خبرنامہ

ٹیکنالوجی کی دھاندلی، میری زندگی کا مشکل ترین کالم….اسد اللہ غالب

کوئٹہ چرچ

ٹیکنالوجی کی دھاندلی، میری زندگی کا مشکل ترین کالم….اسد اللہ غالب

میں کوشش کروں گا کہ ا س مشکل ترین کالم کو عام فہم بنائوں۔
الیکشن دھاندلی کئی قسم کی ہوتی ہے۔ ایک پری پول، اس کی ساری تفصیلات قومی حلقوں میں زیر بحث ہیں۔ان دنوں پولنگ کے بعد کی دھاندلی کا زور شور ہے ، یہ تماشہ بھی قوم بے بسی سے دیکھ رہی ہے۔مگر پری پول اور آفٹر پول رگنگ پر پردہ ڈالنے کے لئے پولنگ کے دوران دھاندلی کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ اس لئے کہ پولنگ کے نتائج کو قوم بہر صورت قبول کرتی ہے اور ساری دنیا بھی کرتی ہے۔اسی لئے سارا زور شور یہ تھا کہ پولنگ میں جوش وجذبے سے حصہ لیا جائے، عوام نے بھی جوش وجذبے کا اظہار کر د یا ، حتی کہ ملک بھر میں دو سے زائدلاشیں بھی گریں مگر عوام نے بے خوف ہو کر جوق در جوق پولنگ سٹیشنوں کا رخ کیا۔ یہ سب کچھ الیکشن کی ساکھ پرمہر تصدیق ثبت کرنے کے لئے کافی تھا ۔
کیا یہ کہانی اتنی ہی سادہ ہے۔ میری حتمی رائے ہے کہ یہ کہانی اتنی سادہ نہیں۔
آگے بڑھنے سے پہلے دو الفاظ یاد کر لیجئے۔ ایک ہے آر ایم ایس اور دوسرا ہے آر ٹی ایس۔
دو ہزار تیرہ کے الیکشن میں یو این ڈی پی نے ہمیں الیکشن دھاندلی کا ٹیکنیکل درس دیا۔ تاکہ کسی آئی جی پولیس قربان علی کے ڈنڈے کی ضرورت نہ رہے۔ اس کے لئے اس نے ہمیں کمپیوٹر بھی دیئے اور رزلٹ مینجمنٹ سسٹم (آر ایم ایس) بھی دیا ، اس کے لئے گرانٹ بھی دی اور ہمارے لوگوں کو تربیت بھی دی کہ اسے کیسے چلانا ہے۔ قوم کو یاد ہو گا کہ تیرہ میں جب سارے ٹی وی آٹھ دس فیصد رزلٹ دے رہے تھے تو میاں نواز شریف نے وکٹری تقریر داغ دی تھی ۔ اس کے بعد کسی کو یہ علم نہیں کہ یہ آر ایم ایس بند ہو گیا تھا یا بند کر دیا گیا تھا، اسے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بند کیا یا یو این ڈی پی نے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے بند کیا، قوم اس دوران سو گئی تھی اور پس پردہ نتائج تیار کر کے آر ایم ایس میں لوڈ کرنے کے بعدسرکاری نتائج کا اعلان کیا جانے لگا۔ اس باریک کام کا کسی کو تصور تک نہ تھا مگر ہر پارٹی نے بیک زبان دھاندلی دھاندلی کا شور مچا دیا ، جیتنے والے بھی چیخ چلا رہے تھے اور ہارنے والے بھی شور مچانے میں پیچھے نہ تھے، مگر کمپیوٹروں کے سامنے ہر کوئی بے بس تھا۔ اور دھاندلی زدہ نتائج کی رو سے حکومتیں بن گئیں مگر عمران خان نے شور مچانا بند نہ کیا۔ دھاندلی کے الزام کی حد تک وہ سچا تھا مگر اسے یہ پتہ نہیں تھا کہ دھاندلی کے لئے باریک کام کیا گیا ہے، وہ تھیلے کھولنے کا مطالبہ کرتا رہا ، تھیلے کھل بھی جاتے تو نتائج وہی رہتے جو کمپیوٹر سے برآمد ہوئے تھے۔اس الیکشن میں دو ہزار تیرہ کے تجربے کو ہی آزمایا گیا مگر قوم کو فریب دینے کے لئے پہلے سے موجودآر ایم ایس کے ساتھ ایک ا ور سسٹم بھی تیار کروایا گیا،اسے نادراسے تیار کروایا گیا، نادرا سے کہا گیا کہ و ہ رزلٹ ٹرانسمشن سسٹم( آر ٹی ایس) بنا کر دے ۔یہ معاہدہ الیکشن کمشن اور نادرا دونوں کے پاس موجود ہونا چاہیئے۔ اس معاہدے کی ٹرم آف ریفرنس بھی واضح طور پر درج کئے گئے ہوں گے کہ نادرا کے آر ٹی ایس کی بنیاد پر کسی سرکاری نتیجے کا اعلان نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کے ذریعے حاصل کیا جانے والا ڈیٹا آر ایم ایس میں الیکشن کمیشن کا عملہ خود فیڈ کرے گا اور اسی کے پیش نظر سرکاری اعلانات ہوں گے۔ اب آپ یہ پوچھیں گے کہ آر ٹی ایس کیا تھا،آیئے یہ بھی بتا دوں۔ نادرانے ایک ایپلی کیشن بنائی جسے الیکشن عملے کے ہر سطح کے اہل کاروں کے موبائل فون میں لوڈ کیا گیا، ا س ایپلی کیشن کو چلانے کی تربیت ریٹرننگ افسر کو بھی دی گئی، پریزائڈنگ افسر کو بھی دی گئی اور اسسٹنٹ پریذائنڈنگ افسر کو بھی دی گئی۔ اس عملے نے گنتی مکمل ہونے کے بعد فارم پینتالیس الیکشن کمیشن کے آر ٹی ایس سرور میں بھیجنا تھا، اور یہی فارم امیدوار یا اسکے پولنگ ایجنٹ کو تصدیق شدہ دینا تھا۔ مجھے ان الزامات سے کوئی سروکار نہیں کہ یہ فارم امیدوار یااس کے پولنگ ایجنٹ کو دیا گیا یا نہیں ، میری بحث کا دائرہ یہ ہے کہ کیا یہ فارم آرٹی ایس میں بھیجا گیا اورا سے ا ٓر ایم ایس میں فیڈ کیا گیا۔ میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا، خود الیکشن کمیشن کے سیکرٹری نے آدھی رات کو ایک بریفنگ میں اعلان کیا کہ ان کا آر ایم ایس بیٹھ گیا ہے اور اب نتائج کے حصول کا روایتی طریقہ استعمال کیا جائے گا یعنی فوجی گاڑیوں کے ذریعے یہ نتائج ریٹرننگ آفیسر اوراس سے آگے الیکشن کمیشن تک پہنچانے کا عمل شروع کیا جائے گا، سیکرٹری صاحب نے یہ اعلان بھی کیا کہ اب حتمی نتائج کے اعلان میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ مگرآج تک کسی ذمے دار نے یہ نہیں بتایا کہ آر ایم ایس کیوں بیٹھا، میںنے آئی ٹی کے ماہرین سے بات چیت کی کہ الیکش کمشن کا آر ایم ایس جو یو این ڈی پی سے حاصل کیا گیا تھا، کیوں کریش کر گیا۔ ماہرین نے مجھے اس کی کئی ایک وجوہات بتائی ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس کمپیوٹر کی بجلی بند کر دی جائے، دوسرے اس کا انٹر نیٹ کنکشن منقطع کر دیا جائے، تیسرے اس پر ڈاس حملہ ہو جائے، یہ حملہ اندرون ملک سے کرنے کی ہمت کسی میں نہیں کیونکہ ا سے پکڑنے کے لئے صرف پندرہ منٹ درکار تھے، لا محالہ یہ حملہ بیرون ملک سے کیا گیا، جس میںکوئی شخص یا ادارہ یا حکومت اصلی یا جعلی آئی پی ایڈریس کو استعما ل کرے ، اس کی تہہ تک بھی پہنچا جا سکتا ہے مگر مجرم کوسزا نہیں دی جا سکتی۔ کیونکہ وہ ہماری قانونی دسترس میں نہیں ہوتا، میں نے آئی ٹی کے ماہرین سے یہ بھی استفسار کیا ہے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ مختلف شہروں ، قصبوں اور دور دراز کے دیہات میں کمزور انٹر نیٹ کی وجہ سے نتائج نہ بھیجے جا سکے ہوں یا دور دراز مقامات پر انٹر نیٹ اور وائی فائی کنکشن دستیاب ہی نہ ہو، جو ماہرین چار عشروں سے انٹرنیٹ کے کاروبار میں ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ کمزور ترین انٹرنیٹ کنکشن کے ذریعے بھی فارم پینتالیس کی تصویرکو بلا تاخیر اپ لوڈ کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر آگے سے کسی نے جان بوجھ کر کمپیوٹر ہی بند کر دیا ہو یا اسے ہائی جیک کر لیا گیا ہو تو پھر آپ جتنامرضی زور لگالیں ،فارم کو کمپیوٹر پر لوڈ نہیں کیا جا سکتا۔
