اب یہ ہماری، تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کی مشترکہ جنگ ہے، طاہر القادری
لاہور:(ملت آن لائن) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے کہا ہے کہ اب یہ صرف ہماری نہیں بلکہ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کی مشترکہ جنگ ہے۔سانحہ ماڈل ٹاؤن پر متحدہ اپوزیشن کے احتجاجی جلسہ سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ کوئی فیصلہ تنہا نہیں ہوگا، مشترکہ جنگ مل کر لڑیں گے، آیندہ دو دن میں دوبارہ ملاقات کررہے ہیں جس میں آیندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔
طاہر القادری کا کہنا تھا کہ اب حکومت کو کوئی نہیں بچاسکتا، انہیں اب جانا ہوگا۔
’ایسی پارلیمنٹ پر جو مجرم کو پارٹی سربراہ بنائے، میں لعنت بھیجتا ہوں‘
اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے جلسے سے خطاب میں کہا کہ دنیا میں کہیں شہریوں کی طرف پولیس اس طرح گولیاں نہیں چلاتی۔ عمران خان نے کہا کہ ساری دنیا نے ٹی وی پر دیکھا کہ پولیس نہتے شہریوں پر گولیاں چلا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں لڑکی کی بے حرمتی کے واقعے میں پولیس نے 9 ملزمان کو گرفتار کیا جبکہ مشال خان قتل کیس میں 57 میں سے 55 ملزمان جیل میں ڈالے گئے۔عمران خان نے کہا کہ زینب کے والدین نے پنجاب پولیس اور وزیراعلیٰ پنجاب کے بجائے چیف جسٹس اور آرمی چیف سے انصاف مانگا کیوں کہ انہیں پتہ تھا کہ انصاف وہیں سے ملے گا۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس میں کوئی سیاسی مداخلت نہیں، پہلے پیسے لے کر پوسٹنگز اور ٹرانسفر کیے جاتے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ جرائم کے اعداد و شمار میں صوبے میں بہتری آئی ہے جبکہ دہشتگردی بھی کم ہوئی ہے۔عمران خان کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے آئی جی عباس خان سے پوچھا کہ پنجاب پولیس کرپٹ کیوں ہے جس پر ان کا کہنا تھا کہ شریف خاندان نے میرٹ ختم کرکے پولیس میں بھرتی کی۔انہوں نے کہا کہ کرپشن کی دوسری وجہ پیسے دے کر پولیس کی نوکری ملنا ہے، جو پیسے دے کر بھرتی ہوا اس نے ریکوری تو کرنی ہے اپنے پیسوں کی۔انہوں نے شہباز شریف کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ آپ مردان جائیں اور پولیس پر تنقید کریں گے تو لوگ آپ کو انڈے اور ٹماٹر ماریں گے۔عمران خان نے کہا کہ پورے وثوق سے کہتا ہے کہ ماڈل ٹاؤن میں سب کچھ حکم پر کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ 40 سال سے ان دونوں بھائیوں کو جانتا ہوں، سابق وزیراعظم نواز شریف جمہوریت پر یقین ہی نہیں رکھتے، یہ ضیاء الحق سے کہتے تھے کہ بڑا اچھا کیا ذوالفقار بھٹو کو پھانسی لگائی۔انہوں نے کہا کہ چار سال ہونے کو ہیں پر سانحہ ماڈل ٹاؤن کا کوئی مجرم نہیں پکڑا گیا کیوں کہ یہ خود مجرم ہیں۔عمران خان کے مطابق حافظ آباد میں ضمنی انتخاب کے موقع پر پولیس کے ایس پی ن لیگ کے لیے ووٹ مانگ رہے تھے۔عمران خان نے کہا کہ شیخ رشید کی قومی اسمبلی کی نشست سے استعفے سے متعلق باتوں سے اتفاق کرتا ہوں، ہم نے پہلے بھی استعفے دیے تھے لیکن انہوں نے قبول نہیں کیے۔انہوں نے کہا کہ شیخ رشید کا استعفوں کا خیال اچھا ہے اپنے جماعت سے بات کروں گا، ہوسکتا ہے جلد آپ کو جوائن کرلیں۔سربراہ تحریک انصاف نے کہا کہ جس پارلیمنٹ نے مجرم کو پارٹی صدر بنا دیا، اس پارلیمنٹ پر لعنت بھیجتا ہوں۔
