خبرنامہ

پانی کا تذکرہ در تذکرہ…اسداللہ غالب

کوئٹہ چرچ

پانی پانی کا شور مچانے سے پانی نہیں مل سکتا مگر چیف جسٹس نے یہ تو احسان کیا ہے کہ جو کام ان کی ذمے داری میں شامل نہ تھا، اس کا بیڑہ اٹھایا اورسوئی ہوئی قوم کو پانی کی کمیابی کے سنگین مسئلے پر سوچ بچار پر مجبور کیا ۔ وہ بنانا تو چاہتے تھے کالا باغ ڈیم مگر سیاسی مخالفت کی وجہ سے انہپوں نے بھاشہ اور مہمند کے لئے فنڈقائم کر دیا۔
اب پانی کے مسئلے پر غورو خوض کے لئے انہوں نے ایک بڑی کانفرنس منعقد کی جہاں سے ان کی ہیڈ لائینیں چھپی ہیں کہ پاکستان نے چالیس برس تک مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا اور اب بھی کچھ نہ کیا گیا تو سات برس بعد پاکستان خشک سالی کا شکار ہو جائے گا۔
مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ حکومتوں اور سیاست دانوں نے تو ضرور کیا مگر میرے مرشد محترم مجید نظامی اس مسئلے پر لکھتے رہے،بولتے رہے، کانفرنسیں کرتے رہے ان کے علاوہ حافظ محمدسعید نے بھارت کی آبی دہشت گردی کا مسئلہ ہمیشہ قوم کے سامنے رکھا۔ ساتھ ہی ساتھ بعض آبی ماہریں جن میں جناب شمس الملک شامل ہیں، اس مسئلے کی طرف قوم کو متوجہ کرتے رہے ۔ میں خود پچھلے دو برس سے متواتر پانی کی کمی اور بھارتی آبی جارحیت پر دوسو سے زائد کالم تحریر کر چکا ہوں۔، کوئی دن خالی نہیں جاتا جب نوائے وقت میں پانی کے مسئلے پر مضمون نہ شائع ہوتا ہو۔ اس لئے غفلت جنہوں نے برتی، انہوں نے برتی اور ان کا کوئی احتساب کرنے والا نہیں ۔ اور حافظ سعید اگر بھارت کی آبی جارحیت کی بات کرتے تھے تو ہم نے انہیں ڈرا دھمکا کرا ور کئی طرح کی پابندیوں سے خاموش کرا دیا۔
پانی کے مسئلے پر کئی حوالوں سے بات کی جا سکتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ چالیس برس سے غفلت برتی گئی مگر اسی ملک میں یہ کہنے والے موجود ہیں کہ چالیس برس قبل فیلڈ مارش ایوب خان نے سندھ طاس کے معاہدے پر دستخط کئے تھے تو یہ پاکستان کے ساتھ مجرمانہ سلوک تھا۔ یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ایوب خان سندھ طاس معاہدہ کے حق میں نہیں تھے مگر عالمی بنک کے صدر یوجین بلیک بذات خود پاکستان میں وارد ہوئے اور فیلڈ مارشل کو دھمکی دی کہ اگر دستخط نہیں کرو گے تو بھارت کے ساتھ جنگ کے لئے تیار ہو جاؤ، اگر یہ بات سچ ہے کہ یہ دھمکی دی گئی اورایک فیلڈ مارشل اس دھنکی سے ڈر گیا تو یہ کوئی انہونی بات نہیں ۔ نائن الیون کے بعد اسی طرح کی دھمکی امریکہ نے چیف مارشل لا ایڈ منسٹریٹر اور�آرمی چیف جنرل مشرف کو دی تھی ا ور وہ بھیگی بلی بن گئے اور امریکی دھمکی میں آ گئے۔ اگر ہمارے دو طاقت ورآرمی چیف جنگ کی دھمکی سے ڈر جائیں تو یہ لمحہ فکریہ ہے کہ آرمی چیف تو ہوتا ہی جنگ کا سامنا کرنے کے لئے ہے ۔
