سینیٹ اجلاس: امریکی سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنے کیخلاف تحاریک پر بحث
اسلام آباد:(ملت آن لائن) سینیٹ کے اجلاس میں امریکی سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنے کیخلاف تحاریک پر بحث ہوئی۔ پی پی پی کے سینیٹر تاج حیدر بولے دنیا 2 بلاکس میں تقسیم ہو چکی ہے، ایک بلاک جنگ جبکہ دوسرا امن چاہتا ہے تاہم بہت سے ملکوں نے طاقت کے باوجود امن کا راستہ اختیار کر رکھا ہے۔ تاج حیدر نے مزید کہا کہ جنگ کوئی حل نہیں، امن کیلئے عالمی رائے عامہ متحرک کرنا ہو گی، ہمیں صرف پارلیمنٹ کے اجلاس تک ہی اتفاق نہیں کرنا چاہئے، بیت المقدس پر پاکستان کو ایک عالمی کانفرنس منعقد کرنی چاہئے، ہمیں اپنے وفود بھی مختلف ممالک میں بھیجنے چاہیں۔ سینیٹر جہانزیب جمالدینی بولے ڈونلڈ ٹرمپ کو مذموم مقاصد حاصل کرنے کے لئے لگایا گیا ہے، کسی نے کہا تھا کہ مسلمان ممالک ایک ایک لوٹا پانی ڈالیں تو اسرائیل ڈوب جائے، سائنس اور ٹیکنالوجی میں عبور حاصل کرنے تک دنیاوی مقابلہ ممکن نہیں، یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ ہم اسرائیلی چیزوں کا بائیکاٹ کریں گے، بیت المقدس آزاد کرانا محض ہمارا نعرہ ہی رہے گا، ہم لوگ تو لکھنے کیلئے ایک پین تک نہیں بنا سکتے۔ جہانزیب جمالدینی نے یہ بھی کہا کہ 41 مسلمان اتحادی ممالک مل کر امریکہ کا بائیکاٹ کریں۔ ادھر، خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں بیت المقدس کے حوالے سے امریکی صدر کے اعلان کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔ قرارداد پیپلز پارٹی کے ایم پی اے فخر اعظم وزیر کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔ قرارداد کے مطابق، بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا مسلم امہ سے دشمنی کے مترادف ہے، دنیائے اسلام نے اس فیصلے کو فوری طور پر مسترد کیا ہے اور پاکستان نے بھی جراتمندی سے اس فیصلے کو مسترد کیا ہے۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت امریکہ کو اس فیصلے سے روکنے کیلئے سفارتی ذرائع استعمال کرے اور اسلامی ممالک کا اجلاس بلا کر متفقہ طور پر اس فیصلے کو مسترد کیا جائے۔
خبرنامہ
امریکی سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنے کیخلاف تحاریک پر بحث