’آئین نہیں سلطنت شریفیہ کا خاتمہ چاہتے ہیں‘
اس سے قبل پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے جلسے سے خطاب میں کہا کہ وہ ملک کا آئین نہیں بلکہ سلطنت شریفیہ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ زرداری صاحب آج سب کے اکٹھے ہونے میں میرا کمال نہیں، یہ کمال سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کی قربانیوں کا ہے، یہ کمال ہے ان معصوم بچوں بچیوں کاجن کی حفاظت کیلیے سب اکٹھے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں اتنی تقسیم و تفریق ہوچکی ہے کہ کسی معاملے پر مل بیٹھنے کا حوصلہ نہیں رہا۔ طاہر القادری نے کہا کہ آج ہم سب سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کو انصاف دلانے جمع ہوئے ہیں، سب کو بلانے کا مقصد اپنی ذات کے لیے کچھ حاصل کرنا نہیں بلکہ سوئی ہوئے شعور کو جگانا اور بے آوازوں کو آواز دینا ہے۔ عوامی تحریک کے سربراہ نے کہا کہ انسانی حقوق کچلے جارہے ہیں اور قومی دولت لوٹی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ عدلیہ کو آزاد رکھنے اور ہر مظلوم کو انصاف دلانے اور ملک کو درندوں سے بچانے کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں، قوم اٹھے اور پہچانے کہ دشمن کون ہے۔ طاہر القادری نے کہا کہ ہم اس ملک کے امن کو نہیں توڑنا چاہتے، اگر ایسا کرنا ہوتا تو نواز شریف اور شہباز شریف کو جاتی امرا سے باہر ایک قدم رکھنے کی جرات نہ ہوتی، چاہتے ہیں قانون عوام اور نوازشریف کے بچوں سب کے لیے برابر ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا شیوہ نہ توڑ پھوڑ ہے نہ جلاؤ گھیراؤ ہے، ہمیں قانون ہاتھ میں لینا ہوتا تو سانحات برداشت نہ کرتے، سلطنت شریفیہ کے جرائم کے خلاف آج جمع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک بھائی کو عدلیہ نے نااہل کیا دوسرے بھائی نے 14 بے گناہوں پر فائرنگ کرائی، سپاہی سے لے کر آئی جی تک تقرر و تبادلہ ان کے ہاتھ میں ہے۔ طاہر القادری کے مطابق پوری دنیا میں ایک سیاسی جماعت ایسی نہیں جس کا نام کسی شخص کے نام پر ہو، کیا پاکستان سلطنت شریفیہ کے لٹیروں کیلیے بناتھا؟ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 10سال میں ساڑھے 700 ارب روپے پنجاب پولیس کو دیے گئے، پولیس نے جاتی امرا کو تو تحفظ دیا لیکن غریبوں کو تحفظ نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ سلطنت شریفیہ کا سیا سی لشکر ہے، انہوں نے دہشتگردی کا کلچر متعارف کیا ہے، انہیں امن سے دشمنی ہے۔ دوسری مرتبہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے طاہر القادری نے کہا کہ ہم نے بھی دیکھا کہ 15سو سے 2000 کے قریب لوگ فیض آباد کے قریب بیٹھے تو کچھ نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کارکنوں سے کہہ دوں تو تم جاتی امرا سے باہر قدم نہ رکھ سکو، چاہیں تو تمہیں سبق سکھا دیں لیکن قانون ہاتھ میں لینے کا فیصلہ نہ کیا نہ کریں گے۔
طاہر القادری کا کہنا تھا کہ اب انہیں کوئی نہیں بچاسکتا، انہیں اب جانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ کوئی فیصلہ تنہا نہیں ہوگا، مشترکہ جنگ مل کر لڑیں گے، آیندہ دو دن میں دوبارہ ملاقات کررہے ہیں جس میں آیندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔
’جب چاہوں ان کو نکال سکتا ہوں‘
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا کہ میں جب چاہوں ان کو نکال سکتا ہوں اور اس میں مجھے بالکل دیر نہیں لگے گی۔ان کا کہنا تھا کہ ان کے منہ سے بڑے پھول جھڑتے تھے، ہم جمہوریت کی خاطر جواب نہیں دیتے تھے، لیکن اب یہ چاہتے ہیں جمہوریت کا سفر پورا نہ ہو۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ آپ کے ساتھ ابھی ہوا کیا ہے؟ ہوا تو پیپلزپارٹی کے ساتھ ہے،ہوا تو قادری صاحب کے ساتھ ہے، ہم نے ہمیشہ پاکستان کھپے کہا، ہمیشہ پاکستان کی بات کی انہوں نے کہا کہ اس ملک کو خطرہ اور کسی سے نہیں صرف جاتی امرا ہے، یہ چاہتے ہیں پاکستان کمزور ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ دعا اور دوا دینا ہم سیاسی لوگوں کا کام ہے، سیاست کریں لیکن ملک کے خلاف کوئی سیاست نہیں ہوتی۔
آصف زرداری کے بیان پر خواجہ آصف کا ردعمل
لاہور میں متحدہ اپوزیشن کے احتجاج کے دوران پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کی جانب سے کی گئی تقریر پر خواجہ آصف نے سخت ردعمل پیش کیا۔ خواجہ آصف نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ آصف زرداری وفاقی و صوبائی حکومتوں میں رہنے کے باوجود اپنی بیوی کے قاتلوں کو نہ پکڑ سکے لیکن اب اوروں کے قاتل پکڑنے کے لیے جلسے کر رہے ہیں۔ رہنما مسلم لیگ (ن) نے مزید کہا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو جس کو بی بی کا قاتل کہتے ہیں، ان کے والد اس شخص کو صدر رکھنے پہ مصر تھے۔ خواجہ آصف نے مزید کہا کہ آصف زرداری نے پھر اس شخص کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا، لہذا آصف زرداری اور بلاول پہلے گھر میں بے نظیر بھٹو کے قتل کے حوالے سے فیصلہ کر لیں۔پاکستان عوامی تحریک کی زیر قیادت متحدہ اپوزیشن کے جلسے میں پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ، قمر زمان کائرہ، اعتزاز احسن، لطیف کھوسہ، راجہ پرویز اشرف، نیئر بخاری اور منظور وٹو سمیت دیگر رہنما شریک ہیں۔ متحدہ اپوزیشن کے احتجاج میں عوامی تحریک، پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے کارکنان بڑی تعداد میں شریک ہیں۔ جلسے کے لیے پنجاب اسمبلی کے سامنے کنٹینر پر اسٹیج لگا گیا ہے، کارکنان کے لیے کرسیاں اور لائٹیں لگائی گئی ہیں۔ جلسے کے لیے مال روڈ کے دونوں اطراف لائٹس کا بھی بندوبست کیا گیا ہے جب کہ احتجاج کے باعث مال روڈ سے ملحقہ سڑکوں پر ٹریفک کا شدید دباؤ ہے۔ شاہراہ فاطمہ جناح،کچہری روڈ، ہال روڈ، کوپر روڈ، بوڑھ والا چوک اور ایجرٹن روڈ پر بھی ٹریفک کی روانی متاثر ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری نے کہا ہےکہ شہبازشریف کے استعفے تک احتجاج جاری رہے گا۔
مصطفیٰ کمال کی لاہور آمد
ادھر پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین مصطفیٰ کمال احتجاج میں شرکت کے لیے لاہور پہنچے ہیں۔ لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ’ہم خاموش رہتے تو ظلم کا ساتھ دینے کے مترادف ہوتا‘۔ انہوں نے کہا کہ لاہور کے لوگوں پر گولیاں چلیں اور اس کا اثر کراچی تک ہوا لہٰذا کراچی کے لوگ بھی توقع رکھتے ہیں کہ ان پر ظلم و زیادتی ہو تو اس کی تکلیف بھی پورا پاکستان، بالخصوص پنجاب اور لاہور کے لوگوں کو بھی ہونی چاہیے۔