سندھ طاس کا معاہدہ سراسر پاکستان کے مفاد کے خلاف تھا۔ ا س معاہدے نے پاکستان کے دو دریا ستلج اور راوی کلی طور پر بھارت کو بخش دیئے۔ دنیا میں آبی معاہدے ہوئے مگر کسی معاہدے میں کسی ایک دریا کے کلی حقوق کسی ایک ملک کودان نہیں کئے گئے۔ یورپ، افریقہ، ایشیا میں کئی آبی معاہدے ہوئے اور ان میں تمام دریاؤں پر ہر ملک کو حق دیا گیا۔
اگلا ظلم پھر ہماری غفلت کی وجہ سے ہو اکہ ہمیں جو دو دریا جہلم اور چناب ملے تھے ، ہم نے ان کے سلسلے میں اپنے مفاد کی حفاظت نہیں کی۔ نہ ہم بھارت کی چیرہ دستی کے خلاف عالمی بنک میں اپیل کے لئے گئے اور نہ اپنی فوجی اور ایٹمی طاقت سے بھارت کو ان دریاؤں کا پانی پتھیانے سے روک سکے۔ نتیجہ یہ ہے کہ یہ دونوں دریا بھی آہستہ آہستہ بھارت کے تسلط میں جا رہے ہیں۔ رہ گیا ایک دریا ئے سندھ تو ہم بھاشہ کی بات چھیڑتے ہیں اور ادھر بھارت واویلا مچا دیتا ہے کہ یہ کشمیر کے متنازعہ علاقہ میں ہے۔ بھارت کی دیکھا دیکھی امریکہ بھی یہی راگ الاپتا ہے اور عالمی مالیاتی ادارے ہو اکا رخ دیکھ کر بھاشہ کے لئے فنڈنگ سے انکار کر دیتے ہیں۔ اب بتایئے کہ ہم مستقبل میں مجرمانہ غفلت سے کیسے بچیں گے۔ کیونکہ کوئی صورت نظر نہیں آتی کہ بھارت اور امریکہ ہمیں بھاشہ بھی بنانے دیں گے یا نہیں۔بھاشہ کی مخالفت کی ایک وجہ سی پیک کے چینی منصوبے کو نقصان پہنچانا ہے۔ چین ہمارا دوست ضرور ہے۔ اسے سی پیک بھی بے حد عزیز ہے مگر کسی جنگی تنازعے میں وہ ہماری مدد کے لئے اپنی فوج نہیں جھونکے گا۔جہاں تک ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کا تعلق ہے تو اس کے لئے وہ صرف سی پیک کا محتاج نہیں، اس نے تین براعظموں تک تجارتی رسائی کے کئی متبادل روٹ بنا رکھے ہیں اور ان پروہ تیزی سے کام کرہا ہے۔
ڈیموں کی ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے اور وہ بھی پاکستان کے اندر کہ امریکہ اپنے ہاں ڈیموں کومسمار کرہا ہے۔اس لئے کہ ڈیم بنا لینے سے پانی کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ اصل مسئلہ پانی کے صحیح استعمال کا ہے۔ اس لابی کا کہنا ہے کہ جتنے پیسوں میں ہم ایک ڈیم بناتے ہیں، اتنے پیسوں میں ہم اس ڈیم سے کئی گنا زیادہ فوائد دیگر پراجیلٹ کو چلا کر حاصل کر سکتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جس قدر پانی ہم اپنے تمام مجوزہ ڈیموں میں جمع کر سکتے ہیں، اس سے کئی سو گنا زیادہ پانی ہم برسوں سے ضائع کئے چلے جا رہے ہیں،۔ ان لوگوں کے نزدیک پانی کا ذخیرہ کرنے کے بجائے اس کی مینجمنٹ بہتر کر کے ہم پانی کے قحط سے بچ سکتے ہیں۔ اب اس نظریئے پر ہمارے ماہرین ہی کوئی فیصلہ دے سکتے ہیں۔
