خبرنامہ

چودھری عبدالغفور کی روح کو مبارکباد…..اسداللہ غالب

کوئٹہ چرچ

سد اللہ غالب۔۔۔انداز جہاں
چودھری عبدالغفور کی روح کو مبارکباد

یہ کالم بھی طلحہ سعید کی طرح ایک فرد کے گرد گھومتا ہے مگر اس میں بھی ایک قومی اشو زیر بحث آیا ہے ،ن لیگ کے ایک امیدوار نے یہ گواہی دی ہے کہ پولنگ کا عمل پوری طرح شفاف تھا۔کس طرح شفاف تھا، آپ بھی جانئے۔
مجھے شدید فکر لاحق تھی کہ اس بار اعجاز الحق کا کیا بنا۔ اس لئے کہ اس کے مقابلے میں ن لیگ نے بھی ایک امیدوار کھڑا کر دیا تھا۔یہ امیدوار نئے نئے دبئی سے آئے تھے۔ اعجاز الحق اس علاقے سے اٹھاسی سے جیت رہے تھے۔ مگر ابھی مجھے ڈاکٹر مظہر کا فون آیا ہے، اور کہانی الٹ گئی ہے۔ وہ ہڈیوں کے سرجن ہیں ، اور برسوں سے نجی پریکٹس کر رہے ہیں، میری بیگم کی کلائی کی ہڈی دو بار ٹوٹی، میرے بیٹے کا دو مرتبہ حادثہ ہوا، میرے پچانوے سالہ سسر ، سر کی چوٹ لگوا بیٹھے، کمر میں پہلے ہی انہیں تکلیف تھی، ایک کزن کا سرکاری ہسپتال میں کیس بگڑا تو اسے بھی میں ان کے پاس لے آیا۔ کارگل کی حمائت کے جرم میں میرا گھٹنا توڑا گیا تو بھی انہی سے علاج کروایا۔ اللہ نے ان کے ہاتھ میں شفا دی ہے۔ مگر ان سے تعلق کی وجہ صرف یہی نہیں ہے، وہ بہاولنگر کے چودھری عبدالغفور کے صاحبزادے ہیں جو جنرل جیلانی کی کابینہ میں شامل تھے، نواز شریف بھی انہی کے ساتھ صوبائی حکومت میں آئے تھے، پچاسی کے الیکشن میں چودھری غفور جیت کر اسمبلی میں آئے، ان کے ساتھ ارکان اسمبلی کا ایک بڑا گروپ تھا،وزیراعلی پنجاب بننے کی دوڑ میں وہ بھی پیش پیش تھے مگر قرعہ فال نواز شریف کے نام نکلا اور یہ کہانی میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ نواز شریف میرے ساتھ چودھری صاحب کی طرف گئے تاکہ ان کا شکریہ ادا کریں اورآئندہ کے لئے تعاون کی درخواست بھی کریں۔چودھری غفور اپنے گھر نہ تھے بلکہ اپنے ایک عزیز چودھری منیر کے پاس بیٹھے تھے،چودھری منیرکے خاندان میں غفور صاحب کے بڑے بیٹے ظفر کی شادی ہو چکی تھی۔ برسوں گزرنے کے بعد چودھری منیر کے بیٹے کی شادی مریم نواز کی بیٹی مہر النساء کے ساتھ ہوئی۔
چودھری غفور نے سیاست ا ور زندگی کی ایک شاندار اننگز کھیلی ، ان میں انکساری اور ساگی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی، لہجے میں مٹھاس کااحساس۔ شرافت اور سادگی کا مجسم پیکر ۔ سیاست دانوں سے اخبار نویس کا رشتہ عارضی ہوتا ہے مگر چودھری غفور الگ قسم کے سیاستدان تھے، وہ بھائیوں کی طرح پیش آتے تھے، اس لحاظ سے ان کی وفات کی خبر ملی تو میں شدید بارش اور بینائی کی کمزوری کے باوجود صبح سویرے ان کے گھر ماڈل ٹاؤن پہنچا۔ ابھی سوگواروں کی آمد کا سلسلہ بھی شروع نہ ہو پایا تھا۔کچھ دیر بیٹھنے کے بعد میں نے ڈاکٹر مظہر کو ان کے گھر لاہورکینٹ پہنچایا جہاں ہم نے اکٹھے ہلکا پھلکا ناشتہ بھی کیا۔ چودھری غفور کی وفات حسرت آیات پر میں نے دکھ بھرا کالم لکھا۔ جو نوائے وقت کے صفحات پر چھپا۔


