خبرنامہ

پاکستان پر پابندیوں سے امریکی نقصانات۔۔اسد اللہ غالب

پاکستان پر پابندیوں سے امریکی نقصانات۔۔اسد اللہ غالب
وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے امریکہ کو وارننگ دی ہے کہ اگر اس نے پاکستان پر کسی قسم کی پابندیاں عائد کرنے کی کوشش کی تو اس سے خود امریکہ ہی کو نقصانات لاحق ہوں گے۔ پاکستان کو بے دست و پا کرنے سے دہشت گردی کی جنگ کا محاذ سرد پڑ جائے گااور علاقے میں دہشت گرد دندناتے پھریں گے، پہلے ہی افغانستان اور بھارت واویلا مچا رہے ہیں ، پھر تو وہ دہشت گردوں کے رحم و کرم پر ہوں گے۔اسی طرح پاکستان اپنی دفاعی ضروریات پوری کرنے کے لئے چین اور روس سے رجوع کر سکتا ہے جس سے امریکہ کو تجارتی خسارہ برداشت کرنا پڑے گا، پاکستان کو بہر حال اپنی دفاعی ضروریات پوری کرنی ہیں اور اس کے لئے روس اور چین ہی متبال ذرائع موجود ہوں گے، ان ممالک کی اس طرح کی کوئی شرائط نہیں جو امریکہ اور نیٹو ممالک نے پاکستان پر عائد کرنے کے لئے کہہ دیا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کے پالیسی بیان کو ایک بار پھر سے پڑھ لیجئے، اس میں پاکستان کو دی جانے والی دھمکیوں کو مخفی یا مبہم رکھنے کی قطعی کوشش نہیں کی گئی۔بلکہ پاکستان کے بلا کیڈ، پاکستان پر بلا اطلاع سرجیکل اسٹرائیکس اور ایف سولہ کی سپلائی روکنے تک کی دھمکیاں کھلے الفاظ میں دی گئی ہیں۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ امریکی صدر کا دماغ چل گیا ہے ا ور وہ ہر معاملے میں انتہا پسندانہ سوچ رکھتے ہیں مگر پاکستان کے خلاف انہیں سوچ سمجھ کر بات کرنا چاہئے تھی، پاکستان اس کی ذیلی یا باجگزار ریاست نہیں ، یہ ایک ایٹمی طاقت ہے اور اسے اپنے اقتدارا علی کا تحفظ کرنا آتا ہے۔ امریکی صدر پر واضح رہنا چاہیئے کہ پاکستان کو گیدڑ بھبکیوں سے خوف زدہ نہیں کیا جاسکتا ، پاکستانی قوم نے امریکی پابندیوں کے باوجود اپنے ایٹمی ا ور میزائل پروگرام کو پروان چڑھایا، پاکستانی قوم نے ثابت کیا کہ وہ نڈر ہے اور دنیا اسے بزدل نہیں بنا سکتی۔
اس وقت امریکہ کی تھلتھلاہٹ کا اصل سبب سی پیک کا عظیم الشان منصوبہ ہے جس کے ذریعے چین جیسی سپر طاقت دنیا کے تین بر اعظموں کو تجارت کے لئے مربوط کر سکتی ہے، اس لحاظ سے سی پیک گیم چینجر ثابت ہو گا۔
امریکہ کے غصے کی ایک وجہ اس کی افغان پالیسی کی ناکامی ہے، امریکہ نے اس سے پہلے عراق کو تاراج کیا، اس کا فالودہ بنا کے رکھ دیاا ور اسے لہو لہان کر دیا، اس کے ساتھ ساتھ وہ پچھلے پندرہ برس سے افغانستان کے پیچھے ہاتھ دھو کے پڑا ہوا ہے، امریکہ نے کئی بار کہا کہ وہ کابل سے واپس جارہا ہے مگر انخلا کی تاریخ قریب آتی ہے تو وہ مزید افواج بھیجنے کاا علان کر دیتا ہے، امریکہ نے ویت نام میں بھی طاقت استعما ل کر کے دیکھ لی، یہ ہتھکنڈے اس کے کہیں کام نہیں آئے ،اب وہ کابل میں ڈیرے ڈالے بیٹھا ہے اورا س کی وجہ صرف ایک ہے کہ وہ ایک ایسے علاقے کو عدم استحکام سے دوچار رکھنا چاہتا ہے جس پر دنیا کے تین بر اعظموں کی معاشی ترقی کا انحصار ہے۔
