خبرنامہ

کاش روہنگیا کی تڑپ آپ کی تڑپ بن جائے … اسد اللہ غالب

کاش روہنگیا کی تڑپ آپ کی تڑپ بن جائے … اسد اللہ غالب

کالم نگار لکھتا ہے تو اسے یقین نہیںہوتا کہ کوئی اس کو پڑھتا بھی ہے اور اگر پڑھتا ہے تواس کے لکھے پر عمل بھی کرتا ہے۔

مگر روہنگیا پر لکھا تو خوابناک رد عمل دیکھا،۔ قارئین کے فون آ رہے تھے کہ ڈاکٹر آصف جاہ کا اتہ پتہ بتایئے۔ہفتے کی صبح سویرے ایک بہن کا فون آیا ، ان کی آواز سے لگ رہاتھا کہ اپنے دکھ پر بمشکل قابو پا کر بولنے کی کوشش کر رہی ہیں، ان کو بھی ڈاکٹر صاحب کا نمبر بتایا۔جیسے ٹیلی فون آپریٹر بتا دیتے ہیں۔ بعد میں ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ وہ پوچھ رہی تھیں کہ کیا سامان درکار ہے، اسے بتایا گیا کہ بنگلہ دیش سامان نہیں جانے دیتا ، بعض ذرائع سے وہاں ڈالر بھیجنے پڑے ہیں اور وہیں سے کچھ اہل دل تعاون کر رہے ہیں جو ضروری سامان خرید کر تقسیم کر دیتے ہیں۔میں اعجاز سکا کے ایثار کی بات کر چکا ہوں کہ ایک پکار پر تیس ہزار ڈالر نچھاور کر دئے، بیس ہزرا ڈالر کا مزید دوستوں سے انتظام کر دیا، آسٹریلیشیا مسجد کے مولانا عبد الرﺅف جو میرے چھوٹے بھائیوں جیسے ہیں کہ ان کا بڑا بھائی مکرم شیخ بوٹسوانہ میں حکومتی مشیر ہے اور میرا راوین بھائی ہے، راوین کی ایک کائنات ہے یا کہکشاں جو ہر سو چمک دمک رہی ہے، ڈاکٹر اجمل نیازی سے بھی راوین بھائیوں جیسا رشتہ ہے۔بہر حال آسٹریلیشیا مسجد سے دو بار لاکھوں روپے اکٹھے ہو گئے ، مولانا عبدالرﺅف اس پر بہت مسرور تھے کہ وہ بھی روہنگیا کے دکھوں کے ساتھی بن گئے۔ہفتے کی شام کو ایک محفل میں ڈاکٹر صاحب نے حیران کر دیا کہ وزیر آباد سے اکٹھے اٹھارہ لاکھ آ گئے ہیں،مجھے فکر لاحق ہوئی کہ یہ پیسے آٹھ لاکھ روہنگیا کے کتنے دن کام آئیں گے۔ انہیں تو روزانہ لاکھوں کی تعداد میں برمی فوج بار ڈر پار دھکیل رہی ہے۔ دنیا میں ا س وقت دو حکومتیں ہیںجن کی زیر سرپرستی کھلی دہشت گردی ہو رہی ہے، ایک بھارت جس کی فوج کشمیر میں مظالم کے پہاڑ توڑ رہی ہے۔ بھارت اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلواتا ہے، اور دوسری حکومت برما کی ہے جہاں برسوں کی ڈکٹیٹر شپ کے بعد جمہوریت بحال ہوئی ہے، اور وہ ا ٓنگ سو چی جس کے انسانی حقوق کا رونا ہم روتے نہیں تھکتے تھے اور جسے انسانی حقوق کی چیمپئن کے طور پر امن کا نوبل ایوارڈ دیا گیا، اس کے منتخب ہوتے ہی برما میں خون کا سونامی برپا ہو گیا، روہنگیا پر ظلم کی داستان بہت پرانی ہے مگر یہ لوگ کچھ نہ کچھ اپنا دفاع کر رہے تھے حتی کہ قیام پاکستان کی تحریک دوران برمی مسلمانوں کی اراکا ن مسلم لیگ تشکیل پائی جس نے مطالبہ پاکستان کی ڈٹ کر حمائت کی۔قائد اعظم نے ذاتی طور پر ان کا شکریہ اد اکیا مگر وقت کے ساتھ ساتھ روہنگیا مسلمان کمزور پڑتے گئے، عالمی ضمیر نے ان کا ساتھ نہ دیا ، ان کو تن تنہا دیکھ کربرمی فوج کے درندوںکے حوصلے بڑھے، انہوںنے روہنگیا کی بستیاں جلانا شروع کر دیں، ان کی دکانوں پر قبضے ہونے لگے، ان کے کھیتوں کوآگ لگائی گئی اور فوجی طاقت کے بل بوتے پر ان کے صدیوں پرانے علاقے سے نکال باہر کیا گیا، یہ لوگ بھارت کی طرف جاتے ہیں تووہاں سنسناتی گولیاں ان کا استقبال کرتی ہیں۔