چودھری غفور کے ساتھ بھائیوں جسیے قریبی تعلقات تھے۔ظفر اور مظہر نے ہمیشہ مجھے احترام دیا مگر ان کے چھوٹے بیٹے اظہر امریکہ ڈاکٹر ی کی تعلیم کے لئے گئے، تو وہیں جاب مل گئی اور شادی کے بعد بفیلو میں آباد ہو گئے۔ بفیلو میرے لئے دو حیثیتوں سے اہم ہے ، ایک تومولانا مودودی کی وفات بفیلو کے ہسپتال میں علاج کے دوران ہوئی، دوسرے یہ شہرنیاگرا آبشار کے نزدیک واقع ہے۔ سن دو ہزر میں اتفاق یہ ہو ا کہ ظفر چودھری اور میں نیویارک میں اکٹھے ہو گئے، ایک دن ہم نے بفیلو جانے کا پروگرام بنایا، سڑک کے راستے ہمیں بفیلو پہنچے میں سترہ گھنٹے لگ گئے مگر معلوم نہیں کہ ہمارے میزبان اظہر صاحب کو کیا سوجھی کہ ہمیں ایک رات گزارنے کے بعد چلتا کیا۔ نہ آبشار دیکھی ، نہ وہ ہسپتال جہاں مولانا مودودی نے آخری سانس لئے۔۔ ہم نے واپسی کے لئیے ریل پکڑی جو بائیس گھنٹوں بعد رات کے تین بجے نیوریارک پہنچی۔انتالیس گھنٹوں کا یہ سفر میرے لئے سوہان روح ہے۔ چودھری غفور صاحب کی وفات سے چند ماہ قبل میں ان سے ملنے گیا تو وہاں اظہر میاں بھی موجود تھے، سوچا کہ ان کے والد سے ان کی شکائت کروں مگر پھر زبان بند رکھنے میں مصلحت سمجھی۔ اس صاحبزادے نے جو کرنا تھا، وہ کر لیا، اب اس کی کہانی سنانے سے ذہنی ا ور جسمانی اذیت اور کلفت دور تو نہیں ہو سکتی تھی۔
مسئلہ حالیہ الیکشن کا ہے۔ ڈاکٹر مظہر نے بیٹھے ہوئے گلے کے ساتھ مجھے بتایا کہ وہ صوبائی سیٹ پر جیت گئے ہیں۔ اور بہت بڑے مارجن کے ساتھ جیتے ہیں، وہ خوش تھے کہ انہوں نے باپ کا نام زندہ رکھا ہے اور ان کی سیاسی میراث کو آگے بڑھایا ہے، ہمارے ملک میں بڑے بڑے سیاست دان ہو گزرے جن کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد کوئی ان کانام لیوا بھی نہ رہا۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ڈاکٹڑ مظہر نے ایک بڑ امیدان مارا ہے۔۔ ان کے بڑے بھائی ظفرچودھری بھی اپنے والد ہی کی زندگی میں پارلیمنٹ پہنچے،۔ سینیٹر کے طور پر مؤثر سیاست کی ا ور لاہور چیمبر کی صدارت کے منصب پر بھی فائز ہوئے۔
بلا شبہہ چودھری غفور نے سیاست کو کمائی کا ذریعہ نہیں بنایا، اسے عبادت سمجھا، ان کے بچے اپنے طور پر پڑھے اور جدو جہد سے روزی روٹی کما رہے ہیں، چوھری منیر کے ساتھ رشتے کی وجہ سے بھی انہوں نے کوئی ذاتی فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ پارلیمانی سرگرمیوں کو ہی مرکز و محور بنایا۔ وہ وزیر اعظم کے معائنہ کمیشن کے سربراہ بھی بنے، انہی کے ساتھ ہمارے ایک اوردوست میجر رشید وڑائچ بھی فرائض ادا کرتے رہے۔
