خبرنامہ

آرمی چیف جنرل باجوہ نے امریکی وزیر دفاع کو کھری کھری سنا دیں

آرمی چیف جنرل باجوہ نے امریکی وزیر دفاع کو کھری کھری سنا دیں
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکی وزیر دفاع سے ملاقات میں بھارت کی جانب سے افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے جی ایچ کیو میں ملاقات کی جس میں افغانستان سمیت خطے کی سیکیورٹی صورت حال اور دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں آرمی چیف نے پاک امریکا تعلقات کی طویل تاریخ بالخصوص خطے میں امن کے لیے موجودہ مثبت کوششوں کو سراہا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملاقات میں کہا کہ پاکستان نے امن کے لیے اپنی استطاعت اور وسائل سے زیادہ کام کیا اور ہم بین الاقوامی برادری کے ایک ذمہ دار رکن کی حیثیت سے اپنی کوششیں جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کو دہراتے ہوئے بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے پر تشویش کا اظہار کیا۔

پاک فوج کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف نے افغان مہاجرین کی باعزت طریقے سے جلد واپسی اور افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کی موجودگی کے حوالے سے پاکستان کے تحفظات کا بھی اظہار کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق جیمز میٹس نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے موثر کاررائیوں کو تسلیم کیا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ عناصر پاکستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے افغانستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق جیمز میٹس نے کہا کہ امریکا پاکستان کے حقیقی تحفظات کے تدارک کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد پاکستان سے کوئی مطالبہ کرنا نہیں ہے لیکن ہم مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے پاکستانی موقف کو سمجھنے پر امریکی وزیر دفاع کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں امریکا سے سوائے معاملات کو سمجھنے کے کسی بھی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔

پاک فوج کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ہم نے اپنی سرزمین سے شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا خاتمہ کیا اور جو تخریب کار افغان مہاجرین کے لیے پاکستان کی میزبانی کو تباہ کرنے کی کوشش کر کے ہم ان سے نمٹنے کے لیے بھی تیار ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق آرمی چیف اور امریکی وزیر دفاع نے مخصوص اور پائیدار کوششوں کے لیے دو طرفہ کارروائیوں میں تعاون پر اتفاق کیا۔

دوسری جانب امریکی سفارت خانے کی جانب سے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جیمز میٹس نے جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات میں دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کوسراہا اور کہا کہ پاکستان اور امریکا مل کر افغان امن عمل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اعلامیے کے مطابق جیمز میٹس نے پاکستانی حکام سے کہا کہ اپنی سرزمین سے دہشت گردوں اور انتہاپسندوں کے خاتمے کی کوششیں دگنی کی جائیں۔

خیال رہے کہ امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس آج ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچے تھے جہاں انہوں نے وفد کی صورت میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کی تھی۔