خبرنامہ

پاک امریکہ کشمکش، جنرل جاوید کا بے خوف تجزیہ…..کالم اسداللہ غالب

اس وقت جب کئی پاکستانی امریکی دھمکیوں سے سہمے ہوئے ہیں جنرل محمد جاوید ان لوگوں میں سے ہیں جو حوصلے میں ہیں۔ہفتے کے روز میں نے اپنی بڑی بھابھی زینب کی عیادت کی ، وہ چھہتر برس کی ہیں، ان کے گلے اور آنکھوں کے آپریشن ہوئے ہیں، ان کی دو بیٹیاں زاہدہ اور ساجدہ ان کی خبر گیری کے لئے پاس موجود تھیں، بڑا بیٹا کوریا میں تھا ا ور وہاں سے اسے بحرا لکاہل کے اوپرسے طویل پرواز کرتے ہوئے کینیڈا میں مقیم اپنے بچوں کے ساتھ عید منانے پہنچنا ہے۔ باقی بچے اپنی اپنی سرگرمیوں مصروف میں میری دونوں بھتیجیاں زیادہ پڑھی لکھی نہیں، اس لئے کہ ان کے باپ کاعالم شباب میں ایک حادثے میں کمر کا مہرہ ٹوٹ گیا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ بیس بائیس برس مفلوج ہو کر چارپائی سے چپکے رہے۔ میری بھتیجیوںنے مجھے اخبار والا سمجھ کر پوچھا کہ یہ امریکہ کیوں دھمکیاں دے رہا ہے اور ہمارا کیا حشر ہونے والا ہے۔ میں تو پہلے ہی سے خوف زدہ تھا، دراصل ہمارے خاندان نے انیس سو چون، انیس سو پینسٹھ ا ور انیس سو اکہتر کی تین جنگیں دیکھی ہی نہیں، بھگتی بھی ہیں، چون کی جنگ صرف ہمارے گائوں کے سامنے ہوئی، یہ رات بھر کی جھڑپ تھی مگر ہم لوگ کوئی تین ماہ تک آئی ڈی پی مہاجر بن کربارڈر سے دور اپنے رشتے داروں کے پاس چلے گئے تھے۔یہ ہے ہمارے خوف کا پس منظر۔ میں نے سوچا کہ کسی باخبر شخص سے رجوع کروں ۔جنرل محمد جاوید کو فون کیا، فون تواور بھی کئی ریٹائرڈ جرنیلوںکو کئے مگر کسی نے فون اٹھایا نہیں۔ جنرل جاوید سے میںنے صورت حال کی سنگینی پر تبصرے کی درخواست کی۔ وہ ہنسے اور کہنے لگے کہ انہیں تو کسی غیر معمولی خطرے والی بات نظر نہیں آتی۔امریکہ کی عادت ہے کہ وقفے وقفے سے تڑیاں لگاتا رہتا ہے، اب نئے صدر آئے ہیں، ویسے بھی وہ ٹیڑھے پن کا شکار ہیں اور صدارت سنبھالنے کے بعد انہیں بہر حال ہر معاملے پر بولنا ہے، اس لئے انہوںنے اسی معمول میں افغان پالیسی کو واضح کرنے کی کوشش کی، اب پاکستان بھی افغانستان کی صورت حال سے جڑا ہوا ہے،ا سلئے صدر ٹرمپ نے ہمارے بارے میں بھی لب کشائی ضروری سمجھی ہے تو کیا معاملہ بس اسی حد تک ہے میںنے پوچھا۔ہاں ، اسی حد تک ہے مگر امریکہ درا صل اس کوشش میں ہے کہ کسی طرح اسے افغانستان کی مصیبت سے خلاصی ملے۔ یہ بلااس کے گلے کا طوق بن کر رہ گئی ہے، وہ چاہتا ہے کہ افغان امن مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو، پاکستان اس کی مدد کرے اور افغان طالبان پر بھی سارا دبائو یہی ہے کہ وہ بندے کے پتر بنیں بلکہ اچھے بچوں کی طرح مذاکرات کی میز پر بیٹھیں۔ ان مذاکرات کے لئے امریکہ نے ایک بلیم گیم شروع کرر کھی ہے تاکہ پاکستان اور افغان طالبان دبائو میں آ کر بات چیت پر آمادہ ہو جائیں۔

