خبرنامہ

الیکشن کمیشن کا انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کا موقف جانب دارانہ ہے: عامر خان

الیکشن کمیشن کا انٹرا

الیکشن کمیشن کا انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کا موقف جانب دارانہ ہے: عامر خان

کراچی:(ملت آن لائن) ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما عامر خان کی جانب سے الیکشن کمیشن کے موقف پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے. الیکشن کمیشن کی جانب سے نئے کنوینر کے لیے انٹرا پارٹی الیکشن کی شرط پر تنقید کرتے ہوئے عامر خان نے کہا ہے کہ یہ موقف کسی طور درست نہیں. ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم ایک سیاسی جماعت ہے، ہم اپنے پارٹی آئین کے مطابق فیصلہ کریں‌ گے. یہ ٹانگہ پارٹی نہیں ہے، کسی اور جماعت کے آئین پر عمل نہیں کریں گے. عامر خان نے الیکشن کمیشن کا پہلےانٹراپارٹی الیکشن کرانے کے موقف پر کہا ہے کہ جب عشرت العباد کو ہٹا کر عمران فاروق کو کنونیر بنایا، ب پارٹی الیکشن نہیں ہوتے تھے، اسی طرح جب ندیم نصرت کو کنونیر بنایا گیا تب بھی انٹرا پارٹی الیکشن نہیں ہوئے.
یہ مائنس ون کے بعد اب مائنس ٹو کر رہے ہیں، فاروق ستار
انھوں نے مثال دی کہ جب 22 اگست کے بعد ایم کیو ایم نے بانی قائد سے لاتعلقی کا اظہار کیا اور فاروق ستار ندیم نصرت کو ہٹا کر کنونیر بنے، تب بھی انٹرا پارٹی الیکشن نہیں ہوئے تھے۔ عامر خان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے اس موقف سے جانب داری کا تاثر ابھر رہا، ایم کیو ایم ایک سیاسی جماعت ہے، جو اپنے آئین کے مطابق فیصلے کرے گی۔
فاروق ستارکے اختیارات دراصل کامران ٹیسوری کے ہاتھ میں تھے: خالد مقبول صدیقی
واضح رہے کہ سینیٹ انتخابات میں ٹکٹوں کی تقیسم پر پارٹی دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی تھی، رابطہ کمیٹی کی جانب سے فاروق ستار کو عہدے سے سبکدوش کرکے خالد مقبول صدیقی کو نیا کنوینر مقرر کیا اور پارٹی ان کے نام رجسٹرڈ کرانے کی قرارداد الیکشن کمیشن میں جمع کردا دی تھی۔ دوسری جانب فاروق ستار نے ان اقدامات اور اجلاسوں کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے رابطہ کمیٹی کو تحلیل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ واضح رہے کہ گذشتہ دونوں ترجمان الیکشن کمیشن کا موقف سامنے آیا تھا کہ عہدوں کی تبدیلی کے لیے ایم کیو ایم کو انٹرا پارٹی الیکشن کرانا ہونگے اس کے بعد ہی الیکشن کمیشن سیکریٹریٹ نوٹیفکیشن جاری کرے گا۔