ہماری ایک مجبوری یہ ہے کہ حکومت کا خزانہ خالی ہے اورا س نے صاف کہہ دیا ہے کہ وہ بجٹ کے اندر سے کوئی ڈیم نہیں بنا سکتی۔ اس کے لئے چیف جسٹس پہلے ہی چندے کی اپیل کر چکے ہیں اور وزیر اعظم نے بھی قوم کے مخیر طبقے اور بیرون ملک پاکستانیوں سے کہا ہے کہ وہ دل کھول کر عطیات دیں۔مگر صاف ظاہر ہے کہ کھربوں کا منصوبہ کسی چندے سے نہیں بن سکتا مگر میں چندے کی اپیل کی مخالفت بھی نہیں کروں گا کیونکہ کچھ کرنا، کچھ نہ کرنے سے بہر حال بہتر ہے۔
ایک سوال یہ ہے کہ اگر ہم نے ڈیم نہ بنائے تو کب تک خشک سالی کا شکار ہو جائیں گے۔ احسن قبال نے کہا تھا کہ سن دو ہزر چودہ میں۔ اور چیف جسٹس کے خیال میں سن دو ہزار پچیس تک۔ دوسری طرف بھارت کا نعرہ ہے ہے بوند بوند کو ترسے گا پاکستان۔ پیاسا مرے گا پاکستان ، قبرستان بنے گا پاکستان۔بھارت کے مذموم عزائم واضح ہیں۔ ہمارے عزائم کیا ہیں۔اقبال کہتا ہے کہ عزائم کو سینوں میں بیدار کر۔ یہ کام چیف جسٹس صاحب کر رہے ہیں۔قوم کے اندر تو عزم پیدا ہو گیا ہے مگر قوم کے لیڈروں کے اندر عزم کیسے پیدا ہو گا۔ وہ تو کہتے ہیں کہ بارشوں ا ور سیلابوں کا پانی بے شک بحیرہ عرب میں گرتا چلا جائے ، اس سے آبی حیات کی افزائش ہو گی اور ہمارے ماہی گیر بھوکے نہیں مریں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا چند سو یا چند ہزار ماہی گیروں کی خاطر باقی بیس کروڑ عوام کو پیاسا مرنے دیا جائے، اس میں کونسی دانائی ہے۔کسی وقت ہماری پارلیمنٹ اس پر بھی کوئی کمیٹی قائم کرے۔ چیف جسٹس نے ایک کانفرنس کاا ہتما م کیا ہے، ہماری فوج بھی اس پر ماہرین کی ایک کانفرنس بلائے ۔اس فوج کا�آئینی فریضہ ہے کہ داخلی اور خارجی دونوں خطرات کا اسے مقابلہ کرنا ہے تو پانی کے سنگین بحران سے بڑھ کر اور داخلی خطرہ کیا ہو سکتا ہے۔ دہشت گردی سے بڑی حد تک فوج کامیابی سے نبٹ چکی ہے ۔ اب کیا ہی بہتر ہو کہ وہ پانی کے ایجنڈے پر کام کرے۔اور قوم کواس قیامت سے نجات دلائے جوہمارے سروں پرمنڈلا رہی ہے۔سی پیک کی حفاظت کے لئے ایک ڈویژن کھڑا کرنے سے پہلے ایک ڈویژن نیا کھڑا کر کے پانی کے قحط پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔خدانخواستہ بنجر پاکستان ،ریگستان پاکستان، بے �آب و گیاہ پاکستان ، قبرستان پاکستان کو اور کیا خطرہ درپیش ہو سکتا ہے۔
آج زیر زمین پانی کو مفت کا مال سمجھ کر بوتلوں میں بیچا جا رہا ہے۔کل کو شاید کیپسول بنانے پڑیں۔جو لوگ یہ پانی نہیں خرید سکتے وہ سرکاری ٹینکیوں کا پانی پیتے ہیں، نہروں کا پانی پیتے ہیں۔ آلودہ پانی موذی بیماریاں پھیلا رہا ہے۔ہیپاٹائٹس، معدے ،انتڑیوں کا کینسر، گردے، جگر اور مثانے کا کینسر۔ لوگ دھڑا دھڑ مر رہے ہیں۔ تھر میں پانی کی بوند تک نہ ملنے سے بچے روز مر رہے ہیں۔
کیا ہماری قسمت میں موت لکھ دی گئی ہے۔