ڈاکٹر مظہر کی ساری زندگی مریضوں کو دیکھنے اور�آپریشن روم میں بسر ہوئی،۔ سیاست کی سائنس سے وہ آگاہ نہیں ، لیکن باپ کی میراث کاسوال تھا، انہوں نے اللہ کا نام لیا اور الیکشن میں کود پڑے۔انہیں ن لیگ کا ٹکٹ ملا، یہ ٹکٹ انہیں ہرانے کی ضمانت تھی ۔ اس پر مستزاد کہ مقابلہ جنرل ضیاالحق کے صاحب زادے اعجاز الحق ا ور ان کے پینل سے تھا جس کے پاس پیسے کی ریل پیل تھی۔
اس بار ن لیگ کا ایک عرصے سے گھیراؤ جاری تھا۔ نواز شریف ا ور ان کی بیٹی کو جیل پہنچا دیا گیا، ن لیگ کے لوگوں پر مقدموں پر مقدمے۔ اتنے مقدمے قائم کرنے والوں کو بھی علم نہیں کہ کتنے مقدمے قائم کر چکے ہیں۔ ابھی شہباز اور حمزہ کے سر پہ بھی تلوار لٹکی ہوئی ہے۔ نواز شریف کے لیے نئے مقدمے بھی گھڑے جا چکے ہیں ۔ ان حالات میں ن لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنا کوئی عقل مندی کی بات نہیں تھی مگر ڈاکٹر مظہر کا کہنا ہے کہ ان کے علاقے میں شیر ہی شیر کا شور ہے۔ مخالف پینل نے پیسہ پانی کی طرح بہایا، ہمارے ووٹروں نے انہی کی ٹرانسپورٹ استعمال کی مگر ووٹ ہمیں دیئے۔ میں نے پوچھا کسی قسم کی دھاندلی کی شکائت،ڈاکٹر مظہر نے کہا کہ بالکل شفاف الیکشن ہوا۔ فوج کی موجودگی کی وجہ سے امن وا مان بھی نہیں بگڑا، ایک جگہ ہمارے لوگوں کا جھگرا ہوا کہ الیکشن عملہ مخصوص امیدوار کو ووٹ دینے کے لیے مجبور کر رہا ہے، تھوڑی ہی دیر میں ہیلی کاپٹر اترا ، کمانڈوز نے الیکشن عملے اور جھگڑے میں ملوث ہمارے لوگوں کو بھی وہاں سے اٹھا لیا، میں نے پوچھا کہ نتیجے کا اعلان کیوں دیر سے ہوا، ڈاکٹر صاحب نے پوری تفصیل بتائی کہ الیکشن عملے کو ہدائت تھی کہ پہلے تو گنتی کا نتیجہ الیکشن کمیشن کو واٹس ایپ کیا جائے ، او کے کی رپورٹ ملنے پر ہی ووٹوں کے ڈبے اور دیگر کاغذات سر بمہر کر کے فوجی گاڑیوں میں ریٹرننگ افسران کے پاس لائے جائیں ۔مگر واٹس ایپ بھیجنے میں رکاوٹ پیدا ہوئی، دور دراز کے علاقوں میں فون ہی نہیں ملتا ، موبائل ڈیٹا اور انٹر نیٹ کا کیا سوال، اس مشکل سے فوج کے عملے کو آگاہ کیا گیا مگر انہوں نے قواعد کی خلاف ورزی کی اجازت نہ دی، رات گئے الیکشن کمیشن نے اعلی سطح پر فوج کو اس مشکل سے آگاہ کیا تو پھر سامان کی منتقلی کی اجازت ملی مگر ہم لوگ بھی پیچھے پیچھے پہنچ گئے اور سات �آٹھ گھنٹے مزید جاگنے کے بعد ہم نے اپنے نتائج اور الیکشن عملے کے نتائج کا موازنہ کیا اور پھر مصدقہ ریزلٹ لے کر ریٹرننگ افسر کا دفتر چھوڑا۔
یہ ایک حلقے کی کہانی ہے جہاں سے ن لیگ کا پورا پینل جیت گیا اور ہمارے بھائی اعجاز الحق پہلی مرتبہ شکست کھا کر واپس گئے۔
ڈاکٹر مظہر کی کامیابی ا س لحاط سے میرے لئے قابل فخر ہے کہ میں چوھری عبدالغفور کو اپنا بھائی سمجھتا تھا۔ ان کی روح کو مبارکباد !!