خبرنامہ

چین کی طرف سے پاک بھارت مذاکرات کی حمایت….اسداللہ غالب

کوئٹہ چرچ

چین کی طرف سے پاک بھارت مذاکرات کی حمایت….اسداللہ غالب

حکومت نے پاک بھارت مذکرات کی خواہش کو خوش آمدید کہا ہے اور اعلان کیا ہے کہ وہ اس نیک مقصد کے لئے دونوں ملکوں کی معاونت کے لئے تیار ہے۔
پاک بھارت مذاکرات کی بات وزیر اعظم عمران خان نے اپنی وکٹری تقریر میں چھیڑی۔ انہوں نے بھارت کو پیش کش کی کہ وہ کشمیر کے کور ایشو کوبات چیت کے ذریعے حل کرے تاکہ باہمی تجارت کو فروغ دیا جا سکے اور دونوں ملک اپنے وسائل کو عوام کی غربت کے خاتمے کے لئے استعمال کر سکیں، ان کا کہنا تھا کہ بھارت اس مقصد کے لئے ایک قدم آگے بڑھائے گا تو پاکستان دو قدم آگے بڑھے گا،حلف کے بعد انہوںنے قوم سے نشری خطاب میں بھی اپنی پیش کش کو دہرایا۔
اگرچہ اس پر بھارت کی طرف سے کوئی سرکاری یا غیر سرکاری رد عمل سامنے نہیں آیا مگر پہلے امریکہ نے اور اب چین نے تو کھل کر اس مذاکراتی عمل کی حمایت کر دی ہے۔
وزیر اعظم عمران خاں محض باتوں تک محدود نہیں رہے بلکہ انہوںنے عملی اقدامات بھی اٹھائے ا ور اپنی تقریب حلف برداری میں بھارت کے معروف کرکٹرز کو بھی مدعو کیا جن میں سے گواسکر تو اپنی مصروفیات کی وجہ سے نہں آ سکے مگر ایک معروف کرکٹر سدھو صاحب توبذات خود تشریف لے آئے اور پاکستان داخل ہوتے ہی انہوںنے خیر سگالی کے بیانات دینے شروع کر دیئے۔ انہوںنے اپنے جذبات کو شعروں کی زبان میں پیش کیا اور باہمی امن اور پیار محب کے تعلقات کو فروغ دینے کی بات کی۔ تقریب حلف برداری میں ان کا آمنا سامنا پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ہوا تو انہوںنے کہاکہ کرتار پور میںساڑھے پانچ سو سالہ تقریبات کا پروگرام تشکیل دیا جا رہا ہے ، کیا ہی ا چھا ہو کہ پاکستان اس موقع پر اپنی سرحد کھول دے ا ور یاتریوں کو پیدل کرتارپور آنے کی اجازت دے۔ جنرل صاحب نے فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وعدہ کر لیا کہ جی ضرور آپ جم جم آئیں ، ہم آپ کے لئے قریبی سرحد کھول دیں گے۔ اس پر سدھو صاحب وفور جذبات میں جنرل صاحب سے لپٹ گئے ا ور یہ جپھی ایک تاریخ بن گئی۔پاکستان میں اس جپھی پر تو کوئی زیادہ منفی رد عمل دیکھنے میں نہیں آیا مگر سدھو صاحب کی بھارت میں درگت بن گئی، ان کے خلاف نعرے لگے، جلوس نکلے، ان کے پتلے جلائے گئے اور ان پر غداری کا مقدمہ چلانے کے لئے عدالتوں میںرٹیں دائر کر دی گئیں۔ سدھو صاحب بھی کوئی سیدھے سادے شخص نہیں نکلے۔ انہوںنے اپنے نقادوں کو آڑے ہاتھوں لیا اور پوچھا کہ پاکستان جانا اتنا ہی پاپ ہے تو پھر یہاں بھارت کا سفارت خانہ کیوں ہے، انہوں نے سوال در سوال کی توپیں داغیں اور پوچھا کہ میںنے غداری کی ہے تو کیا واجپائی ا ور مودی نے بھی غداری کا ارتکاب نہیں کیا تھا۔ اس پر ان کے نقادوں کو چپ لگ گئی اور ان کی پاکستان آمد نے پاک بھارت رابطوں کی ایک کھڑکی کھول دی۔
نئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی بھارت کو بات چیت کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کہا،ا س دوران بھارتی وزیر اعظم مودی جی کا ایک خط بھی وزیر اعظم عمران خان کے نام ا ٓیا جس کامطلب یہی لیا گیا کہ بھار ت نے پاکستان کے اشاروں کا مثبت جواب دیا ہے مگر ابھی تک باضابطہ مذاکرات کی دعوت بھارت نے قبول نہیں کی۔ ممکن ہے وقت گزرنے کے ساتھ بھارت پر عالمی دباﺅ بڑھے ، اور جیساکہ چین نے دھماکہ خیز بیان دیا ہے۔ا سی نوع کے بیانات دیگر دارالحکومتوں سے بھی آنے لگیں تو باقاعدہ مذاکرات کا رستہ بھی شاید نکل ہی آئے۔
پاکستان میں بھارت کے ساتھ مذاکرات سے کچھ زیادہ امیدیں وابستہ نہیں کی جاتیں کیونکہ یہ مذاکرات کئی بار شروع ہوئے اور پھر بلا وجہ بھارت نے یک طرفہ طور پر قدم پیچھے ہٹا لئے۔ نواز شریف نے واجپائی کو بلایا مگر یہ عمل آگے نہیں بڑھ سکا۔ جنرل مشرف نے نیپال میں بھارتی وزیر اعظم سے ہاتھ ملا کر برف پگھلانے کی کوشش کی مگر بے سود اور جنرل مشرف خود آگرہ گئے مگرانہیں ٹرخا دیا گیا۔ممبئی سانحے سے قبل ہمارے وزیر خارجہ نئی دہلی میں تھے مگر سانحے کی آڑ میں انہیں کسی نے گھاس تک نہ ڈالی اور وہ بے نیل و مرام لوٹ آئے۔
کشمیر اورا ٓبی مسئلے کے حل کے لئے دونوں ملکوں کی جانب سے ٹھوس اور سنجیدہ اقدامات کئے بغیر چارہ نہیں،کشمیری اکہتر برس سے قربانیاں دے رہے ہیںا ور یہ قربانیاں ضائع جا رہی ہیں، بھارت نے پاکستانی حصے کے دریاﺅں چناب ا ور جہلم پر ڈیم تعمیر کر لئے ہیں اور اگلے مرحلے میں وہ ان کا رخ ہی مشرقی پنجاب کی طرف موڑنے کاا رادہ رکھتا ہے جس سے پاکستان ریگستان کی شکل اختیار کر لے گا۔ اور پانی کی بوند بوند کو ترسے گا۔
ان سنگین مسائل کے ہوتے ہوئے خدشہ ہے کہ دونوں ملک ایک بار پھر کسی جنگ میںنہ کود پڑیں۔ اب تک چار جنگیں لڑی جا چکی ہیں اور سیا چین کے بلند ترین محاذ جنگ پر ایک خاموش لڑائی انیس سو چوراسی کے موسم بہار سے جاری ہے۔پرانی جنگوں کا بوجھ کسی نہ کسی طرح دونوں ملکوں نے سہار لیا مگر اب دونوں ملک ایٹمی اسلحے سے لیس ہیں اور خدشہ یہ ہے کہ نیا تنازعہ ایٹمی تصادم میں نہ بدل جائے ، اس سے بر صغیر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
اب بھارتی وزیر اعظم پر منحصر ہے کہ وہ چاہیں تو ماحول کو بات چیت کے لئے سازگار بنا دیں، اس کے لئے بھارت کو کل بھوشن کے خلاف اپنی اپیل واپس لے لینی چاہئے تاکہ اسے اس کے جرائم کی سزا دی جاسکے۔ بھارتی وزیر اعظم اپنا یہ ا شتعال انگیز بیان واپس لیں کہ وہ آزاد کشمیر۔ بلوچستان اور گلگت بلتستان کے عوام کو بھی ا سی طرح حقوق دلوائیں گے جیسے اکہتر میں مشرقی پاکستان والوں کو دلوائے گئے، بھارت کو پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کاروائیاں ختم کرنی چاہئیں اور کشمیر میں اپنی افواج میںمعتد بہ کمی کر کے جبر اورظلم کاسلسلہ بند کرنا چاہیئے یہ ہے وہ ماحول جس میں پاک بھارت امن مذاکرات شروع ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے