امریکی وزیر دفاع کا پاکستان بارے کیا کہنا ہے، جانیے
واشنگٹن:(ملت آن لائن) امریکی وزیر دفاع جمیز میٹس نے کہا ہے کہ ان کے دورہ پاکستان کا مقصد ’’ مشترکہ بنیاد‘‘ ڈھونڈنا ہے، انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ امریکا اور پاکستان اپنے مشترکہ دشمنوں سے لڑنے کیلئے مل کر کام کرنے کی راہیں تلاش کرلیں گے۔ اردن میں علاقائی کانفرنس میں شرکت کے بعد پاکستان جاتے ہوئے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہو ئے امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان کے ہزاروں فوجی دہشت گردوں کے حملوں میں مارے گئے اور زخمی ہوئے ہیں، دہشت گردوں کے حملوں میں پاکستان کے ہزاروں بے گناہ شہری جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ کچھ ’’ کامن گراونڈ‘‘(مشترکہ بنیاد) موجود ہے۔ افغانستان اور پاکستان کے درمیان ’’ کامن گراونڈ‘‘ (مشترکہ بنیاد) موجود ہے کیونکہ دہشت گرد گروپ ایک جگہ رہ کر دوسری جگہ پر کارروائی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل باجوہ نے واضح کیا ہے کہ ان کی خواہش ہے کہ دہشت گردوں کی کہیں بھی پناہ گاہیں نہ ہوں۔ اس سوال پر کہ آیا وہ پاکستانی حکام سے سرحد پر مزید اقدامات کا مطالبہ کریں گے، امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ معاملات سے نمٹنے کا ان کا یہ طریقہ نہیں ہے بلکہ میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ ’’ کامن گراونڈ‘‘ تلاس کرنے کیلئے ہم سخت محنت کریں اور ملکر کام کیا جائے اور یہی وہ لائحہ عمل ہے جو میں اختیار کرنا چاہتا ہوں۔ پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں حائل مشکلات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں امریکی وزیر دفاع جمیز میٹس نے کہا کہ وہ گزشتہ16 برس کی ہر چیز کو ناکامی سے تعبیر نہیں کریں گے بلکہ یہ واضح ہے کہ کافی جگہوں پر ہمیں اپنی کوششوں کو دگنا کرنا ہوگا۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ ہم اپنے مشرکہ دشمن کے پیش نظر ملکر کام کرنے کیلئے راہیں تلاش کریں گے۔ امریکی وزیر دفاع نے کوششوں کو دوگنا کرنے کے حوالے سے سوال پر کہا کہ یہ واضح ہے، پاکستان، افغانستان، پاکستان کی فوج اور نیٹو کی زیر قیادت 39 ملکوں کی افواج یہاں پر لڑرہی ہیں، ہمیں ملکر کام کرنے کے لئے راہ تلاش کرنی چاہیئے۔ ایک اور سوال کے جواب میں امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ ضروری ہے کہ جنوبی ایشیا میں ہم سب ملکر کام کریں تاکہ استحکام کو بحال کیا جائے جس کے نتیجے میں معیشتوں کو استوارجاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کیا آپ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایسی سرحد کا تصور کرسکتے ہیں جہاں سرحد کے دونوں اطراف رہنے والے لوگوں کے فائدے کیلئے تجارت نہ ہورہی ہو، ہم اس کا تصور نہیں کرسکتے ہیں لیکن اس وقت یہ ایک حقیقت ہے، اسلئے ہمیں اس پر کام کرنا چاہیئے اور اس پر فوری کام کرنے کا احساس پایا جاتا ہے۔ امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ دونوں ملکوں میں لوگوں کی بڑی تعداد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔
خبرنامہ
امریکی وزیر دفاع کا پاکستان بارے کیا کہنا ہے، جانیے