آیئے یہ دیکھیں کہ کمپیوٹر کی ہیکنگ یا اس میں کسی بھی فنی خرابی کے پیش نظر متبادل انتظامات کیا کئے جا سکتے تھے، گوگل کے درجنوں سرور دنیا کے مختلف ملکوں میںموجود ہیں، ایک بندہو جائے توصارف خود بخود دوسرے سرور پر منتقل ہو جاتا ہے، کریش ہونے یا ہائی جیک ہونے کے چانسز بہت زیادہ ہوتے ہیں ،اسی لئے متبادل سسٹم اور ڈیٹا ریکوری کا سسٹم تیار رکھا جاتا ہے۔اسے اسٹینڈ بائی نظام کہا جاتا ہے ، انٹر نیٹ کنکشن مختلف کمپنیوں سے لیا جاتا ہے تاکہ ایک کنکشن کمزور پڑے تو دوسرا یا تیسرا کنکشن استعمال میں لے آئیں۔ کوئی بھی پلان بناتے ہوئے کئی امکانات پیش نظر رکھے جاتے ہیں ۔
سوال یہ ہے کہ کیا الیکشن کمیشن نے سسٹم کے کریش ہونے پر کوئی تحقیقات کی ہیں اور اگر کی ہیں تو کیا ان کے نتائج قوم کے سامنے رکھے ہیں۔
میں یہ سوال بار بار اٹھا چکا ہوں کہ جب رزلٹ ا میدوار اورا سکے پولنگ ایجنٹ تک کو دیا ہی نہیں گیا تو ہمارے تین درجن کے قریب نیوز چینل کو کہاں سے الہام ہو رہا تھا کہ فلاں جیت رہا ہے اور فلاں ہا ررہا ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ الیکشن کی رات کو الیکشن کمیشن اور ریٹرنگ افسروں کے زیر استعمال فون سیٹ اور نیوز چینلز کے زیر استعمال فون سیٹ کا فرانزک ٹیسٹ کر لیا جائے تو پتہ چل جائے گا کہ الیکشن نتائج میں تاخیر یا رکاوٹ یا دھاندلی کا ذمے دار کون ہے۔جب سیکرٹری الیکشن کمیشن خود شروع ہی میں کہہ چکے تھے کہ بیرونی مداخلت کا خطرہ ہے تو انہوں نے اپنے سسٹم کی فول پروف سیکورٹی کے لئے کیا انتظا مات کئے۔مجھے تو واضح طور پر نظر آ رہا ہے کہ جن ممالک کے سفیروں کا بنی گالہ میں تانتابندھا ہے، کیا معلوم ان میں سے کسی کے ملک نے مداخلت کر کے مرضی کے نتائج مرتب کئے ہوں اور اسوقت ان کی باچھیں کھلی نظر آتی ہیں، ہر سفیر کے تھیلے میں ایک ارب ڈالر کی سوغات بھی ہے۔
پنجاب آئی ٹی بورڈ کے ڈاکٹر عمر سیف واضح کر چکے ہیں کہ جب کئی ماہ قبل ان سے سسٹم پر رائے مانگی گئی تھی تو انہوںنے تحریری طور پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
سوال یہ بھی ہے کہ نادرا سے آر ایم ایس کیوںنہ بنوایا گیا، اسے صرف آرٹی ایس تک محدود کیوں رکھا گیا، مبینہ طور پر نادرا سے کہا گیا تھا کہ ہمیں آپ کے سسٹم کی ضرورت صرف رات دس بجے تک ہے اور ہم اس کے ذریعے نتائج کے رجحان کا اندازہ کرنا چاہتے ہیں ، اگر یہ درست ہے تو دس بجے تک کے نتائج کو پیش نظر رکھ کر بعد میں آر ایم ایس کو بند کر کے سکون کے ساتھ نتائج مرتب کئے گئے، یا کسی غیر ملکی ادارے نے یہ شرارت کی ہو تو دس بجے تک قوم کا ذہن ایک مخصوص پارٹی کے حق میں تیار کر لیا گیا تھا کہ جب ایک یا دودن بعد سرکاری نتائج کا اعلان ہو تو عوام انہیں بلا چون و چراقبول کریں۔
میں اپنے اگلے کالموں میں مزید بتائوں گا کہ کس طرح سابقہ پارلیمنٹ نے ایک ادارے کے طور پراس دھاندلی کا راستہ ہموار کیا تھا۔ اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔
الیکشن کمیشن کے کمپیوٹر میں کیا خرابی ہوئی، کس وقت ہوئی، اس گتھی کو صرف پی ٹی سی ایل سلجھا سکتا ہے جس کے کیشے Cacheمیں ساری لاگ موجود ہے۔