خبرنامہ

اسلام آباد دھرنا؛ سپریم کورٹ حکومت پر برہم؛اعلیٰ افسران طلب

اسلام آباد دھرنا؛ سپریم کورٹ حکومت پر برہم؛اعلیٰ افسران طلب
اسلام آباد:(ملت آن لائن)سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا ختم کرانے میں ناکامی پرحکومت پرسخت برہمی کا اظہارکردیا۔ فیض آباد دھرنے سے متعلق آئی بی اور آئی ایس آئی کی رپورٹس غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ پیشگی اطلاع کے باوجود دھرنے والوں کو کیوں نہیں روکا گیا؟۔ اٹارنی جنرل کی بھی سرزنش کی گئی۔ جسٹس فائز عیسٰی نے ریمارکس دیے کہ ہم کوئی حکم نہیں دیں گے۔ صرف قانون کی تشریح کریں گے۔ جو کام حکومت ہے وہ خود کرے۔ سپریم کورٹ میں دھرنا از خود کیس کی سماعت کے دوران آج وزارت داخلہ، دفاع اور آئی بی کی رپورٹ پیش کی گئی۔عدالت نے آئی بی اور آئی ایس آئی کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے آئی ایس آئی سے دوبارہ رپورٹ طلب کرلی۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ ایجنیسوں پر اتنا پیسہ خرچ کرتے ہیں ۔ ان کا کردار کہاں ہے؟ کچھ تو سنجیدگی دکھائیں، اس سے اچھی رپورٹ تو میڈیا دے دے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہر جگہ ہر کسی کا اپنا قانون ہے تو پھر آئین ختم کر دیں۔
اگر یہ صورتحال رہی تو پھر مقدمات عدالتوں میں نہیں سڑکوں پر لے جائیں، ریاست ختم ہو جائے گی تو قتل سڑکوں پر ہوں گے۔ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے تجویز دی کہ گولیاں نہ برسائیں، دھرنے کے علاقہ کا محاصرہ کر لیں ۔ان کی سہولیات بند کردیں۔ سوال اٹھایا کہ دھرنے والے کھانا کہاں سے کھا رہے ہیں ۔ اخراجات کون برداشت کر رہا ہے ۔ پیچھے کون ہے؟۔ سماعت کے دوران دھرنے کے باعث بچے کی ہلاکت کا تذکرہ بھی آیا۔ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ یہ بات دھرنے والوں کے دل میں سما جاتی تو وہ نہ صرف واپس چلے جاتے بلکہ توبہ بھی کرتے۔کوئی احکامات نہیں دیں گے، جو حکومت کا کام ہے وہ حکومت خود کرے۔
جسٹس مشیر عالم نے سوال اٹھایا کہ کیا کیا پنجاب میں کوئی دشمن حکومت ہے ؟۔ کیا حکومت کو یاد نہیں ماضی میں کیا ہوا تھا۔ اٹارنی جنرل نے بتایا دھرنے میں مسلح لوگ موجود ہیں ، ربیع الاول میں صورتحال خراب نہیں کرنا چاہتے۔ حکومتی اقدامات کو پبلک نہیں کرنا چاہتے ۔ چیمبر میں بتاسکتے ہیں۔ عدالت نے حساس اداروں کے اعلیٰ افسران کو طلب کرتے ہوئے سماعت ایک ہفتے کیلئے ملتوی کردی۔