خبرنامہ

کشمیر پر قائد کی حکم عدولی….جنرل مصطفی سے مکالمہ .. اسد اللہ غالب

کشمیر پر قائد کی حکم عدولی….جنرل مصطفی سے مکالمہ .. اسد اللہ غالب

یہ ایک نازک اور حساس مسئلہ ہے،قائداعظم نے پاک فوج کو حکم دیا کہ وہ کشمیر سے جارح بھارتی فوج کو نکالنے کے لئے حرکت میں آئے۔مگر اس وقت کے آرمی چیف نے اس حکم کی تعمیل سے انکار کر دیا،یہ آرمی چیف ایک انگریز شہری تھا جو نئی دہلی میں براجمان دونوں ملکوں کی افواج کے مشترکہ کمانڈر کے ماتحت بھی تھا۔یہ مشترکہ کمانڈر بھی انگریز تھا۔
اس مسئلے پر میرا ریٹائرڈ لیفیٹننٹ جنرل غلام مصطفی سے مکالمہ ہوا۔ وہ منگلا کور کے کمانڈر رہے۔ پاک آرمی کی یہ کو ر جنگ کی صورت میں مقبوضہ کشمیر کے اندر گھسنے کے لئے کھڑی کی گئی ہے اور یہ اس کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔کشمیر کی کنٹرول لائن پر دفاع کے لئے پاک فوج کے یونٹس اس سے الگ ہیں۔
سوال: کیا فوج کو قائد اعظم نے تحریری حکم دیا تھا؟
جواب: قائد کا حکم تحریری نہیں تھا، اگر کوئی تحریر تھی بھی تو کسی ریکارڈ میںنہیں ہے۔ میںنے دفاعی امور پر خاصی تحقیق کی ہے مگر مجھے قائد کے کسی حکم کی تحریری نقل نہیںملی۔
سوال: کیا قائد کا یہ حکم صرف ایک آرمی چیف کے لئے تھا یا اس کی اطاعت انگریز کمانڈر کے جانے کے بعد اس کے ہر جانشین پر واجب ہے؟
جواب: میں تو یہ کہوں گا کہ قائداعظم کا کوئی حکم وقتی نہیں تھا، کشمیرکے سلسلے میں پاک فوج ان کے حکم پر عمل در آمد کی آج بھی مکلف ہے۔
سوال: پاک فوج نے انگریز آرمی چیف کے جانے کے بعد اس پر کس حد تک عمل کیا ہے؟
جواب : پاکستان کے پاس آزاد کشمیر کا جو علاقہ ہے، یہ صرف اور صرف پاک فوج کی مختلف یونٹوں کے سرگرم عمل ہونے کا ثمر ہے۔ قبائلی لشکر کو منظم کرنے کا فریضہ بھی پاک فوج کی نچلی سطح پر کیا گیاا ور قوم میجر جنرل اکبر خان رنگروٹ کے کر دارکو ہر گز فراموش نہیں کر سکتی۔ کشمیر میں پاک فوج کی جن یونٹوںنے جہاد کا فریضہ ادا کیا، اس کی مکمل رپورٹیں جی ایچ کیو میں موجود اور محفوظ ہیں اور اس جدو جہد پر درجنوںکتابیں بھی لکھی جا چکی ہیں ۔
سوال: مگر مسئلہ کشمیر تو حل نہیں ہوا، پوری سنگینی کے ساتھ آج بھی موجود ہے۔، اس کی وجوہ کیا ہیں؟
جواب: آپ اس پس منظر کو ضرور ذہن میں رکھیں جس کا پاک فوج کو سامنا تھا۔ پاکستان کا سینئر ترین فوجی افسر اس وقت ایوب خان تھا۔ اور اس کے سامنے مشرقی پنجاب سے آنے والے مہاجرین کی حفاظت کا مسئلہ اولیت رکھتا تھا،۔ان کی تعداد لاکھوں سے تجاوز کر رہی تھی اور وہ پورے مشرقی پنجاب کے وسیع ترین علاقے سے خالی ہاتھ پاکستان کا رُخ کر رہے تھے۔ ان پر راستے میں حملے ہو رہے تھے، خواتین کو اغوا کیا گیا، بچوں کو سنگینوں کی نوک پر اچھالاگیا اور ٹرینوں کی ٹرینیں کٹ رہی تھیں۔پاکستان آمد کے بعد مہاجر کیمپوں میں ان کی دیکھ بھال ا ور پھر بحالی کا مسئلہ بھی مقدم تھا۔
سوال : یہ مشرقی پنجاب میں خونریزی اچانک کیوں ہونے لگی تھی، مسلمانوں کے اکثریتی علاقوں کو بھارت میں کیوں شامل کر لیا گیا؟