مگر امریکہ تو سرجیکل اسٹرائیکس کی دھمکیاں دے رہاہے ا ور وہ بھی بلا اطلاع میں نے سوال کیا۔ جنرل جاوید نے انتہائی ٹھنڈے لہجے میں کہا کہ امریکہ کی نیت لڑنے کی ہر گز نہیں ، پاکستان تو اس سے لڑنے کی پوزیشن میں ہی نہیں، نہ لڑنا اس کے عزائم میں شامل ہے زیادہ سے زیادہ یہ خدشہ ہے کہ امریکی ڈرون حملوں میں تیزی ا ور شدت آ جائے۔کیا یہ حملے لاہور اور مریدکے پر بھی ہو سکتے ہیں،میرا سوال تھا۔ امریکہ اس قدر پاگل نہیں ہے کہ پاکستان کے اندر تک آن گھسے وہ اس کے لئے بھارت کو استعمال کر سکتا ہے مگر میں یقین سے کہتا ہوں کہ لڑائی بھارت بھی نہیں چاہتا۔ لاہور یا مریدکے پر سرجیکل اسٹرائیک پاکستان کے خلاف اعلان جنگ کے مترادف ہے اور بھارت کو اچھی طرح علم ہے کہ پاکستان کس زبان میں جواب دے گا، ویسے بھی لاہور اور مرید کے کا تعلق افغان مسئلے سے نہیں ، اس لئے ان مقامات سے چھیڑ چھاڑ کو میں رول آئوٹ کرتا ہوں۔
جنرل صاحب، پاکستانی وزیر امریکہ نہیں جا رہے، امریکی وزیر کو پاکستان آنے سے روک دیا گیا ہے ا ور آپ ٹھنڈی ٹھار باتیں کر رہے ہیں میںنے جھلا کر پوچھا۔ ٹھیک ہے یہ اچھے اشارے نہیں مگر پاکستان کو اپنا غصہ دکھانے کا حق حاصل ہے جنرل صاحب نے پر سکون انداز میں جواب دیا۔ میرا حوصلہ جواب دے رہا تھا، میںنے پوچھا کہ یہ جو جنرل نکلسن ہے، وہ تو کہہ رہا ہے کہ انہیں پشاوراور کوئٹہ میں طالبان قیادت کی موجودگی کا علم ہے، تو کیا وہ ان کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ جنرل صاحب نے پھر دھیمے لہجے میں کہا کہ امریکی جنرل نے معلومات کی بات کی ہے، کسی ارادے کا اظہار نہیں کیا اور طالبان شوریٰ کی موجودگی پاکستان میں ہمیشہ سے رہی ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو طالبان امریکی، نیٹو یا افغان فورسز سے لڑتے ہیں، وہ پشاور یا کوئٹہ سے وہاں جاتے ہیں، ان شہروں میں صرف ان کی قیادت ہے اور وہ پاکستان کی متعین کردہ حدود و قیود کے اندر یہاں رہ رہے ہیں وہ اس سے تجاوز نہیں کر سکتے اور نہ انہوںنے کبھی ان سے تجاوز کیا ہے۔پاکستان نے یہ جو جوابی دھمکی دی ہے کہ افغانستان کی لڑائی پاکستان کی سرزمین پر نہیںلڑی جا سکتی، اس کا مطلب کیا ہے ، میںنے وضاحت چاہی۔ مطلب یہ ہے کہ اگر حقانی نیٹ ورک کے کچھ عناصر پاکستان کے اندر موجود بھی ہوں تو نہ پاکستان ان کے خلاف جنگ چھیڑے گا ، نہ امریکہ کو اس امر کی اجازت دے گا کہ وہ ہمارے اندر گھس کر ان کے خلاف لڑائی چھیڑ دیں۔ امریکہ نے ان کے خلاف جو کرناہے ، وہ افغانستان کی حدود میں کرے، انہیں سرحد پر روکے نہ وہاں جانے دے، نہ وہاں سے ہمارے یہاں آنے دے۔امریکہ اپنا بارڈر سیل کرے۔آخر یہی ٹرمپ صاحب میکسیکو کی سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کا اعلان کر رہے ہیں، یہ تو نہیں کہہ رہے کہ وہ میکسیکو کے اندر جا کر وہاں کے لوگوں کو ماریں گے۔یہ بھی واضح رہے کہ پاکستان ایک عرصے سے پراکسی جنگوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے، ایران سے بھی ہر قسم کے عناصر پاکستان آ چکے ہیں،برما سے بھی ، سری لنکا سے بھی، اردن اور فلسطین سے بھی، جن ملکوں میں حکومت کسی خاص طبقے کو نشانہ بناتی ہے، وہاں کے لوگ جان بچانے کے لئے پاکستا ن کا رخ کرتے رہے ہیں اور ان کا تعاقب کرنے والے بھی یہاںموجود ہیں ۔انہوںنے اپنی جنگیں ہماری سرزمین پر چھیڑ رکھی ہیں ۔کراچی کا مسئلہ زیادہ تر یہی تھا مگر اب اس پراکسی جنگ پر قابو پایا جا چکا ہے، اسی طرح کی پراکسی جنگ افغان طالبان اور امریکیوں کے درمیان ہماری سرزمین پر چھیڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اسی موقف کو ہماری حکومت نے واشگاف الفاظ میں واضح کیا ہے۔
لیجئے صاحب ! یہ ہے جنرل محمد جاوید کا بے خوف تجزیہ ا ور تبصرہ۔امید ہے آپ کا ڈر کافور ہو جائے گا۔