خبرنامہ

گلگت بلتستان پر ڈاکٹر شفیق جالندھری کے سفر نامے…..کالم اسد اللہ غالب

کوئٹہ چرچ

گلگت بلتستان پر ڈاکٹر شفیق جالندھری کے سفر نامے…..کالم اسد اللہ غالب

ذکر تو ایک کتاب کا ہے مگرا س میں سفرنامے ان گنت ہیں۔ ہجرت کے ایک طویل سفر سے پہلے کے دو سفر نامے اور پھر تین سال تک اس علاقے میں مقیم رہ کر دل کھول کر سیرو سیاحت کا حال۔ میرے جیساآدمی گلگت بلتستان کے صرف خواب ہی دیکھ سکتا ہے مگر اللہ نے ڈاکٹر شفیق جالندھری کو شوق بخشا کہ وہ اس جنت نظیر علاقے میں بار بار جائیں اور ہر بارایک نیا سفر نامہ لکھ ڈالیں۔ سفر نامہ بھی ایسا کہ اس میں گلگت بلتستان کا ہر رنگ موجود ہے، ڈاکٹر صاحب کے مشاہدے اور پھر اس کے بیان کی قدرت اور صلاحیت کو قاری داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ کتاب پڑھتے ہوئے اس کے سامنے بو قلموں فلم چلنے لگتی ہے۔ نیشنل جیو گرافک کے پیشہ ور کیمرہ مینوںنے بھی ایسی فلم کیا بنائی ہو گی۔ ڈاکٹر صاحب کے الفاظ تصویروںمیں ڈھل جاتے ہیں اور یہ تصویریں آپ سے باتیں کرتی ہیں ، آپ کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔آپ کے اندر مہم جوئی کا شوق فراواں پیدا کرتی ہیں۔ اور اگر میری طرح سستی کے مارے ہوئے نہیں تو پھر ان حسین وادیوں ، ان دلکش نظاروں ، ان گنگناتے آبشاروں اور مترنم جھرنوں ،ان سر بفلک چوٹیوں اور ان پرستانوں کی طرف کھنچے چلے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی یہ کتاب ایک صحافتی معرکہ تو ہے ہی مگر میں اسے عظیم ادبی شہہ پارہ بھی کہوں گا۔
اصل میں ڈاکٹر صاحب کا قلم تو امریکہ کا ایک سفر نامہ لکھتے ہوئے پوری طرح کھل گیا تھا۔ امریکہ نامہ ایک سفرنامہ بھی تھا ایک انسائیکلو پیڈیا بھی تھا۔میں نے اپنا پہلا سفر امریکہ کیا تو کوشش کی کہ ہر وہ چیز دیکھوں جس کا ذکر ڈاکٹر صاحب نے بالخصوص کیا ہے۔ میری یہ حسرت بھی پوری ہو گئی کہ میں امریکہ کے پہلے اسکول آف جرنلزم آئی اوو ا کا منظر بھی دیکھوں جو اب یونیورسٹی بن چکا ہے اور جہاں سے ہمارے ا س دوست نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی، اس اسکول سے فارغ التحصیل ہونے والے ڈاکٹر قاری مغیث بھی ہیں ،یہ دونوں پہلے تو پنجاب یونیورسٹی میں اکٹھے رہے ، اب یونیورسٹی آ ف سنٹرل پنجاب میں یک جا ہیں۔ شاید یہ کرامت آئی اووا کے اسکول آف جرنلزم کی ہے ۔مجھے بھی موقع ملا کہ اس کی ایک کلاس میں شرکت کروں مگر یہ شرکت ایک مہمان کے طور پر تھی ۔میں صرف طالب علموں اور ان کے ٹیچر کو حصول تعلیم میںمشغول دیکھ سکتا تھا، مجھے کوئی سوال جواب کرنے کی اجازت نہ تھی۔میرے ساتھ جاوید صدیق بھی تھے۔
