خبرنامہ

ویت نام کا کھوجی۔۔۔۔ اسد اللہ غالب

ویت نام کا کھوجی۔۔۔۔ اسد اللہ غالب

کوئی شخص ذہن پر زور ڈالے بغیر یہ نہیں بتا سکتا کہ ویت نام کتنے برسوں تک امریکی جنگی دہشت گردی کا ٹارگٹ بنتا رہا۔ مگر ایک بات طے ہے کہ جب تک امریکہ تھک نہیں گیا تھا اور امریکی رائے عامہ اس جارحیت کی مخالف نہیں ہو گئی تھی، امریکہ نے ویت نام کا پیچھا نہیں چھوڑا اور جب پیچھا چھوڑا تو اپنے پیچھے لاشوں کے ڈھیر، ملبے کے ڈھیر اور راکھ کے ڈھیر چھوڑ گیا۔
پھر ویت نام کے ساتھ کیا ہوا۔ یہ تھا سوال جو ایک پاکستانی ڈاکٹرا ور محقق محمود شوکت کے ذہن میں آیا کہ دیکھوں تو سہی کہ اس قوم پر آج کیا بیت رہی ہے، یہ کن حالوں میں ہے، کیا اس کی بگڑی تقدیر نے سنورنے کا نام بھی لیا ہے۔
مصیبت یہ تھی کہ ڈاکٹر صاحب سرکاری ملازمت میں تھے اور تحقیق و تفتیش کے سفر کے لئے لمبی رخصت درکار تھی جو میسر نہ آئی، وہ علامہ اقبال میڈیکل کالج سے ریٹائر ہوئے تو ان کے پاس وقت ہی وقت تھا، میں سوچتا ہوں کہ وہ ڈاکٹر نہ بنتے تو بہترین سراغرساں، محقق اور تفتیش کار بن سکتے تھے، وہ ملک برکت علی کے پوتے ہیں اور ملک برکت علی کا نام تحریک پاکستان کے افق پر چمکتا ہے، دمکتا ہے۔ وہ انیس سو تیس کی پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ کے واحد رکن تھے، ان دنوں ایک ہی مسلم لیگ ہوتی تھی، اس کی شاخیں ابھی نہیں پھوٹی تھیں۔ پنجاب میں ٹیمپل روڈ پر ملک برکت علی کا گھر تحریک پاکستان کا مرکز و محور تھا۔ قائداعظم سے ان کی قربت تھی۔ وہ انیس سو چھیالیس میں ایک بار پھر پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، اس وقت تک جتنے یونینسٹ تھے وہ بھی مسلم لیگ میں شامل ہو چکے تھے چنانچہ اسمبلی میں مسلم ارکان کی اکثریت تھی، قائداعظم نے اس حقیقت کے پیش نظر ملک برکت علی کو سپیکر کے منصب کے لئے نامزد کیا مگر یونینسٹوں نے انہیں ووٹ دینے کے بجائے کسی سکھ کو دے دیئے، پاکستان کو ان یونینسٹوں سے آج تک چھٹکارا نہیں ملا اس لئے کہ وہ پنجاب کے وڈیرے، جاگیر دارا ور بڑے زمیندار تھے۔ ان کی اپنی ذہنیت تھی اور آج بھی ہے۔
بہرحال چھوڑیئے اس قصے کو ڈاکٹر محمودشوکت کو ایک شوق تو یہ ہے کہ وہ اپنے دادا جان پر تحقیق کر رہے ہیں، ان کی تمام پارلیمانی تقاریر جمع کر چکے ہیں، اسلام آباد کے ایم بلاک سے وہ نادر و نایاب تصاویر، خطوط اور دستاویزات بھی کھنگال لائے ہیں اور اب ملک برکت علی پر ان کی کی کتاب چھپنے کے لئے تیار ہے۔
دوسرا شوق بھی عجیب ہے مگر اسے آپ ان کی حب الوطنی ہی کی ایک شکل کہہ لیں۔ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ دنیا کے وہ ممالک جو مصائب میں مبتلا رہے، انہوںنے ترقی کے زینے کیسے طے کئے اور اپنے عذابناک ماضی سے چھٹکارا کیسے حاصل کیا۔ یوں تو وہ کئی ملکوں میں گھوم چکے ہیں، یوں لگتا ہے کہ ڈاکٹری کے ساتھ سیاحت بھی ان کا بڑا پیشہ ہے، امریکہ، برطانیہ، آئر لینڈ، فرانس، اسپین، ملیشیا، تھائی لینڈ، افغانستان حتیٰ کہ منگولیا تک ہو آئے ہیں، کہتے ہیں کہ منگولیا میں ہر چوک میں چنگیز خاں کے مجسمے نصب ہیں، وہ سری لنکا بھی گئے، صرف یہ دیکھنے کے لئے کہ یہ ملک برسہا برس تک دہشت گردی کا نشانہ بنا رہا، مگر اب ساری دنیا کی سیر و سیاحت کا مرکز ہے اور سی پیک کی طرح کا ہی ایک منصوبہ یہاں بھی چین کے تعاون سے پایہ تکمیل کو ہے۔ جاپان اور ویت نام جا کر ان کو پہلا سبق یہ ملا کہ ماضی کے دشمنوں کو فراموش کر دینا چاہئے۔ کوئی جاپانی اور کوئی ویت نامی اب امریکہ کو اپنا دشمن نہیں سمجھتا حالانکہ جاپان واحد ملک ہے جو ابتدائے آفرینش سے اب تک ایٹمی اسلحے کا نشانہ بنا ہے، ہیروشیما اور ناگا ساکی پر امریکہ نے دو ایٹم بم پھینکے اور لاشوں کے انبار لگا دیئے، ویت نام کو تو خاک سیاہ کر دیا گیا، کیمیکل گیس پھینکی گئی، آگ لگانے والے بموں سے جنگلوں کے جنگل کوئلہ بنا دیئے گئے، جگہ جگہ انسانی ہڈیوں کے انبار تھے، مگر کیا مجال کہ کوئی ویت نامی آج امریکہ کو ان جرائم کے لئے برا بھلا کہتا ہو، ان ملکوں نے ساری توجہ ترقی اور خوش حالی کے حصول پر مبذول کی، اپنے آپ کو منظم کیا۔ وہ جو قائداعظم کا فرمان تھا کہ اتحاد، تنظیم اور ایمان، وہ ان قوموں نے شیوہ بنا لیا۔ ڈاکٹر صاحب بتاتے ہیں کہ وہ ویت نام گئے تو ساری بکنگ انٹرنیٹ پر ایڈوانس کروائی، انہیں ایئر پورٹ پر ہوٹل کی کار لینے آئی، اگلی منزل تک لے جانے کے لئے چند روز بعد نئی گاڑی آ گئی، اس طرح انہیں کہیں سفری مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ وہ صبح سویرے ہنوئی شہر کے پرانے حصوں کی طرف نکل جاتے تھے، صفائی ستھرائی قابل رشک تھی۔ کوئی شخص کسی سے جھگڑتا نظر نہں آیا، سڑکوں پر ٹریفک ہماری طرح بے ہنگم نہیں تھی، ہر کوئی اپنی لین کی پابندی کر رہا تھا، موٹرسائکل والے ہیلمٹ پہنتے ہیں اور پچھلی سواری بھی ہیلمٹ استعمال کرتی ہے۔ وہ ملک ہم سے زیادہ گرم ہیں۔ تمام دفاتر صبح سات بجے کھل جاتے ہیں، بنکوں میں خواتین ورکرز کی تعداد زیادہ ہے اور ہر کوئی سات بجے اپنی سیٹ پر ہوتا ہے، بچوں کے لئے ڈے کیئر سنٹر بنے ہوئے ہیں۔ پوری قوم کی توجہ ترقی کا سفر تیز تر کرنے پر مرکوز ہے، ماضی کا باب وہ بند کر چکے، اب ان کی نظریں مستقبل پر ہیں۔ جاپان کی تمام مصنوعات اب ویت نام منتقل ہو گئی ہیں، پہلے یہ ملیشیا میں بنتی تھیں، پھر تھائی لینڈ میں مگر یہ دونو ںملک اب اس کے لئے مہنگے ہو گئے اور عالمی مارکیٹوں میں مقابلے کے لئے انہیں سستی لیبر چاہئے جو صرف ویت نام میں میسر ہے۔ جاپان اگر صنعتوں کے نئے مراکز تلاش نہ کرتا تو چین اس کی تجارت کو اب تک نگل چکا ہوتا۔
ڈاکٹر محمود شوکت ابھی کمبوڈیا اور لاﺅس بھی جانا چاہتے ہیں، یہ وہ علاقے ہیں جہاں سے دہشت گردی کا آغاز ہوا، یہی وہ علاقہ ہے جسے گولڈن ٹرائنگل کہا جاتا تھا، ہیروئن کی تجارت کے لئے دینا بھر کا مرکز۔ ڈاکٹر محمود شوکت وہاں سے ہو آئیں، تو ان کا سفرنامہ سنوں گا مگر میرا خیال ہے کہ یہ سری لنکا اور ویتنام سے مختلف کہانی نہیںہو گی۔
کیا ہمیں جاپان اور ویت نام سے کوئی سبق سیکھنا چاہئے کہ انہوں نے اپنے دشمن امریکہ کو فراموش کر کے آگے کی طرف سفر کا آغاز کیا۔ کیا ہم ان کی مثال پر عمل پیرا ہو کر بھارت، امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ اپنی روائتی مخاصمت ختم کر سکتے ہیں تاکہ اپنی انرجی دشمنیاں پالنے پر ضائع نہ کریں۔ اور مثبت رویہ اپناتے ہوئے اپنے دشمنوں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائیں۔
یہ سوال بڑا نازک ہے مگر بے حد سنجیدہ، ویت نام کے کھوجی کا سوال ہم سے جواب کا طالب ہے۔