خبرنامہ

اسلام آباد آپریشن:مظاہرین سے جھڑپوں میں پولیس اہلکار شہید، 170 سے زائد افراد زخمی

اسلام آباد آپریشن:مظاہرین سے جھڑپوں میں پولیس اہلکار شہید، 170 سے زائد افراد زخمی
اسلام آباد:(ملت آن لائن) فیض آباد انٹرچینج پر دھرنے کے خلاف سیکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری ہے جس کے دوران مظاہرین سے جھڑپوں میں ایک پولیس اہلکار شہید اور 170 سے زائد زخمی ہوگئے جب کہ پولیس نے متعدد مظاہرین کو گرفتار کرلیا۔ وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ کی جانب سے فیض آباد انٹرچینج پر دھرنے کے شرکاء کو دی گئی گذشتہ رات 12 بجے کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد آج صبح مظاہرین کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا گیا۔ اسلام آباد کے علاقے آئی ایٹ فور میں آپریشن کے دوران مظاہرین کے پتھراؤ سے ایک پولیس اہلکار شہید ہوگیا، جس کے سر پر چوٹ آئی تھی۔ آپریشن میں پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری حصہ لے رہی ہے، جنہوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے وقفے وقفے سے آنسو گیس کی شیلنگ اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔
شدید شیلنگ کے بعد مظاہرین منتشر ہونا شروع ہوگئے جبکہ پولیس نے درجنوں مظاہرین کو حراست میں بھی لے لیا۔ اطلاعات کے مطابق مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ اور غلیل کے ذریعے بنٹوں کا بھی استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار شہید جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔
مظاہرین نے ایک ایف سی اہلکار کو پکڑ کر شدید تشدد کا نشانہ بنایا لیکن ساتھی اہلکاروں نے اسے فوری طور پر مظاہرین کے قبضے سے چھڑا لیا۔ پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ کی گئی—۔جیو نیوز اسکرین گریب اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف اسپتالوں میں 170 سے زائد زخمیوں کو لایا گیا، جن میں 55 پولیس اور 35 ایف سی اہلکار بھی شامل ہیں۔پولیس پانچ سمت سے کارروائی کرتے ہوئے مری روڈ، راولپنڈی روڈ، کھنہ پل، اسلام آباد ایکسپریس وے، جی ٹی روڈ کی جانب سے پیش قدمی کرکے فیض آباد کو مظاہرین سے خالی کروانے کی کوشش کر رہی ہے۔ دوسری جانب مظاہرین نے 10 کے قریب گاڑیوں کو آگ لگادی جبکہ بارہ کہو کے مقام پر مری جانے والے راستے اور کنونشن سینٹر پر مری آنے جانے والے راستے کو بھی بند کردیا۔ اسلام آباد ہائی وے پر بھی ٹریفک معطل ہے اور کئی مقامات پر مظاہرین نے رکاوٹیں کھڑی کرکے اور آگ لگا کر ہائی وے بند کردی ہے۔ مشتعل مظاہرین نے سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کے گھر کا گیٹ توڑ دیا، جبکہ وزیر داخلہ کے گھر سے نکلنے والی بکتر بند گاڑی پر پتھراؤ بھی کیا گیا۔ فیض آباد اور ملحقہ علاقوں میں بجلی اور انٹرنیٹ سروس بھی بند کردی گئی۔ پولیس کی شیلنگ سے قریب موجود دفاتر میں کام کرنے والوں کو بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ مری روڈ پر اسکول بند کروا دیئے گئے۔