گلگت کے ساتھ میرا ربطہ بھی تین چار بار اتفاقیہ ہو گیا۔ ایک تو میں جن دنوں مسلم ٹاﺅن لاہور میںمقیم تھا ور میرے گھر میں ڈکیتی ہوئی تو جس پولیس افسر نے چند ہفتوں میں اس کا سراغ لگا لیا تھا اور سارے ملزم پکڑ لئے تھے، وہ ٹرانسفر ہو کر گلگت میں اعلی پولیس افسر بن گئے ۔ دوسرے ایک روز میںنے کسی کام کے لئے پریس کمیشن آف پاکستان کے چیئر مین کو فون کیا تو انہوںنے یہ کہہ کر مجھے مبہوت کر دیا کہ ان کا تبادلہ گلگت ہو گیا ہے اور وہ یہاں چیف جسٹس ہیں، ایک فون کال میں نے آئی ایس پی آر کے ایک افسر کو ملائی تو انہوںنے بھی کہا کہ وہ تو تبدیل ہو کر گلگت آ گئے ہیں اور اب یہاں کے گیریژن کمانڈر ہیں۔اب ڈاکٹر شفیق جاندھری کے اس سفر نامے نے تو میرے خوابوں کی سرزمین کے حسین سے حسین تر گوشوں سے ملاقات کروا دی ہے۔ ہمارے دوست شعیب بن عزیز تو کہتے ہیں کہ لوگوں کا خیال ہے کہ سفر نامہ پڑھ کر قاری اس علاقے کے سیرو سفر سے جی بھر لیتا ہے مگر ڈاکٹر شفیق جالندھری کے سفرنامے تو اکساتے ہیں کہ قاری بھی وہاں جائے ا ور سب کچھ آنکھوں سے دیکھے۔مجیب الرحمن شامی کے تبصرے کا ڈھنگ اپنا ہی ہے وہ زبان و بیان کے ماہر تصور کئے جاتے ہیں۔کہتے ہیں کہ بہت کم پاکستانی ایسے ہوں گے جنہوں نے ڈاکٹر شفیق جالندھری کی طرح گلگت بلتستان سے ملاقات بلکہ ملاقاتیں کی ہوں۔ اور پھر انہوںنے اس کی تفصیل بھی دلچسپ پیرائے میں لکھ دی ہو۔وہ اس خطہ حسین کو کئی باردل کی آنکھوں میں بند کرکے ذہن کے آئینے میں اتار چکے تھے۔دور تک دیکھنے اور معاملات کہ تہہ تک اترنے والے ابلاغی علوم کے ایک ماہر نے قلم کیاا ٹھایا ہے کہ گلگت کے ماضی حال اور مستقبل کی ایسی جھلک دکھا دی ہے جس سے سی پیک کی گزر گاہ کا یہ علاقہ اپنی پوری اہمیت کے ساتھ اجاگر ہو جاتا ہے۔یہ سفر نامہ ہم پاکستانیوں کے لئے تو چشم کشا ہے مگر گلگت بلتستان کے لوگوں کو بھی ان کا احسان مند ہونا چاہئے کہ ڈاکٹر صاحب کے قلم نے جغرافیائی فاصلے مٹا دیئے ہیں اور یہ علاقہ ہمارے دلوں میں آن بسا ہے۔ ڈاکٹر مجاہد منصوری بھی شفیق صاحب کے کولیگ رہے، ان کی رائے صائب ہے کہ ڈاکٹر شفیق جالندھری کی فکر نکھری ہوئی اور تحریر فصاحت و بلاغت سے معطر اور لبریزہے۔ہمارے سفر ناموں میں زبان کا چٹخارہ تو موجود ہوتا ہے لیکن یہ مقصد سے عاری تحریریں کسی آوارہ گرد کی ڈائری سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتیں۔مگر ڈاکٹر شفیق صاحب کا سفر نامہ ملکی یک جہتی اور قومی اتحاد کے لئے بھی مینارہ نور کی حیثیت رکھتا ہے۔
