خبرنامہ

نیا کینسر ہسپتال، علاج سو فیصد مفت….اسداللہ غالب

کوئٹہ چرچ

بریفنگ دینے والے صاحب تھے تو ڈاکٹر لیکن اگر وہ ذاکر ہوتے تو اور بھی کامیاب ہوتے۔ ویسے کامیاب تریں انسانوں میں ان کا اب بھی شمار ہوتاہے۔
انہوں نے لیپ ٹاپ کی مدد سے ملٹی میڈیا بریفنگ شروع کی۔ وہ معذرت خواہ تھے کہ نفس مضمون کو اجاگر کرنے کے لئے انہیں یہ تصاویر دکھانا پڑی ہیں جن پر انسان نظر ڈالے تو اس کی برداشت جواب دے جائے مگر ان کا کہنا تھا کہ آپ سب اصحاب بزرگی کی عمر میں ہیں، اس لئے اخلاقی طور پر یہ تصاویر دکھانے میں کوئی ہرج نہیں البتہ مریضوں کے چہرے نہیں دکھائے جائیں گے۔اگر بات صرف تصاویر دکھانے تک محدود رہتی تو ان کے کوئی اچھے برے اثرات مجھ پر نہ پڑتے کیونکہ مجھے کچھ نظر ہی نہ آ رہا تھا مگر ڈاکٹرصاحب نے ظلم یہ کیا کہ ہر تصویر پر کمنٹری شروع کر دی۔ سچ کہتا ہوں میں کبھی چھپ چھپا کر بھی نہیں رویا، اپنے کسی پپارے کی موت پر بھی نہیں رویا لیکن اب جو کچھ سن رہا تھا، اس نے مجھے رلا کررکھ دیا۔ میرے آنسوبہے چلے جا رہے تھے۔ میرا چہرہ تر بتر ہو گیا۔ کمرے میں نیم تاریکی کی وجہ سے میری عزت رہ گئی۔
آیئے میں آپ کو بھی رلاتا ہوں ۔ ڈاکٹر صاحب جو تصویریں دکھا رہے تھے۔ وہ ان خواتین کی تھیں جنہیں چھاتی کا سرطان لاحق تھا، بعض کی حالت اس قدر بگڑ گئی تھی کہ پوری چھاتی میں کیڑے پڑ گئے تھے اور زخم سے ناقابل برداشت بو اٹھ رہی تھی۔جسم کا گوشت جگہ جگہ سے اکھڑ گیا تھا، وہ کسی کی ماں تھی، کسی کی بہن اور کسی کی بیٹی۔یہ صورت حال معاشرے میں مجھے اور آپ میں سے کسی کو بھی پیش آسکتی ہے، دعا ہے کہ اللہ معاف رکھے اورا س عذاب سے بچائے۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ ایسے مریضوں کو دیکھ کر نرسیں چیخیں مار کر کمرے سے بھاگ اٹھتی ہیں۔
ڈاکٹر شہر یا ر ملک کے نامور ماہر سرطان ہیں۔ اپنی پچیس سالہ ملازمت کے دوران ایک الاکھ مریضوں کا علاج کر چکے ہیں اور ان کی دعائیں ان کے ساتھ ہیں ۔ ریٹائر ہونے کے بعد انہوں نے نجی شعبے میں ایک ایساہسپتال بنانے کا بیڑہ اٹھایا ہے جہاں کسی مریض کے علاج سے صرف ا سلئے انکار نہیں کیا جائے گا کہ اسے تو بس مرنا ہے۔ ا س کے علاج کا کیا فائدہ۔ وہ کہتے ہیں کہ ملک میں کینسر کے مریض زیادہ ہیں اور علاج کی سہولتیں بہت کم ہیں اور جو ہیں وہ لواحقین کی مالی برداشت سے باہر۔ عمران خاں نے اپنی والدہ کا دکھ دیکھا اور پھربظاہر ایک ناممکن کام میں ہاتھ ڈالا۔ ان کے لئیے یہ کام ا س لئے بھی مشکل تھا کہ وخود اس مرض کی پیچیدیگیوں اور س کے علاج سے شناسا نہ تھے مگر انہوں نے ایک معجزہ رقم کیا اور لاہور کا پہلا ہسپتال اب کئی برسوں سے مریضوں کے علاج میں مصروف ہے ۔ بات کہنے کی نہیں ۔ دعوے کی بھی نہیں بلکہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ اس ہسپتال میں بیشتر مستحق مریضوں کا علاج مفت ہو رہا ہے جن پر ہسپتال انتظامیہ کو کروڑوں کا خرچ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ عمران خان دوسرا ہسپتال بھی بنا چکے ہیں اور تیسرے کی منصوبہ بندی بھی کر رہے ہیں۔ اللہ کرے وہ جلد کامیاب ہوں مگر مسئلہ یہ ہے کہ ملک میں مریض زیادہ ہیں اور علاج کی سہولتیں کئی گنا کم ہیں ، بھارت میں کینسر کے تین چار سو ہسپتال ہیں، صرف دلی شہر میں ڈیڑھ درجن کے قریب ہیں۔ لاہور کے قریف چندی گڑھ میں چھ کینسر ہستال ہیں۔ پاکستان میں کینسر کے علاج کے کل مراکز ستائیس ہیں جن میں صرف ایک بڑا ہسپتال ہے ۔ہمارے ہاں صرف پنجاب میں کینسر کے مریضوں کی سالانہ تعداد پونے دو لاکھ کے لگ بھگ ہے اور ملک میں صرف دس ہزار مریضوں کا علاج کیا جاسکتا ہے۔ اس لحاظ سے حکومت اور نجی شعبے کے کان کھڑے ہونے چاہیءں۔ سنگین خطرے کی گھنٹی بج رہی ہے۔ پہلے تو کینسر کی تشخیص کی سہولتوں کی فراہمی کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ اب تک تو کسی کو مرض کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب مرض آخری اسٹیج پر پہنچ جاتا ہے۔ اور ہر ہسپتال ا سے لا علاج قرار دے کر مرنے کے لئے تنہا چھوڑ دیتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ وہ دو نکات پر خاص طور پر توجہ دے رہے ہیں کہ ایک تو مرض کی تشخیص بر وقت ہو جائے، دوسرے کسی کو لاعلاج سمھ کر موت کے رحم و کرم پر نہ چھورا جائے بلکہ آخری لمحات میں اس کی تکلیف تو کم کرنے کی کوشش کی جائے جو کہ ناممکن کام نہیں۔ کینسر ہسپتال لاکھوں یا کروڑوں کاکھیل نہیں اربوں کا خرچہ ہے اور کوئی حکومت یا کوئی ایک شخص اپنی جیب سے اس کٹھن کام میں ہاتھ نہیں ڈالتا۔عمران خان نے بھی زیادہ تر عطیات اکٹھے کئے اور ڈاکٹر شہر یا بھی مخیر طبقے کی طرف دیکھ رہے ہیں، رائے ونڈ روڈ پر ستائیس ایکڑ پر ان کا مجوزہ ہسپتال زیر تعمیر ہے۔ اس کے چار بلاک ہوں گے۔ کام کی ابندا چار سال قبل کی گئی اور اب پہلا بلاک سروس کے لئے تیار ہے جس میں ہر قسم کے مریضوں کو داخل کیا جا سکے گا۔ ابتدائی طور پر چار سو مریضوں کی ریڈی ایشن کی جائے گی اور پھر ایک سو مریضوں کو داخل کیا جاسکے گا ۔ یہ دونوں مراحل جنوری اور فروی میں مکمل ہو جائیں گے ، انہوں نے بتدریج پانچ مشینیں خرید لی ہیں ،کچھ ہسپتال پہنچ گئی ہیں کچھ کی ایل سی کھل چکی ہے۔ ان مشینوں کے آجانے سے پنجاب میں کینسر کے علاج کے لئے ایک دم سو فیصد سہولتوں کااضافہ ہو جائے گا۔تشخیص کے دو موبائل یونٹ کام کر رہے ہیں اور مختلف دور افتادہ اضلاع میں خواتین کے چھاتی کے کینسر کی تشخیص کے لئے میمو گرافی کی جا رہی ہے۔ملک میں کئی مریضوں کو ریڈی ایشن کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے لئے ہپستال میں مشینوں کی تنصیب کے لئے چار مخصوص بنکر تعمیر کئے جا چکے ہیں۔ ان پر کئی کروڑ کاتو صرف لوہے کا سریا لگا ہے جو مخیر حضرات نے عطیہ کیا ہے۔ عطیات اکٹھا کرنے کا عمل حوصلہ افز ا ہے ، ایک ہوٹل کے بیرے نے اپنی ٹپ کے دو سو باون روپے جیب سے نکال کر دے دئے تو ایک صاحب خیر نے اکیلے کئی ہزار ٹن سریا عطیہ کردیا۔ کوئی سیمنٹ کی بوریاں لا رہا ہے اور کوئی اینٹیں فراہم کر رہا ہے۔ ایک ادارے نے بیس کروڑ کی قیمتی مشین خرید کر دے دی ہے۔ اس وقت ملک میں ریڈی ایشن کے مریضوں کو چار سے چھ ماہ تک ا نتظار کرنا پڑتا ہے اورا س دوران ان میں سے بیشتر ایڑیاں رگڑ کر مر جاتے ہیں مگر ڈاکٹر شہر یا کا کینسر ہسپتال چند ماہ بعد سالانہ دس ہزار مریضوں کو ریڈی ایشن کی سہولت فراہم کر سکے گا اور واضح رہے کہ یہ سب علاج سو فیصد فی سبیل اللہ ہو گا کیونکہ اس کے لئے مخیر طبقہ بھی اللہ کی راہ میں دل کھول کر عطیات دے رہا ہے اور اگر یہ سلسہ چل نکلے تو کیا امیر اور کیا غریب ہر کسی کا علاج باکل مفت ہو گا اور شفا تو اللہ کی ذات کے ہاتھ میں ہے ، داکٹر شہر یا اور ان کی ٹیم بس اپنی سی کوشش کر رہی ہے اور یہ کوشش اس لائق ہے کہ ہم ان کی پذیرائی کریں ۔ ان کے ہسپتال کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور ڈاکٹر شہر یاراپنے ارادوں میں مخلص ہیں اور کینسر سے تڑپتے مریض ہماری مدد کے مستحق ہیں تو ہم ان کے لئے وہ کر گزریں جو ریاست مدینہ میں مواخات کی مثال قائم کی گئی تھی۔
ایک لمحے کے لئے سوچئے کہ اگر سر گنگا رام جیسے مخیر اس معاشرے میں نہ ہوتے تو لاہور شہر کے مریضوں کا کیا حال ہوتا۔ڈاکٹر شہریا ر کہتے ہیں کہ ہر سرکاری ا ور نجی ٹیچنگ ہسپتال میں بیس بیڈ کینسر کے مریضوں کے لئے مختص کرنے لازمی ہیں مگر اس شرط پر عمل نہیں کیا جاتا جس سے کینسر کے مریضوں کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔
میں کسی روز ڈاکٹر شہر یا کا ہسپتال دیکھنے جاؤں گا ، مجھے شوکت خانم ہسپتال کا ایک ایک گوشہ خود عمران خان نے دکھایا تھا۔ کوئی مریض ایم �آر آئی مشین کے اندر تھا۔ ایک مریض ریڑھ کی ہڈی کے کینسر میں مبتلا تھا۔ میں نے آ نکھوں کو دونوں ہاتھوں سے چھپا لیا تھا۔یہ مناظر میرے ہوش و حواس کو مختل کرنے کے لئے کافی تھے۔میرے ایک صحافی دوست اپنے کینسر کا علاج کروانے سرکاری خرچ پر لندن گئے۔ ایک ا ور دوست سرکاری ادارے کی طرف سے کینسر کے علاج کے لئے لندن گئے، یہ دونوں صحت یاب ہوئے۔ میرے دوست عباس اطہر کو پھیپھڑے کے کینسر کی تشخیص آخری مرحلے پر ہوئی۔ میں نے آئی ایس پی �آر سے درخواست کی انہیں لاہور کے سی ایم ایچ میں علاج کی سہولت فراہم کی جائے جہاں کے ڈاکٹر صرف ان کی تکلیف کوکم کرنے کی کوشش کر سکتے تھے۔ علاج ان کے بس سے باہر تھا۔حال ہی میں محترمہ کلثوم نواز گلے کے کینسر کے مرض میں طویل عرصے تک علاج کے بعد لندن کے ایک ہسپتال میں چل بسیں۔ ہمارے معاشرے میں چھاتی کا کینسر تیزی سے پھیل رہا ہے۔ دوسرے نمبر پر بڑی آنت کا کینستر لوگوں کی جان لے رہا ہے ۔ پراسٹیٹ ، خون اور گلے کے کینسر کے مریض بھی موجود ہیں اور ان کے علاج معالجے کے لئے معاشرے کو جنگی بنیادوں پر ایک نہیں،دو نہیں ، درجنوں نہیں ،سینکڑوں ہسپتال قائم کرنا ہوں گے ،آیئے پہلے تو ڈاکٹر شہر یار کا ہاتھ بٹائیں ۔ میں شکر گزار ہوں اپنیے بھائی ڈاکٹر اجمل نیازی کا جو اس ہسپتال کے مسائل پر کئی کالم لکھ چکے ہیں۔ میں اس نیکی میں پیچھے رہ گیا تھا۔ پھر وہی پالیسی ریسرچ کونسل کے چیئر میں ڈاکٹر محمود شوکت کے ذریعے ڈاکٹر شہر یار کی بریفنگ میں شرکت کا موقع ملا۔ ڈاکٹر صاحب کینسر کے شعبے کے آئی کون کا درجہ رکھتے ہیں۔ دکھی انسانیت کے ہمدرد اور غم گسار ہیں۔ اللہ انہیں کامیاب کرے۔