اپنی ہی حکومت نے مریم نواز پر بجلی گرادی
اسلام آباد(ملت آن لائن)وزارت اطلاعات ونشریات نے سابق وزیرا عظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز شریف کی زیر سرپرستی چلنے والے سٹرٹیجک میڈیا کمیونی کیشن سیل (ایس ایم سی سی ) کو ختم کرنے کی سمری بھجوا دی۔نجی ٹی وی کے مطابق 11 افراد پر مشتمل اس میڈیا سیل کو ختم کرنے کی سمری وزیرا عظم شاہد خاقان عباسی کو بھجوادی گئی ہے۔ وزیر مملکت مریم اورنگزیب کی سفارش پر سمری کے عنوان کوایس ایم سی سی کے خاتمہ کی جگہ ایس ایم سی سی کے فنکشن کو وزارت کے دیگر ونگز کو سونپنے سے تبدیل کیا گیا ہے۔ ایس ایم سی سی کو سابق وزیرا عظم کی ہدایت پر 2014 میں بنایا گیا تھا جس کیلئے 3 کروڑ 30 لاکھ روپے بجٹ بھی مختص کیا گیا تھا اور گزشتہ سال اس سیل کے افراد کی تعداد 11 سے بڑھا کر 35 کرنے کی سفارش کی گئی تھی جسے وزارت خزانہ نے بجٹ نہ ہونے کے باعث مسترد کردیا تھا۔
…………….
….اس خبر کو بھی پڑھیے….
تحریک انصاف نے تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کرادیں
اسلام آباد:(ملت آن لائن) تحریک انصاف کی جانب سے انٹرا پارٹی انتخابات کی تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کرادی گئیں۔
الیکشن کمیش میں تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دینے سے متعلق درخواست پر سماعت بینچ مکمل نہ ہونے کی وجہ سے بغیر کارروائی کے ملتوی کردی گئی۔
تاہم اس موقع پر تحریک انصاف کے رہنما اعظم سواتی نے الیکشن کمیشن کے روبرو پیش ہوکر انٹرا پارٹی انتخابات کی تفصیلات جمع کرا دیں۔
پی ٹی آئی نے امیدواروں کی تفصیلات، نتائج، پینل اور کاغذات نامزدگی کی تفصیلات جمع کرائیں۔
پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کیس: جواب جمع کرانے کیلئے 27 دسمبر کی مہلت
خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے گزشتہ سماعت پر تحریک انصاف کو انٹرا پارٹی انتخابات کی تفصیلات جمع کرانے کا آخری موقع دیا تھا جب کہ انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دینے سے متعلق درخواست پر سماعت 2 جنوری کو ہوگی۔
بعدازاں درخواست گزار اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا فارن فنڈنگ پر فیصلہ تاریخی ہے جس کے بعد الیکشن کمیشن تحریک انصاف کا تمام ریکارڈ حاصل کرسکتا ہے۔
اکبر ایس بابر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ الیکشن کمیشن سو موٹو ایکشن لے سکتا ہے، اس لئے الیکشن کمیشن سیاسی جماعتوں میں کرپشن کی آزادنہ تحقیقات کرے جب کہ عمران خان 3 سال سے احتساب سے بھاگ رہے ہیں۔
اکبر ایس بابر کا مزید کہنا تھا کہ اجرتی اور لوٹا سیاستدانوں کا تحریک انصاف پر قبضہ ہے جب کہ پارٹی میں نوٹ کریسی اور لوٹا کریسی رائج ہے، پی ٹی آئی سے کالی بھیڑوں کو نکالنا ہے۔