ڈاکٹر صاحب سے میرا تعارف اس وقت ہو ا جب وہ اعلی تعلیم کے لئے لاہور آئے ، سمن ا ٓباد کی ایک کوٹھی کے تین کمرے مختلف نوجوانوں نے کرائے پر لے رکھے تھے، وہیں ایک کمرہ ان کے پاس تھا اور ایک میرے پاس۔ اس بات کواڑتالیس برس گزر چکے، اس قدر طویل رفاقت نے شفیق صاحب سے گھریلو مراسم استوار کرنے میںمدد دی حتی کہ میں جب کبھی بر طانیہ گیا تو مانچسٹر میں ان کے ایک ٹیلنڈ کزن چودھری غلام محی الدین کے گھر ہی طویل قیام کیا کرتا تھا۔ ایک بار تو ڈاکٹر صاحب بھی ناروے سے ہوتے ہوئے میری موجودگی میں مانچسٹر چلے آئے ، ان کے ساتھ پنجاب یونیورسٹی کے ایک شریف النفس اور حلیم الطبع وائس چانسلرڈاکٹرمنیر الدین چغتائی بھی تھے۔کہیں سے ہماری ملاقات اردو کے سب سے بڑے انشائیہ نگار سید مشکور حسین یاد سے بھی ہو گئی۔ یہ سفر مجھے کبھی نہین بھولے گا جس کے آخری مرحلے پر قتیل شفائی جیسا عظیم شاعر بھی شامل ہو گیا تھا۔ اور ہم نے اسکاٹ لینڈ کی سحر انگیز جھیلوں کو ایک ساتھ دیکھا تھا۔
ڈاکٹر شفیق جالندھری ہمہ جہت انسان ہیں۔وہ پنجاب یونورسٹی میں لیکچرر کی حیثیت سے بھرتی ہوئے اور صدر شعبہ کے طور پر ریٹائر ہوئے۔۔ پھر وہ گلگت کی قراقرم یونیورسٹی سے وابستہ ہوئے، واپسی پر لاہور میں لیڈز یونیورسٹی میں تدریسی فرائض ادا کے ، جہاں سے وہ سنڑل پنجاب یونیورسٹی کے لئے لازم ملزوم بن گئے۔وہ ایک باکمال کالم نویس ہیں ، ایک مرتبہ ڈاکٹر محمود چودھری نے کینسر پر تین گھنٹے تک پنجابی میں گفتگو کی، ڈاکٹر صا حب نے اسے اردو کے قالب میں پیش کیا جس پر ڈاکٹر محمود چودھری بھی عش عش کر اٹھے۔ان کی قلمی مہارت کی ایک گواہی میں اور دیتا ہوں ۔ ایک بار انہوںنے مجھ سے پوچھا کہ فیچر نگاری کیا ہوتی ہے میںنے کہا کہ میں کتابی تشریح مہیا کر سکتا ہوں۔ اپنی فیچر نگاری کے کچھ تجربے بیان کرتا ہوں اور میں نہیں جانتا کہ میری یہ گفتگو کتنے گھنٹوں پر محیط تھی مگر ڈاکٹر صاحب کی ایک کتاب فیچر نگاری پر شائع ہوئی تو اس میں ایک طویل باب میری گفتگو پر مبنی تھا۔ بخدا! ڈا کٹر شفیق جالندھری کے قلم میں کوئی جادو ہے کہ وہ جزئیات تک کو بڑی مہارت سے تحریر کا حصہ بنا دیتے ہیں اور یہی جزئیات در اصل ان کی تحریر میں کشش پیدا کرتی ہیں ، گلگت بلتستان کے زیر نظر سفر نامے میں قاری انہی جزئیات کے سحرمیں کھو کر رہ جاتا ہے۔