پاکستان کے بازو مروڑنے کی کوشش پہلی بار نہیں کی جا رہی، یہ عمل باربار دہرایا جا تارہا ہے مگر پاکستان نے ہر بار ثابت کیا کہ یہ لوہے کا چنا ہے۔ امریکہ نہ اسے نگل سکتا ہے، نہ اگل سکتا ہے۔
مجھے یاد ہے کہ سن دو ہزار میں پاک بھارت ایڈیٹروں کے ایک آٹھ رکنی وفد کو امریکہ بلایا گیا، اس وفد میں میں اور جاوید صدیق شامل تھے۔ ہمیں جس کسی نے بریفنگ دی، اس کی تان اس نکتے پر آن کرٹوٹتی کہ بھارت کے پاس ایک وسیع تجارتی منڈی ہے اور پاکستان کی معاشی اعتبار سے کوئی ویلیو نہیں۔مگر ایک سال بعد ہی نائن الیون کے حوادث رونماہوئے اور یکا یک امریکہ کو پاکستان کی اسٹریٹیجک ضرورت پڑ گئی۔ امریکہ نے پاکستان کے نخرے اٹھائے، وہ آج کہتا ہے کہ پاکستان پیسے کھا گیا مگر یہ پیسے امریکہ نے کیوں دیئے تھے، ظاہر ہے اسے پاکستان کی خدمات کی ضرورت تھی اوروہ پاکستانی قوم کو قربانی کے بکروں کے طور پر استعمال کرنا چاہتا تھا۔ مگر پاکستان نے اپنے مفاد کے لئے دہشت گردوں کا تو خاتمہ کیا ، اس سے ا ٓگے پاکستان نے افغانستان کی جنگ لڑنے سے ہمیشہ انکار کیا۔ امریکہ چاہتا ہے کہ اس کی فوج کابل میں قلعہ بند رہے اور افغانیوں کے خلاف پاکستان لڑے، بھائی، پاکستان اپنے افغان بھائیوں کے خلاف کیوں لڑے، اسے تو یہیں رہنا ہے، افغانیوں کی ہمسائیگی میں رہنا ہے ، اس لئے وہ اپنے ہمسائیوں سے لڑ بھڑ نہیں سکتا، پاکستان کی یہ سوچ امریکہ کو سخت نا پسند ہے اور وہ ڈرانے دھمکانے پر اتر آیا ہے۔
کس قدر ستم ظریفی کی بات ہے کہ امریکہ پاکستان کی حالیہ اور ماضی کی بے مثال قربانیوں کو پس پشت ڈال رہا ہے، اس میں کون شک کر سکتا ہے کہ سوویت روس نے افغانستان پر یلغار کی ا ور اس کی کوشش تھی کہ وہ بحیرہ عرب کے گرم پانیوں تک پہنچنے کی خواہش کی تکمیل کے لئے گوادر پر قابض ہو جائے ۔ پاکستان کے مجاہدین نے اس سپر پاور کے مذموم عزائم کو نہ صرف ناکام بنا دیا بلکہ سوویت روس کو بھی پارہ پارہ کیا جس سے دنیا میں کمیونزم کے فروغ کا خطرہ ٹل گیا۔نائن الیون کے بعد سے پاکستان نے دہشت گردی کی عالمی جنگ کا حصہ بن کر لا زوال قربانیاں دیں۔اب تک ایک لاکھ کے قریب عام لوگ اور فوجی افسرا ور جوان شہید ہو چکے ہیں، پاکستان کی معیشت کو کھربوں ڈالر کا نقصان پہنچ چکا ہے۔ان قربانیوں کو فراموش کرنا ایک المیہ ہے، آج امریکہ اگر پاکستان کو پس پردہ دھکیل رہا ہے تو کل کو امریکہ کی ا س بے وفائی کے پیش نظر کوئی ا ور ملک امریکہ کے ساتھ کہیںبھی کھڑا ہونے سے انکار کر دے گا، امریکہ یہ نقصان برداشت نہیںکر سکتا، وہ ایک عالمی تنہائی کا شکار ہو جائے گا۔امریکہ کو پاکستان پر غضب ڈھانے سے پہلے سودو زیاں کا خوب حساب کر لینا چاہئے۔