خبرنامہ

گستاخانہ خاکوں پر حکومتی سطح پر نوٹس،،اسداللہ غالب

کوئٹہ چرچ

گستاخانہ خاکوں پر حکومتی سطح پر نوٹس

ہالینڈ کی جسٹس پارٹی کے سربراہ کی طرف سے گستاخانہ خاکوں کی مبینہ نمائش کے خلاف ہرسطح پر واویلا مچایا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا تو بے حد گرمی دکھا رہا ہے۔ پیٹیشنوں پر دستخط کروائے جا رہے ہیں ۔مگر یہ اندازہ کسی کو نہ تھا کہ پاکستان کی نئی حکومت بھی ان کا نوٹس لے سکے گی یا نہیں۔ پی ٹی آئی اپنی کئی پالیسیاں منظر عام پر لا چکی ہے مگر اسلام کے بارے میں اس کے خیالات کیا ہیں اور کیا یہ مذہب سے کوئی جذباتی وابستگی رکھتی ہے۔ اس کا کسی کو قطعی اندازہ نہ تھا۔ وزیر اعظم کی عید نماز کے بارے میں بھی یہ بتایا گیا کہ مذہب ان کا ذاتی مسئلہ ہے اور وہ اس کی تشہیر نہیں چاہتے۔ سچی بات ہے کہ میںاس پس منظر میں ذاتی طور پر مایوسی کا شکار تھا اور مجھے ہر گز یہ توقع نہ تھی کہ گستاخانہ خاکوں پر وزیراعظم یا نئی پارلیمنٹ کی رگ حمیت جاگ اٹھے گی۔ ویسے ہم ایک بیماری میں بھی مبتلا ہیں کہ اپنے سوا کسی کو مسلمان ہی نہیں سمجھتے ۔ اس لحاظ سے عمران خان ا ور سینیٹ آف پاکستان نے تو حیران ہی کر کے رکھ دیا۔ سینیٹ نے متفقہ طور پر گستاخانہ خاکوں کے خلاف مذمتی قراداد منظور کی جبکہ وزیراعظم نے بھی کہا کہ اہل مغرب کو ذرا خیال نہیں کہ ان کے نت نئے شوشوں کی وجہ سے مسلمانوں کی کس حد تک دلا ٓزاری ہوتی ہے۔ انہوںنے یہ سنگیں معاملہ اقوام متحدہ کے سامنے رکھنے اورا س پر او آئی سی کاا جلاس طلب کرنے کا عندیہ دیا، وزیراعظم عمران خان ایک فائٹر کی شہرت رکھتے ہیں ۔ وہ اہل مغرب کے اس رویئے کے خلاف مسلم امہ کو بیدار کرنے کا عزم کر لیں اور عالم ا سلام کو احتجاج کی کال دیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہالینڈ کی جسٹس پارٹی کے سربراہ کا دماغ ٹھکانے نہ آ ئے۔
بہرحال عمران خان نے اپنے ذمے کا فرض نبھا دیا، اب وزارت خارجہ کی افسر شاہی کو سب کچھ کرنا ہے۔ یہ کیا کرتی ہے، اس سے اچھی امید رکھنی چاہئے۔آخر اس کے بھی مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں اور حرمت رسولؐ کا اسے بھی تو احساس ہے۔
مصیبت یہ ہے کہ اہل مغرب وقفے وقفے سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچاتے رہتے ہیں، ان کی پہلی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ عالم ا سلام کو بے حس کر دیں تاکہ ان کی من مانی جاری رہے۔ کبھی امریکہ میںکوئی پادری اعلان کرتا ہے کہ وہ نعوذ بااللہ قرآن پاک نذر آتش کرے گا۔ کبھی ناروے سے کوئی بد طینت اٹھتا ہے اور وہ گستاخانہ خاکے چھاپ دیتا ہے اور مغربی دنیا کے اکثر اخبارات ان خاکوں کی باری باری اشاعت کرتے ہیں اور جلتی پر تیل ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، ابھی یہ تپش ختم نہیں ہوتی کہ فرانس کا کوئی دریدہ دہن جریدہ چارلی ہیبڈو گستاخانہ خاکے شائع کر کے مسلمانوں کو تڑپا دیتا ہے،اس جریدے کے خلاف رد عمل سا منے ا ٓتا ہے اور اس کے دفتر پر مسلح حملہ آور لپکتے ہیں جس میں کئی جانوں کا نقصان ہو