جواب: میں کسی پر تنقید نہیں کرنا چاہتا، قائد اعظم گوناں گوںمصروفیات میں الجھے ہوئے تھے، ان کے سبھی ساتھی انتہائی مخلص تھے۔ مگر پھر بھی مشرقی پنجاب میں خونریزی اور ریڈ کلف ایوارڈ میں ناا نصافی ہوگئی۔ اس کی دو وجوہ میری سمجھ میں آتی ہیں۔ایک تو قائد کے ساتھیوں میں پنجاب سے سر کردہ لوگ نہیں تھے، زیادہ تر مشرقی پاکستان اور یوپی‘ سی پی کے تھے۔ پنجاب کے لوگ چھیالیس کے انتخاب کے دوران ا ٓئے ا ور یہ زیادہ تر یونینسٹ تھے۔ آل انڈیا مسلم لیگ سے ان کی وابستگی صرف ا قتدار کے حصول کے لئے تھی۔ وہ انگریز کے ساتھ بھی فٹ تھے اور اب پاکستان میں بھی فٹ ہونا چاہتے تھے، یہ نظریاتی لوگ نہیں تھے۔ اس لئے وہ پیش بینی اور پیش بندی کی صلاحیت سے محروم تھے۔دوسری طرف آل انڈیا کانگرس ایک عیار جماعت تھی۔ اس کے لیڈروں کے رابطے لارڈ ماﺅنٹ بیٹن سے بھی تھے ا ور ریڈ کلف ایوراڈ میں شامل غیر مسلم ارکان سے بھی تھے۔ یہ ارکان روزانہ کی بنیاد پر پنڈت نہرو کو رپورٹ پیش کرتے تھے اور نہرو نے انہیں بھار ت کے مفا دات کی تکمیل کے لئے بھر پور طور پر استعمال کیا۔ مسلم لیگ کی قیادت کا شاید ریڈ کلف ایوارڈ میںشامل اپنے مسلم ارکان سے رابطہ نہیں تھا ، اس لئے جب ایوارڈ سامنے آیا تو یہ فیصلہ بجلی بن کر گرا اور ایک قیامت کا منظر دیکھنے میں آیا۔ایسی خونریزی تو ہلاکو اور چنگیز نے بھی نہ کی ہو گی۔ریڈ کلف ایوارڈ میں فیروز پور، امرتسر، لدھیانہ، فرید کوٹ ہوشیار پور جیسے مسلم اکثریتی علاقے بھارت کو دیئے گئے جس کا مقصد صرف پٹھا نکوٹ اور جموں کو ملانے والی ایک کٹی پھٹی شاہراہ پر قبضہ جماناتھا۔ حالانکہ کشمیر کے تمام راستے پاکستان سے منسلک تھے۔ اور ان کا ریڈ کلف نے کوئی لحاظ نہ کیا۔
سوال: مسلم لیگی قیادت نے کشمیر کی اہمیت کو نظر انداز کیوں کیا۔
جواب: میںنہیں کہتا کہ مسلم لیگ کی قیادت نے کشمیر کو نظر انداز کیا، بلکہ حقیقت یہ تھی کہ مسلم لیگ کی قیاددت سوچ بھی نہ سکتی تھی کہ کشمیر اس کے حصے میںنہیں آئے گا۔یہ مسلم اکثریتی ریاست تھی ا ور آزادی کے فارمولے کے مطابق پاکستان سے ملحق بھی تھی، اس لئے کون سوچ سکتاتھا کہ بھارت اتنی بڑی ڈنڈی مارے گا مگر بھارت نے اس کے لئے برسوں پہلے سے تیاری کر لی تھی۔
سوال: برسوں پہلے سے۔کیا مطلب؟
جوب : میںنے جو تحقیق کی ہے، اس کے مطابق انیس سوچالیس میں گاندھی نے اشارہ دے دیا تھا کہ کشمیر بھارت کے لئے بہت ضروری ہے۔آگے بڑھئے۔ کانگرس نے تقسیم کے فارمولے کے اعلان سے بہت پہلے مہاراجہ پٹیالہ کو حکم دے دیا تھا کہ وہ اپنی فوج کشمیر میں داخل کر دے، یہ کام اس قدر خاموشی سے ہوا کہ کسی کو اس سازش کی ہواتک نہ لگی اور پھر خود بھارت نے اپنی فوج سری نگر میں اتار دی۔ سچی بات یہ ہے کہ اسوقت پاک فوج دفاعی صلاحیت سے بالکل محروم تھی، بھارت نے پاکستان کے حصے کا اسلحہ اور گولہ بارود روک لیا، نہ ہمارے پاس ٹینک تھے، نہ توپیں، بس ایک جذبہ تھا اور مجاہدین کواستعمال کر کے جو ہو سکتا تھا، وہ پاک فوج نے ضرور کیا۔
سوال: بعد میں کیا پاک فوج کی ذمے داری ختم ہو گئی ؟
جواب: پینسٹھ میں پاک فوج نے آپریشن جبرالٹر کے ذریعے کشمیریوں میں جذبہ حریت ابھارنے کی کوشش کی۔ یہ اس قدر مﺅثر تھی کہ پاک فوج دریائے توی کو پار کر گئی اور جوڑیاںاوراکھنورکوخطرے میں ڈال دیا۔بھارت اس کامیابی کو ہضم نہ کر سکا۔ اس نے بین الاقوامی سرحد پر چوروں کی طرح جارحیت کر دی۔ حالانکہ اس وقت کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو، جی ایچ کیو کو یقین دلا چکے تھے کہ آپریشن جبرالٹر کی وجہ سے بھارت کو عالمی سرحد پرجارحیت کا جواز نہیںمل سکتا۔ یہ مشورہ نیک نیتی سے تھا یا بد نیتی سے مگر بھارت نے پاکستان کو جارحیت کا نشانہ بنا دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ پاک فوج نے کامیابی سے ا پنا دفاع کیاا ور خود بھارت کو سلامتی کونسل سے جنگ بندی کی بھیک مانگنا پڑی۔اکہتر میں بھی ذوالفقار علی بھٹو کا کردار متنازعہ ہے، انہوں نے پولینڈ کی جنگ بندی کی قرارداد کو پھاڑ کر بہادری تو دکھائی مگر اس قرداد کو قبول کر لیا جاتا تو پاکستان اور بھارت کو جنگ بندی کرنا پڑتی اور پاک فوج کو ڈھاکہ میں سرینڈر کی ذلت سے دوچارنہ ہونا پڑتا۔
سوال آپریشن کارگل بھی متنازعہ کیوں ہو گیا:
جواب: اس پر وہ لوگ جواب دیں جنہوںنے اسے متنازعہ بنایا مگر میں یہ کہوں گا کہ ایک طرف آپ کہتے ہیں کہ قائد کے حکم پر عمل کیوںنہ کیا گیا ارو دوسری طرف جب بھی پاک فوج نے اس حکم پر عمل درا ٓمد کی کوشش کی تو سیاسی قیادت نے اسے متنازعہ بنا دیا، کارگل آپریشن کے خدوخال محترمہ بے نظیر بھٹو کو پیش کئے گئے تھے، ان کی حکومت ٹوٹ گئی تو نوازشریف کو اس کی فائل پیش کی گئی اور ریکارڈ گوا ہ ہے کہ پوری کارگل جنگ میں نواز شریف نے جنرل مشرف کے ساتھ محاذ جنگ کا معائنہ کیا۔ اس جنگ کے دوران ہر سہہ پہر کو ایک میڈیا بریفنگ ہوتی تھی جس میں حکومت وقت کے وزیر اطلاعات مشاہدسید بھی جنرل راشد قریشی کے شانہ بشانہ بیٹھے ہوتے تھے۔ پھر پی ٹی وی نے لاہور کے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں کارگل کے شہدا کے خاندانوں کی دل جوئی کے لئے ایک پر وقار تقریب بھی منعقد کی جس میں ایک شہید میجر حیدری کے کم سن بیٹے نے لائیو نشریات میں کہا تھا کہ وہ بڑا ہو کر اپنے عظیم والد کی طرح شہید بنے گا۔
سوال: ایک طرف فوج کہتی ہے کہ وہ کولڈ سٹارٹ اور ہاٹ سٹارٹ کے لئے تیار ہے، مگر کنٹرول لائن پر روزانہ شہادتیں ہو رہی ہیں، وادی کشمیر میں بھی نوجوانوں کو ظالمانہ طریقے سے شہید کیا جا رہا ہے اور اب تو کیمیکل گیس پھینکی جاتی ہے جس سے شہیدوں کی لاشیں پہچان کے قابل بھی نہیں رہتیں۔یہ کولڈ سٹارٹ یا ہاٹ سٹارٹ کے دعوے کب کام آئیں گے؟
جواب:فوج نے اپنی تیاری اور اپنی صلاحیت کا اظہار کیا ہے۔ مگر یہ تو قوم پر منحصر ہے کہ وہ کیا چاہتی ہے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اب پاک فوج کو کولڈ سٹارٹ میں بھی مات نہیں دی جا سکتی، پاکستان کی پوری سرحد پر کوئی سافٹ بیلی نہیں ہے۔ اب پوری سرحد پر چھاﺅنیاں موجود ہیں۔ 65ءیا 71ءکی طرح فوج صرف گو جرانوالہ، لاہور اور ملتان تک محدود نہیں، اب انتہائی نچلی سطح پر ہماری افواج دفاع وطن کے لئے سینہ سپر ہیں۔ اور وہ آج کے کسی بھی سیاسی قائد کے حکم کی منتظر ہے۔ فیصلہ قوم کے ہاتھ میں ہے۔ فوج تو بزن کے اشارے کی منتظر ہے۔