خبرنامہ

امریکا نے مزید تین پاکستانیوں اور ایک تنظیم پر پابندی عائد کردی

امریکا نے مزید تین پاکستانیوں اور ایک تنظیم پر پابندی عائد کردی

کراچی:(ملت آن لائن)امریکا نے دہشت گردوں کی معاونت کے الزام میں مزید 3 پاکستانی شہریوں اور ایک تنظیم پر پابندی عائد کردی ہے۔ امریکا کی جانب سے جاری فہرست میں تین مزید پاکستانیوں حیات اللہ، علی محمد ابو تراب اور عنایت الرحمان اور 1 تنظیم جماعت الدعوٰۃ قران و سنہ کی ویلفیئراینڈ ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ان افراد اور تنظیم پر دہشت گردی اور دہشت گردوں کی معاونت پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ امریکی فہرست میں ان افراد اور تنظیم کو 5 نومبر 2017 میں واچ لسٹ میں شامل کیا گیا تھا جس کے مطابق حاجی حیات اللہ کا تعلق لشکر طیبہ، القاعدہ، طالبان اور دیگر کالعدم تنظیموں سے ہے۔ عنایت الرحمان جماعت الدعوۃ القران و سنہ کا سینئر رہ نما ہے جبکہ علی محمد ابو تراب پر لشکر طیبہ کے لیے ہزاروں ڈالر خیلیجی ممالک سے جمع کر کے طالبان کی تربیت پر خرچ کرنے کا الزام ہے۔

…………………………….

اس خبر کو بھی پڑھیے….امداد روکنے کے بعد امریکہ کاپاکستان پر ایک اور وار ،سکیورٹی معاونت معطل کرنے کا اعلان

واشنگٹن(ملت آن لائن) امریکا نے پاکستان کی سیکیورٹی معاونت معطل کرنے کا اعلان کردیا ہے۔اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان ہیدر نورٹ نے بتایا کہ حقانی نیٹ اور دیگر افغان طالبان کے خلاف کارروائی تک معاونت معطل رہے گی۔انہوں نے کہا کہ فیصلہ کن اقدامات کی صورت میں پاکستان کی امداد بحال ہوسکتی ہے جبکہ روکی جانے والی سیکیورٹی امداد کی مالیت کا تخمینہ لگایا جارہا ہے۔امریکا نے پاکستان کو مذہبی آزادی کی مبینہسنگین خلاف ورزی کرنے والے ممالک سے متعلق خصوصی واچ لسٹ میں بھی شامل کردیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے مجموعی طورپر 10 ممالک کو واچ لسٹ میں شامل کیا ہے۔اس فہرست میں پاکستان کے علاوہ شمالی کوریا، ایران، ارٹریا، چین، برما سوڈان، سعودی عرب، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کو شامل کیا گیا ہے۔پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان مخالف ٹوئٹ کے بعد سے تناؤ کا شکار ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے سال کے پہلے روز ہی ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے گزشتہ 15 سالوں کے دوران پاکستان کو 33 ملین ڈالر امداد دیکر حماقت کی۔انہوں نے کہا کہ امریکی امداد کے بدلے میں پاکستان نے ہمیں دھوکے اور جھوٹ کے سوا کچھ نہیں دیا۔پاکستان کی سول اور عسکری قیادت نے امریکی صدر کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ امریکی امداد کے لیے نہیں بلکہ ملک میں امن قائم کرنے کے لیے لڑی۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی سربراہی میں ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں جلد بازی میں کوئی قدم نہ اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔قومی سلامتی کمیٹی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کےبیان کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ اپنے وسائل اور معیشت کی قیمت پر لڑی، قربانیوں اور شہداء کے خاندانوں کے درد کا بےحسی سے مالی قدر سے موازنہ کرنا ممکن نہیں۔قومی سلامتی کمیٹی نے مشترکہ موقف اپنایا کہ پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور اپنے قومی تشخص کو برقرار رکھنا جانتی ہے تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر پاکستان جلد بازی میں کوئی قدم نہیں اٹھائے گا۔بعدازاںوائٹ ہاؤس کی ترجمان سارا سینڈرز نے کہا تھا کہ پاکستان سے مطالبات کی نئی فہرست کا اعلان 24 سے 48 گھنٹوں میں کیا جائے گا۔سارا سینڈرز کا کہنا تھا کہ امریکا نے پاکستان کی 255 ملین ڈالرز (25 کروڑ 50 لاکھ ڈالر) یعنی 28 ارب روپے کی فوجی امداد پر پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر برائے قومی سلامتی ایچ آر مک ماسٹر نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان، طالبان اور حقانینیٹ ورک کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہا ہے جو پاکستان سے باہر کارروائیاں کر رہے ہیں۔گزشتہ روز ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے بھی کہا تھا کہ اگر امریکا نے کوئی کارروائی کی تو اس کا جواب عوامی امنگوں کے مطابق دیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے شمالی وزیرستان میں آپریشن کیا، ضرب عضب کے تحت حقانی نیٹ ورک کے خلاف بھی آپریشن کیا، کسی بھی آپریشن کے نتائج فوری طور پر نہیں آجاتے، اس کے اثرات وقت کے ساتھ واضح ہوں گے۔