خبرنامہ

معیشت کے حوصلہ افزا اعشاریئے اور اشارے…اسداللہ غالب

کوئٹہ چرچ

معیشت کے حوصلہ افزا اعشاریئے اور اشارے…اسداللہ غالب

جب لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ لانگ مارچ کی وجہ سے حکوت کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو چکا تو حکومت کی پس پردہ معاشی اور مالیاتی حکمت عملی برگ و بار لا رہی تھی۔ پاکستان دنیا کی اسٹاک مارکیسٹس میں نئے اعزاز سے سرفراز ہو چکا تھا اور ایف اے ٹی ایف کی شرائط پر پوراا ترنے کے بعد پاکستان کی مالی حالت ایک نئے اعتماد سے سرشار تھی۔بلوم برگ کی رپورٹیں پاکستان کے حق میں گواہی دے رہی تھیں اور عالمی سرمایہ کاری کا رخ پاکستان کی طرف بڑھ چکا تھا۔
وزیر اعظم آخر وکٹ پر جم کر کھڑے ہوئے۔ دھرنے کو پسپا کیا اور ہر قسم کی افواہوں کو پنکچر کر دیا۔ اب وہ اپنے اصل کام کی طرف متوجہ ہوئے ہیں اور محض وقتی خانہ پری کے لئے بیانات جاری کرنے کے بجائے جو کہ حکومت کے دفاع کے لئے بہر حال ضروری ہوتے ہیں۔ اب وہ اپنی حکمرانی کے ثمرات گنوانے کی پوزیشن میں آ گئے ہیں۔ پچھلے سوا سال سے وہ متواتر کہتے رہے کہ عوام صبر کریں، حوصلہ رکھیں۔ ماضی کی حکومتوں کا کچرا صاف کر لینے دیں جس میں ایک سال کی مدت تو کم از کم درکار ہو گی۔ پھر عوام کو ریلیف ملے گی اور تنگی ترشی کے دن ختم ہونے لگیں گے۔
ابتدائی عرصے میں بلا شبہہ حکومت کو سخت معاشی ا ور مالیاتی اقدامات کرنے پڑے۔ یہ فیصلے اس قدر غیر مقبول تھے کہ وفاقی وزیر خزانہ کی بھی چھٹی ہو گئی مگر وزیر اعظم نے نئی ٹیم تیار کی۔ بطور کپتان کرکٹ ٹیم انہیں بخوبی تجربہ اور مہارت حاصل ہے کہ کس کھلاڑی کو کس پوزیشن پر اور کہاں کھلانا ہے۔ ٹیم میں تبدیلیاں معمول کی بات ہیں۔ نئی ٹیم کے ساتھ انہوں نے مزید سخت مالیاتی فیصلے کئے۔ اور وہ کچھ کیا جس کے نہ کرنے کا انہوں نے وعدہ کرر کھا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گا کیونکہ قرض یا امداد دینے والے اپنی جائز ناجائز شرائط بھی منوا تے ہیں مگر وزیر اعظم نے یہ کڑوا گھونٹ بھرا۔ اور عوام سے بھی کہا کہ وہ ایک بار کڑوی گولی نگلنے کی کوشش کریں، حکومت سے کچھ عرصے کے لئے تعاون کریں۔ پھر سب کے لئے اچھے دن آئیں گے۔
میں سرکاری ترجمانوں کی طرح یہ بات نہیں دہرا رہا بلکہ اپنے تجربے اور تجزیئے کی خاطر کہہ رہا ہوں کہ جب نواز اور شہباز قرضے پر قرضہ لے رہے تھے تو لوگ چہ میگوئیاں کرتے تھے کہ آنے والی حکومت یہ قرضے کیسے اتار پائے گی اور ہوا بھی وہی۔ یہ قرضے در اصل عمران خان کے رستے میں بچھائے گئے تھے۔عمران خاں کو یہ کانٹے اپنی نازک پلکوں سے چننے پڑے۔ انہوں نے عالمی مالیاتی ادارون سے بھی رابطہ کیا۔ سعودی عرب۔ امارات۔ قطر اور چین سے بھی مالی مدد طلب کی اور یوں ان کے پاس اس قدر زر مبادلہ کے ذخائر جمع ہو گئے کہ ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لئے انہوں نے زرداری اور نواز کے لئے قرضوں کے بھاری بوجھ سے نجات پائی۔ یہ پیسہ صرف ایک جگہ خرچ ہو سکتا تھا یا تو وہ پچھلے قرضے ادا کرتے اور ملک کو ڈیفالٹ سے بچاتے یا ا س رقم سے لوگوں کے لے فلاحی اقدامات کرتے۔ انہیں نوکریاں دیتے۔ ان کے لئے گھر تعمیر کرتے اور مہنگائی کم کرتے مگر انہوں نے پہلا کام پہلے کیا اور ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچا لیا۔ اب وہ اس پوزیشن میں ہیں کہ سکون کے ساتھ اپنے انتخابی وعدے پورے کر سکیں۔ وہ پچاس لاھ گھروں کی تعمیر کا ٹھیکہ ایک ا نتہائی دیانت دار ڈاکٹر امجد ثاقب کے ادارے اخوت کو دے چکے ہیں۔ انہوں نے ایف بی آر کے اعلی افسروں کی میٹنگ بلائی ہے اورمجوزہ ٹیکس ہدف پوراکرنے پر زور دیا ہے۔ ایف بی آر کے افسران نے یقین دہانی کرائی ہے کہ یہ ہدف مشکل نہیں اور وہ ہر حالت میں اسے پورا کریں گے۔ اس طرح اگلے چھ سات ماہ میں یعنی نئے بجٹ کی تشکیل کرتے وقت حکومت کے پاس اس قدر سرمایہ ہو گا کہ وہ ایک کروڑ نوکریوں کے دوسرے وعدے کی تکمیل کی طرف بھی بڑھ سکے۔
وزیر اعظم عمران خان نے بڑی خاموشی سے ایسے مالیاتی ور معاشی معرکے مارے ہیں کہ عقل حیران ہوئی جاتی ہے۔عمران خان کی زیرقیادت معیشت کی بحالی کے لئے درج ذیل نکات قابل غور ہیں:
اکتوبر2019 میں اشیا اور خدمات کی درآمدات میں 9.6 فیصد اضافہ
اکتوبر2018 میں برآمدات2502 ملین ڈالر تھیں جبکہ اکتوبر2019 میں برآمدات 2741 ملین ڈالر ہو گئیں۔چار سال بعد 99 ملین ڈالرز کا ماہانہ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس۔موجودہ مالی سال کے پہلے چار ماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 73.5فیصد کم ہوا۔جولائی تا اکتوبر2018 میں خسارہ 5.5 بلین ڈالر تھا جو جولائی تا اکتوبر2019 میں 1.47 بلین ڈالر رہ گیا۔موجودہ مالی سال میں 8نومبر2019 تک زرمبادلہ کے ذخائر میں 1117 ملین ڈالرز کا اضافہ ہوا۔ موجودہ مالی سال کے پہلے 4 ماہ کے دوران نیٹ براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں 238 فیصد اضافہ ہوا۔جولائی تا اکتوبر2018 میں 191.9 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی جبکہ جولائی تا اکتوبر2019 میں 650 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی
پچھلے مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران کل غیر ملکی قرض ادائیگی میں 25 فیصد اضافہ ہوا۔
بلوم برھ دنیا کا وقیع حوالہ ہے۔ اس نے تازہ تریں رپورٹ دی ہے کہپاکستان کی اسٹاک مارکیٹ میں تین ماہ کے دوران تیس فی صد اضافہ ہوا جبکہ بیس فی صد کے اضافے کے ساتھ آئر لینڈ دوسرے نمبر پر اور پندرہ فی صداضافے کے ساتھ روس تیسرے نمبر پر رہا۔ پاکستانا اسٹاک مارکیٹ پر عالمی سرمایہ کاروں کا یہ اعتماد وزیر اعظم عمران خان کی مستحکم اور دیر پا نتائج کی حامل معاشی ا ور مالیاتی اصلاحات پر مہر تصدیق ثبت کرنے کے لئے کافی ہے۔مزید برآن لندن کے آکسفورڈ فرنٹیئر کیپیٹل نے کے اے ایس بی کے چالیس فی صد شیئر خرید کرپاکستان کی مالیاتی پوزیشن کومستحکم کرنے میں اہم کردارا دا کیا ہے۔
ان ٹھوس معاشی حقائق سے آنکھیں چرانا مشکل ہے۔ رہا ٹماٹر کا تین سو کلو کا بھاؤ۔ تو یہی بھاؤ نئی دلی میں بھی چل رہا ہے۔ جب پورے بر صغیر میں ٹماٹر کی کاشت کا موسم ہی نہیں تو بھارت بھی اسے درا ٓمد کر رہا ہے اور پاکستان کو بھی یہی راستہ اختیار کرنا پڑا ہے مگر صرف ٹماٹر کی قیمت سے تو معاشی اور مالی اعشاریئے اور اشارے متعین نہیں کئے جا سکتے۔ اکانومی کے جائزے لینے کے لئے عقل کی ضرورت ہے۔ اور یہ عقل میڈیا اور کنٹینروں پر ڈھول بجانے اور دھول اڑانے سے تو نہیں آ سکتی۔نہ یہ لوگ عوام کو گمراہ کر سکتے ہیں۔