جاتا ہے تو مسلمانوں پر ایک نیا فتوی لگ جاتا ہے کہ یہ مسلمہ دہشت گرد ہیں، اہل مغرب کا خیال ہے کہ وہ مسلمانوںکو اشتعال دلاتے رہیں مگر مسلمان آگے سے کوئی جواب نہ دیں، بے غیرتی اور بے حمیتی کا شیوہ اختیار کر لیں، اسی طرح اسپین میں مسلمانوں کا نام و نشان ملیامیٹ کیا گیا تھا۔ وہ زمانہ میڈیا کا نہیں تھا اس لئے اہل مغرب کی مہم صرف ایک ملک کے اندر محدود رہی۔ شروع میں مسلمانوں کے خداا ور رسول ﷺ کے خلاف بھرے چوکوں میں گالیاں بکی جاتیں۔ پھر جلوسوں کی شکل میں گالیاں دی جانے لگیں۔جب دشمنوں کو یقین ہو گیا کہ مسلمان مکمل طور پر بے حس ہو چکے ہیں تو انہوںنے گھر گھر پرحملہ کیا اور کیا جوان ا ور کیا بچہ، کیا بوڑھا اور کیا عورت، ہر ایک کو تہہ تیغ کر دیا۔ اسپین واحد ملک ہے جہاں مسلمانوں نے پانچ سو سال تک حکومت کی مگر وہاں اسلام کا کوئی نام لیوا باقی نہ رہا۔ اب اسی فارمولے کو وسیع طور پر مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے۔ نئی مہم کو آزادی اظہار کے حق کی آڑ میں شروع کیا گیا ہے مگر دنیا بھر کا مسلمہ اصول ہے کہ آزادی کی ایک حد ہوتی ہے اور جہاں آپ کی آزادی کی حد ختم ہوتی ہے وہاں سے دوسرے کی آزادی کی حد شروع ہو جاتی ہے مگر اہل مغرب اس اصول کو کیوں تسلیم کریں ، ان کے مقاصد گھنائونے اور فتنہ و فساد پر مبنی ہیں۔وہ خود تو اپنے کسی نبی کے خلاف بات نہیں سن سکتے، ویسے نہ مسلمانوں کا شیوہ ہے کہ وہ ان کے انبیا کو برا بھلا کہیں کیونکہ قرآن کہتا ہے کہ تم دوسروں کے بتوںاور خدائوں کو برا بھلا مت کہو مبادا وہ تمہارے خدا کے خلاف بولنا شروع کر دیں۔ میں ایک مرتبہ اسلام آ ٓباد کے فرانسیسی سفارت خانے میں ویزہ لگوانے گیا۔ وہاں پریس سیکشن میں جانا ہوا اور میںنے ان سے فرانس کے بارے میں لٹریچر لیا جس میں میڈیا کے لئے ضابطہ اخلاق بھی موجود تھا۔ا س کی رو سے فرانسیسی صدر، وزیر اعظم حتی کہ کسی وزیر پر تنقید کو بھی جرم قرار دیا گیا تھا۔ برطانیہ والے ملکہ پر کوئی تنقید سننا گوارا نہیں کرتے۔مگر اسلام پر حملے بار بار ہو رہے ہیں اور مسلانوں کے صبر و تحمل کو آزمایا جا رہا ہے۔ مسلمان سب کچھ برداشت کر سکتے ہیں ، اپنے نبی ﷺ کی بیحرمتی برداشت نہیں کر سکتے مگر یہ پاپ کھل کر کیا جارہا ہے اور اس کے پیچھے مذہبی جنونی نہیں بلکہ اچھے بھلے، پڑھے لکھے اخبار نویس اور سیاسی راہنما سرگرم عمل ہیں، انہیں ہم پاگل یا بیوقوف تو نہیں کہہ سکتے۔ وہ سوچ سمجھ کر ایک مہم چلا رہے ہیں اور یہ بھی اسی صلیبی جنگ کا حصہ ہے جسے صدر بش نے نائن الیون کے بعد شروع کیا تھا۔ مسلمان اب تک تو اس صلیبی جنگ میں بھسم ہو رہے ہیں ، ایک کے بعد ایک اسلامی ملک کو نشانہ بنایا جا رہا ہے مگر مسلمانوںمیں کوئی اتفاق والی بات نظر نہیں آتی، او آئی سی بھی لمبی تان کر سو رہی ہے اور اقوام متحدہ کے سارے اقدامات بھی عالم اسلام کے خلاف ہی ہیں۔ اس پس منظر میں ہم کیا کریں اور کیا نہ کریں ، اس کے لیے ہمیں کوئی راہبر چاہئے، کوئی راہنما چاہئے ، کوئی لیڈر چاہئے۔ کیا عمران خان یہ کردار ادا کریں گے۔ کیا ہی بہتر ہو کہ وہ انڈونیشیا، سعودی عرب اور ترکی کے نمائندوں کو ایک جگہ اکٹھا کریں اور کوئی راہ عمل تیار کریں، کوئی صلاح الدیں ایوبی ، کوئی طارق بن زیاد، کوئی خالد بن ولید۔ کوئی سلطان محمد فاتح۔
ضرور پڑھیں: زرداری کو ایف آئی اے کے سامنے خاموش رہنے کا مشورہ نہیں دیا: ڈاکٹر عاصم