خبرنامہ

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیرِصدارت کوکمانڈر کانفرنس

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیرِصدارت کوکمانڈر کانفرنس

راولپنڈی:(ملت آن لائن) سربراہ پاک فوج جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیرصدارت کور کمانڈر کانفرنس ہوئی جس میں قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے نکات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے کور کمانڈر کانفرنس سے متعلق بذریعہ ٹوئٹ آگاہ کیا۔ترجمان کے مطابق سربراہ پاک فوج کی زیرصدارت جنرل ہیڈ کوارٹر میں کور کمانڈر کانفرنس ہوئی جس میں ملکی اندرونی صورتحال سمیت تیزی سے بدلتی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ ترجمان کے مطابق کور کمانڈر کانفرنس کے دوران نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے اجلاس کے نکات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

…………………………

اس خبر کو بھی پڑھیے….ٹرمپ کا پاکستان مخالف بیان: قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس شروع

اسلام آباد:(ملت آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیان کے بعد وزیراعظم نے قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس شروع ہوگیا۔ وفاقی کابینہ کا اجلاس آج شام طلب کیا گیا تھا جسے اب ملتوی کرکے کل طلب کیا گیا ہے جب کہ قومی سلامتی کمیٹی کا آج ہی بلایا گیا ۔امریکا نے 15 برسوں میں احمقوں کی طرح پاکستان کو 33 ارب ڈالر امداد دی، ٹرمپ وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس شروع ہوچکا ہے جس میں تینوں سروسز چیفس، ڈی جی ایم او اور ڈی جی آئی ایس آئی سمیت، وزارت خارجہ اور داخلہ کے سیکریٹریز بھی شریک ہیں۔اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان میں امریکی سفیر اعزاز چوہدری کو ہنگامی طور پر بلایا گیا اور وہ اجلاس میں خصوصی طور پر شرکت کررہے ہیں۔ اعزاز چوہدری کو امریکی صدر کے بیان پر پاکستان کا لائحہ عمل بتایا جائے گا جس سے وہ امریکا کو آگاہ کریں گے۔ ڈی جی ایم او اور ڈی جی آئی ایس آئی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اب تک کی کامیابیوں پر اجلاس کو بریفنگ دیں گے جب کہ وزارت خارجہ کے حکام پاکستان کے سفارتی رابطوں کے حوالے سے بریف کریں گے۔ امریکی صدر کے بیان پر پاکستان اپنا رد عمل دینے کے لیے جوابی بیانیہ تیار کرے گا۔ وفاقی کابینہ کا اجلاس کل ہوگا دوسری جانب وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت کل ہوگا جس میں ملکی اقتصادی معاشی صورتحال سمیت سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیان پر امریکی سفیر کی دفتر خارجہ طلبی کابینہ اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان پر الزامات سے متعلق بیان کا معاملہ بھی زیر غور آنے کا امکان ہے۔ وفاقی کابینہ 14 نکاتی ایجنڈے پر غور کرے گی، پرتگال، مصر اور بوسنیا کی حکومتوں کے ساتھ تعاون بڑھانے کی یاداشتوں کی منظوری ایجنڈے میں شامل ہے۔
پاکستان اسٹون ڈیولپمنٹ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل نو، کراچی سے کابل ممنوعہ گاڑیوں کے 51 پارٹس کے کنٹیرز کو جانے کی اجازت، آرٹ اینڈ کلچر بل کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی منظوری اور پورٹ قاسم اتھارٹی کے چیرمین آغا جان اختر کی مدت ملازمت کی توسیع کی سمری ایجنڈے میں شامل ہے۔ ٹرمپ جیسے 10 بھی پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے،سیاسی رہنماؤں کا ردعمل مردم شماری کے عبوری نتائج حلقہ بندیوں کے لئے استعمال کرنے کی منظوری بھی کابینہ کے ایجنڈے کا حصہ ہے جس کی منظوری کے بعد مردم شماری کے عبوری نتائج الیکشن کمیشن کو بھجوائے جائیں گے۔خیال رہے کہ ملک میں چھٹی مردم شماری 15 مارچ سے 25 مئی 2017 کے دوران کی گئی جس کے دوران ملک کو کُل ایک لاکھ 68 ہزار بلاکس میں تقسیم کیا گیا تھا۔ٹرمپ کی پاکستان پر تنقید ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹر پر ایک بار پھر پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکا نے گزشتہ 15 سالوں کے دوران اسلام آباد کو 33 ارب ڈالر امداد دے کر بے وقوفی کی۔انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ امریکا نے گزشتہ 15 برس میں احمقوں کی طرح پاکستان کو 33 ارب ڈالر امداد کی مد میں دیے اور انہوں نے ہمیں جھوٹ اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں دیاامریکی صدر نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ پاکستان نے ہمارے حکمرانوں کو بے وقوف سمجھا، جن دہشت گردوں کو ہم افغانستان میں ڈھونڈتے رہے پاکستان نے انہیں محفوظ پناہ گاہیں دیں اور ہماری بہت کم معاونت کی، لیکن اب مزید نہیں۔ ٹرمپ کے ’نومور‘ کی کوئی اہمیت نہیں، وزیر خارجہ خیال رہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران امریکا کی جانب سے پاکستان پر متعدد بار دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کیا جا چکا ہے جس کے جواب میں پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے واضح پیغام دیا تھا کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دیں اور امریکا اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر گرانے کے لیے بے بنیاد الزامات عائد کر رہا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل بھی پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے پاکستان کی امداد بند کرنے کی دھمکیاں دے چکے ہیں۔گزشتہ برس دسمبر میں امریکی وزیر دفاع جیمس میٹس نے پاکستان کا دورہ کیا تھا جس میں انہوں نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف بھی کیا تھا۔