سیکیورٹی انتظامات
ڈی آئی جی آپریشز لاہور ڈاکٹر حیدر اشرف کے مطابق جلسے کی سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات ہیں، سیکیورٹی کے لیے 6 ہزار سے زائد پولیس اہلکار فرائض انجام دے رہے ہیں جب کہ 11 ایس پیز اور 24 ڈی ایس پیز بھی، 80 ایس ایچ اوز اور 60 انچارج انویسٹی گیشن بھی سیکیورٹی کے فرائض پر مامور ہیں۔ڈاکٹر حیدر اشرف نے بتایا کہ جلسہ گاہ میں شرکت کے لیے 4 مقامات مقرر کیے گئے ہیں، شرکت کے لیے آنے والوں کی تین مقامات پر چیکنگ ہوگی۔ڈی آئی جی کا کہنا ہےکہ ٹریفک کی روانی کے لیے بھی مؤثر حکمت عملی ترتیب دی گئی ہے، ناصرباغ، نیلاگنبد، باغ جناح اور پنجاب اسمبلی کے عقب میں پارکنگ بنائی گئی ہے، شہری ٹریفک وارڈنز کی ہدایات پر عمل کریں۔
رینجرز تعینات
پنجاب حکومت نے متحدہ اپوزیشن کے احتجاج کے موقع پر لاہور شہر میں رینجرز کو طلب کیا ہے، پنجاب اسمبلی سمیت دیگر اہم سرکاری عمارتوں پر رینجرز کی نفری تعینات کی گئی ہے۔ وزیر قانون پنجاب رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ احتجاج کے موقع پر پولیس اہلکار غیر مسلح ہوں گے، جب تک مظاہرین سرکاری یا نجی املاک کو نقصان نہیں پہنچائیں گے تب تک طاقت کا استعمال نہیں کیا جائے گا۔
طاہرالقادری کا 17 جنوری سے ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان
خیال رہے کہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے 8 جنوری کو آل پارٹیز کانفرنس کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس بعد پریس کانفرنس کے دوران 17 جنوری سے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے خلاف تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ اب وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ سے استعفے مانگیں گے نہیں، بلکہ لیں گے۔
سانحہ ماڈل ٹاؤن
یاد رہے کہ 17 جون 2014 کو لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ کے سامنے قائم تجاوزات کو ختم کرنے کے لیے آپریشن کیا گیا تھا۔ اس موقع پر پی اے ٹی کے کارکنوں کی مزاحمت اور پولیس آپریشن کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک اور 90 کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔ پنجاب حکومت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کے لیے 5 رکنی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی جس کی رپورٹ میں وزیراعلیٰ شہباز شریف اور وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ خان کو بے گناہ قرار دیا گیا تھا۔ جے آئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا کہ چھان بین کے دوران یہ ثابت نہیں ہوا کہ وزیر اعلیٰ اور صوبائی وزیر قانون فائرنگ کا حکم دینے والوں میں شامل ہیں۔ دوسری جانب اس واقعے کی جسٹس باقر نجفی کی سربراہی میں عدالتی تحقیقات بھی کرائی گئیں، جسے منظرعام پر نہیں لایا گیا تھا۔ جس کے بعد عوامی تحریک کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا، جس نے پنجاب حکومت کو مذکورہ انکوائری رپورٹ جاری کرنے کا حکم دیا۔ ماڈل ٹاؤن انکوائری رپورٹ سامنے آنے کے بعد ڈاکٹر طاہرالقادری نے دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطے شروع کردیئے اور حکومت کے خلاف ایک گرینڈ اپوزیشن الائنس بنایا گیا۔