو کر ملک عمر حیات خاں نوانی ، میاں محمد شفیع اور دوسرے رہنماؤں نے پنجاب مسلم ایسوسی ایشن کا آغاز کر دیا۔ اس ایسوسی ایشن نے سیکرٹری آف سٹیٹ کے دورے ک موقع پر ان کے پاس ایک وفد بھیجا ۔ لیکن نیو پنجاب مسلم لیگ کی حیثیت پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا۔ میاں فضل حسین 1917میں پنجاب مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔ ملک برکت علی، پیر تاج الدین اور دوسرے رہنماؤں نے نئی مسلم لیگ کے حق میں اب ایک زور دار اور پرزور تحریک شروع کر دی ۔
مسز اپنیپسنت کی ہوم رول موومنٹ کی حمایت میں 1917 کے اوائل میں ہونے والے جلسوں، نئی پنجاب مسلم لیگ کی قیادت میں کانگرس مسلم لیگ سکیم کی حمایت اور پھر اکتوبر 1917میں پنجاب پروونشل کانفرنس کے انعقاد نے پنجاب کی سیاسی زندگی میں ایک نئی روح پھونک دی۔
سرفضل حسین اور ملک برکت علی سر مائیکل او ڈائر،جو1912 سے 1919تک پنجاب کا گورنر رہا، کی بیورو کریٹ حکومت کے بہت خلاف تھے۔ فضل حسین اپنی تقریروں میں جبکہ ملک برکت علی ’’آبزرور‘‘ میں اپنی تحریروں میں گورنر کی پالیسیوں پر مسلسل تنقید کرتے تھے۔
1917 میں جب سرمائیکل نے بی سی پال، بی جی تلک اور دوسرے رہنماؤں کے پنجاب میں داخلے پر پابندی لگا ئی توملک برکت علی نے اس پر شدید تنقید کی ۔ گورنر مائیکل کو برکت علی سے انتقام لینے کیلئے موقع کی تلاش تھی۔ اس نے پنجاب میں انگلش پریس کی سفارشات کے مطابق ملک برکت علی کو پبلسٹی بورڈ کا ممبر بنانے سے انکار کر دیا۔ گورنر کو ملک برکت علی کے خلاف جس لمحے کا انتظار تھا وہ اس وقت آیا جب ملک برکت علی نے آبزرور میں گورنر کی بجٹ تقریر پر 8, 4 اور 11 مئی 1918 کو تین آرٹیکل لکھے۔گورنر نے انڈین پریس ایکٹ کے تحت کاروائی کرنے کے بجائے ملک برکت علی کے خلاف ڈیفنس آف انڈیا ایکٹ کے تحت کاروائی کی اور 21جون 1918 کو حکومت پنجاب نے گورنر کے حکم پر مندرجہ ذیل آرڈر جاری کیا: ’’حکومت پنجاب کے مطابق آبزرور کے ایڈیٹر ملک برکت علی ولد ایم عبدالعزیز کا اپنے اخبار میں اختیار کیا گیا انداز عوام کیلئے خطرہ ہے اس لئے گورنر پنجاب کی طرف سے حکم دیا جاتا ہے کہ ملک برکت علی اپنی ایڈیٹر شپ میں شائع ہونے والا یہ مواد لے کر بطور ثبوت لاہور میں لوکل گورنمنٹ کے پریس ایڈوائزر کے سامنے پیش ہوں اور ملک برکت علی کو ’’آبزرور‘‘ سے الگ کر دیا جائے۔ ‘‘
ملک برکت علی نے حکومت کے اس حق کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا کہ وہ اپنی تحریریں بحیثیت ایڈیٹر منظوری کیلئے پریس ایڈوائزر یاگورنمنٹ سنسرکو بھجوایں۔ جبکہ آبزرور کے مالک نے بھی دوسرا ایڈیٹر رکھنے کی بجائے آبزرور کی اشاعت معطل کر دی۔ حکومت پنجاب کا یہ انتہائی اقدم سارے برصغیر کے پریس میں تنقید کا نشانہ ۔