امریکہ جان لے‘ پاکستان خودمختار ملک‘ کسی سے نوٹس لینے کی عادت نہیں : چیئرمین سینٹ
اسلام آبا د (ملت آن لائن) صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق فوری طور پر حل کیا جائے تاکہ اس خطے سے جنگ کے بادل چھٹ سکیں، پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے، دہشت گردی کی وجہ سے ستر ہزار سے زائد پاکستانیوں نے اپنی جانیں قربان کیں جبکہ ہمیں ایک سو بیس ارب ڈالر سے زائد کا مالی نقصان بھی برداشت کرنا پڑا، حکومت پاکستان کے اقدامات کے نتیجے میں دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے، دہشت گردی کے عفریت سے نمٹنے کے ضمن میں ہماری مسلح افواج خصوصی تجربہ اور مہارت رکھتی ہیں جس سے ہمارے ہمسایہ ممالک بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں، دہشت گردی کوئی مقامی معاملہ نہیں بلکہ اس کا سبب بیرونی طاقتوں کی مداخلت ہے، نائن الیون کے افسوسناک واقعہ کے بعد پاکستان کو جنگ کی اس دلدل میں گھسیٹ لیا گیا۔ ان حالات کی وجہ سے پاکستان میں امن و امان بری طرح متاثر ہوا۔ خطے کا مستقبل فعال رابطوں، باہمی تجارت اور تعاون میں پوشیدہ ہے جس میں پاک چین اقتصادی راہداری ایک نئی روح پھونک دے گی۔ سپیکر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ممنون نے کہا کہ پاکستان، ایران، چین ، ترکی، روس اور افغانستان ایسے ہمسائے، دوست اور برادر ممالک ہیں، انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کی سڑکیں اور ریلوے لائنیں خطے کو پاکستان کے ذریعے پوری دنیا سے ملا رہی ہے۔ اقتصادی راہداری کی طرح آپٹک ہائی وے مواصلاتی رابطوں کو مزید آسان بنا دے گی اور اس خطے کے صحراو¿ں، پہاڑوں اور سمندروں سے گزرنے والی تیل اور گیس کی پائپ لائنیں صنعت و حرفت اور ٹیکنالوجی کا ایک نیا جہان تخلیق کریں گی۔ہم خطے کے تمام ممالک کو اقتصادی راہداری میں شرکت کی پر خلوص دعوت دیتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سرحدی نگرانی کا فعال نظام اس سلسلے میں مو¿ ثر ثابت ہو سکتا ہے۔صدر مملکت نے کہا کہ دہشت گردی ایک ایسا مسئلہ ہے جس نے خطے کے کئی ممالک میں مسائل پیدا کیے ۔ پاکستان اس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔ چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک خودمختار ملک ہے امریکہ سن لے ہمیں دوسروں کی طرف سے نوٹس لینے کی عادت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ، اسرائیل اور بھارت کا نیا گٹھ جوڑ بن گیا ہے۔ امریکہ افغانستان میں ناکامی کی ذ مے داری پاکستان پر ڈال رہا ہے، پاکستان اپنی سالمیت پر ہرگز سمجھوتا نہیں کرے گا، معیشت کی بحالی کے لیے 6ممالک کردار ادا کریں، وقت آگیاایشیااپنی قسمت کے فیصلے خودکرے،ورنہ تاریخ معاف نہیں کریگی،پاکستان ڈائیلاگ اور ہمسایہ ملکوں سے دوستانہ تعلقات پر یقین رکھتاہے سی پیک سے خطے میں نئے معاشی دورکا آغاز ہوگا، انہوں نے کہا کہ ہمیں ون بیلٹ ون روڈ کو آگے لیکربڑھنے کی ضرورت ہے، رضا ربانی نے کہا کہ دنیا نے بیت المقدس سے متعلق امریکی فیصلہ قبول نہیں کیا، ٹرمپ نے ر وس ،چین ،شمالی کوریا،ایران اوردہشتگردوں کو چیلنج قراردیا،صدر ٹرمپ نے نئی افغان پالیسی میں3چیلنجز کا ذکر کیا، میاں رضا ربانی نے کہا کہ بیت المقدس کے مسئلے پرجنرل اسمبلی میں امریکہ کو جواب مل گیا۔ سپیکرز کانفرنس میں دنیا میں ہونیوالی دہشت گردی کی پرروز الفاظ میں مذمت کی گئی، ایرانی سپیکر نے کہا خطے میں امریکہ کی نئی مہم جوئی روکنے کی ضرورت ہے، روسی فیڈرل اسمبلی کے چیئرمین نے دہشت گردی کو پوری دنیا اور مذاہب کیلئے خطرہ قرار دیا۔ اسلام آباد میں سپیکرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سپیکر علی لاریجانی نے کہا آج کے دور میں دہشتگردی کی بنیاد بہت مختلف ہے، بنیادی ا±صولوں پر اسلام میں تمام گروہ متفق ہیں، خطے میں امریکہ کی نئی مہم جوئی روکنے کی ضرورت ہے۔ سائبر شعبے میں بھی دہشتگردی روکنے کیلئے کوششوں کرنا ہوں گی۔ روسی فیڈرل اسمبلی کے چیئرمین نے کہا داعش کے دہشت گرد شام اور عراق سے افغانستان منتقل ہو رہے ہیں۔ دہشتگردی پوری دنیا اور مذاہب کیلئے خطرہ ہے، دہشتگردی کو روکنا ہمارا مشترکہ مقصد ہے۔ افغان سپیکر عبدالرو¿ف ابراہمی نے تیز رفتار ترقی کیلئے خطے کے ممالک کو باہمی رابطے بڑھانے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا خطے کے ممالک کو مو¿ثر حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ ترک سپیکر نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہمارے خطے کو سنگین چیلنجز درپیش ہیں، داعش اور پی کے کے سے لڑائی میں ہم نے کئی قیمتی جانیں قربان کیں۔ چین کے سپیکر نے کہا کوئی ملک اکیلا چیلنجز پر قابو نہیں پاسکتا، ہمیں مل کر اس سے نمٹنا ہوگا۔ سپیکر قومی اسمبلی سر دار ایا ز صادق نے کہا ہے کہ یہ ایک تاریخی مو قع ہے کہ چھ ممالک کے پارلیما نی سر بر اہا ن امن اور خوشحالی سے وا بستگی کا اعادہ کر نے اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے اسلا م آبا د میں جمع ہو ئے ہیں انہو ںنے کہا کہ یہ انتہا ئی خو شی کا مو قع ہے جب منتخب نمائندے باہمی احترام ، اعتماد اور دوستی کے ساتھ رہنے سمیت اپنے عوام کی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے ایک عظیم قدم اٹھانے جا رہے ہیں۔ سپیکر نے کانفرنس میں شرکت کرنے پر افغانستان ، چین ، ایران ،روس اور ترکی کے اپنے ہم منصبوں کا شکر یہ ادا کر تے ہو ئے کہا کہ قدرت نے ہماری ان چھ اقوام کو ایک خوبصورت جغرافیائی لڑی میں پرودیا ہے۔ دنیا کی آدھی کپاس صرف چین اور پاکستان پیدا کرتے ہیں اور افغانستان کے قدرتی وسائل اسے دنیا کا امیر ترین خطہ بنا سکتے ہیں۔ سپیکر نے کہا کہ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ سرد جنگ کے بعد دنیا زیادہ خطرناک اور غیر محفوظ ثابت ہوئی ہے اور غیر ریاستی عناصر کے قیام میں لائے جانے کے عمل سے بین الاقوامی سرحدوں اور قوموں کی خود مختاری کی عزت کے معیارات خطرے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر چہ مذہبی جنون عالمی دہشت گر دی کی بڑی وجہ گر دانا جاتا ہے تا ہم ، ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ قوم پر ستی اورظلم وستم نے بھی اس مسئلہ کو مزید سنگین کر دیا ہے ۔ سپیکر نے کہا کہ مشر ق وسطیٰ کے جلتے ہوئے میدانوں سے کشمیر میں بنیادی حق خود ارادیت سے انکار تک ، دنیا انتہا پسندی کی بنیادی وجوہات سے نبر د آزما ہونے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا ہمارے اختلافات کو ہماری ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ ہم سب دہشت گردی کی تمام صورتوں اور جہتوں کی مذمت کر تے ہیں، سپیکر نے یقین کا اظہار کیا کہ ا ن چھ اقوام کے مابین ترقی کے لئے اتحاد ممکن ہے۔ انہوں نے سپیکر زکانفرنس مستقل فورم بنانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی قومی اسمبلی کے لیے باعث فخر ہوگا کہ ایک مستقل سیکرٹریٹ بننے اورفورم کے قواعد پر باہمی اتفاق رائے ہونے تک اس کے سیکرٹریٹ کے طور پر کام کرے۔ کانفرنس کے کامیاب انعقاد کے دوررس نتائج مرتب ہوں گے۔ این این آئی کے مطابق روس ¾ ترکی ¾ چین اور افغانستان کے سپیکرز نے باہمی تعاون کے فروغ کےلئے سیکیورٹی کمیٹی کی تشکیل کی تجویز کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہاہے کہ دہشتگردی کے خاتمے اور خطے میں امن وخوشحالی کےلئے ملکرکام کر نے کی ضرور ت ہے ¾ دہشتگردی کے خلاف جنگ مضبوط تعاون کے بغیر نہیںجیتی جاسکتی ہے ¾ چین کا ون روڈ ون بیلٹ منصوبہ علاقائی روابط کیلئے ہے ¾ ہمارا ملک عالمی امن اور ترقی کیلئے اپنا کردار جاری رکھے گا۔ افغانستان کے اولسی جرگے کے سپیکر عبدالرﺅف ابراہیمی نے کہاکہ دہشتگردی ہماری بقاءکیلئے ایک خطرہ ہے اور ہم سب کو اس کا سامنا ہے اس کے خلاف لڑنے اور باہمی روابط بڑھانے کے عزم کے ہم شکرگزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگرد زمینی راستوں سے افغانستان میں داخل ہوتے ہیں ¾اس کی روک تھام کےلئے ہمسایہ ممالک کے درمیان تعاون کی اشد ضرورت ہے۔چینی سٹیڈنگ کمیٹی آف نیشنل پیپلز کانگرس کے وائس چیئرمین ینگ پن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں تبدیلی کی وجہ سے ترقی اور امن کا قریبی تعلق ہے ¾ دہشتگردی کی وجہ سے سلامتی کو خطرات تیزی سے بڑھ رہے ہیں ، اس کے خلاف مشکل کی گھڑی میں اتحاد قائم کر کے ہی نمٹا جا سکتا ہے ۔انہوںنے کہاکہ چین عالمی برداری کے ساتھ مل کر دہشتگردی کے خاتمے اور روابط بڑھانے کیلئے پرعزم اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کا حل چاہتا ہے ۔
سپیکر کانفرنس / چیئرمین سینٹ