بنگلہ دیش بھی ان پر شقاوت کی حد کر دیتا ہے مگر ترک صدر اردوان آ ڑے گئے ، انہوںنے حسینہ واجد سے کہا کہ وہ ان تمام بے گھر مہاجرین کی مکمل مدد کریں گے اور ان کے چال چلن کی ذاتی طور پر ضمانت دیتے ہیں، سعودی حکومت پہلے ہی ان کی بڑھ چڑھ کر مدد کر رہی تھی، جان کس کو پیاری نہیں ہوتی، برمی فوج سے جان بچانے کی کوشش میں کچھ روہنگیا کشتیوں کے ذریعے تھائی لینڈ کا رخ کرنے لگے مگر متلاطم لہروں کے عفریت نے انہیں راستے ہی میں نگلنا شروع کر دیا۔یہ ایک قوم کی تباہی کی داستان ہے جو ہماری آنکھوں کے سامنے، دنیا کی کھلی آنکھوں کے سامنے ہو رہی ہے ، جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں تو کسی ٹی وی چینل سے یہی خبر نشر ہو رہی ہے کہ روہنگیا کی بستیاں جلانے کا عمل متواتر شروع ہے۔برمی حکومت اس قدر ڈھیٹ ثابت ہوئی ہے کہ اس نے نہ تو او آئی سی کے مطالبات کو در خورا عتنا سمجھا ہے اور نہ یو این او کے وفد کو ملک میں داخل ہونے کی ا جازت دی ہے۔ ادھر ایک ہم ہیں کہ یو این او کے ایک ا شارے پر اپنے قومی راہنماﺅں کو نظر بند کر دیتے ہیں ، ان کی پارٹیوں کوممنوع قرار دے دیتے ہیں۔
میں شروع میں سمجھتا تھا کہ ڈاکٹرا ٓصف جاہ محض شو، شا کے لئے خیراتی کام کرتے ہیں، ان کے محکمے نے بھی ان کی ترقی کی فائل گندی کر دی کہ وہ تو خیراتی منصوبوں کی آڑ میں مال بناتے ہیں اور چندہ خوری کرتے ہیں مگر مجھ پر بہت جلد واضح ہو گیا کہ ڈاکٹرا ٓصف جاہ ایک درویش صفت اور درد مند دل کے مالک ہیں ، ان کے اخلاص کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا،خیراتی کاموں کا ان پر جنون طاری ہے۔ لوگوںکے دکھ پر ان کا دل کڑھتا ہے، وہ بے چین ہو جاتے ہیں ، اسی طرح ان کو ترقی دینے والوں نے بھی ان کے راستے میں دیوار بننے کے بجائے انہیں انسانی خدمت کے لئے ستارہ امتیاز سے نوازا۔مگر آصف جاہ تو ستاروں سے آگے جہانوں کی تلاش میں تھے ، بالا کوٹ،آواران، تھر، جھنگ، اٹھ ہزاری،سوات، مالا کنڈ، بنوں، وانا میں امدادی سرگرمیوں نے ا نہیں تھکایا نہیں ا ن کے اندر نئی بجلیاں بھر دی ہیں، اسی لئے شامیوں پر آفت آئی تو وہ ترکی جا پہنچے، ترک قوم حیران تھی کہ پاکستان سے بھی کوئی تنظیم اس طرح کے عالمی بحران میں اعانت کے لئے اتنی دور کا سفرا ختیار کرسکتی ہے۔ آصف جاہ نے سب سے پہلے حضرت ایوب انصاری ؓ کے مزار مبارک پر حاضری دعا اور اللہ سے دعا کی کہ وہ مواخات مدینہ کے جذبوں سے انہیں بھی سرشار کر دے۔ پھر وہ شام اور ترکی کی سرحد پر رو خہ کے علاقے میں گئے جب تک اپنے ہاتھ سے ایک ایک ضرورت مند کا ہاتھ نہیں تھاما، انہیں چین نہیں آیا۔اب روہنگیا کی چیخوں سے شور قیامت برپا ہوا اور ان کی بستیوں سے اٹھنے والے شعلوںنے افق پر آگ دہکا دی تو آصف جاہ ایک بار پھر تڑپ کر رہ گئے۔ یہ آزمائش بڑی کڑی تھی۔ روہنگیاکی مدد کا کوئی راستہ نہ تھا، برما، بنگلہ دیش دونوںملک پاکستانیوںکو تو کجا عالمی اداروں کو ویزے دینے کے لئے تیار نہ تھے مگر آصف جاہ کے حوصلوں نے شکست نہ کھانے کی قسم کھا رکھی تھی، وہ اعجاز سکا سے شروع ہوئے اور پھر وزیرا ٓباد تک ان کی آواز پہنچی، اب ان کے رضا کاربنگلہ دیش میں امدادی کاموں میں مصروف عمل ہیں، ڈاکٹر آصف جاہ کے لئے میرے دل سے ہزاروں دعائیں نکلتی ہیں کہ وہ دکھی انسانیت کا سہارا ہیں، ہم ایدھی پر فخر کرتے تھے اور کرتے رہیں گے مگر آصف جاہ نے عالمی سطح تک اپنی خدمات کا دائرہ وسیع کر کے ایک قدم آگے اٹھایا ہے، خدا ان کے تمام منصوبوں میں برکت دے اور انہیں ایسے مخیر خواتین و حضرات کا تعاون حاصل رہے جو ایثار کے ایسے جذبوں سے سرشار ہوں جہاں صدیقؓ کے لئے ہے خدا کا رسول بس کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