خبرنامہ

بھارتی جاسوس کلبھوشن کی والدہ اور اہلیہ پاکستان پہنچ گئیں

بھارتی جاسوس

بھارتی جاسوس کلبھوشن کی والدہ اور اہلیہ پاکستان پہنچ گئیں

جاسوس کلبھوشن یادیو کی اہلیہ اور والدہ پرواز ای کے 612 دبئی سے راولپنڈی پہنچیں، دونوں خواتین کوسخت سیکیورٹی میں اسلام آباد لے جایا جائے گا۔

اسلام آباد: بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو سے اس کی اہلیہ اور والدہ ملاقات کے لئے اسلام آباد پہنچ گئیں۔ دونوں خواتین امارات ایئر لائن کی پرواز ای کے 612 سے براستہ دبئی راولپنڈی پہنچیں، ڈپلو میٹک انکلیو کی طرف جانیوالے راستے بند کر دیئے گئے، ڈپلومیٹک انکلیو، ریڈزون میں 500 پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ ریڈ زون کو بیریئر لگا کر جزوی طور پر سیل کر دیا گیا۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی اہلیہ اور والدہ کو سخت سکیورٹی میں اسلام آباد لے جایا جائے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے ٹوئٹر پیغام میں بتایا ہے کہ ملاقات 12 بجے کے قریب دفتر خارجہ میں ہوگی، ملاقات میں موجود بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ مجرم سے کوئی بات نہیں کر سکیں گے اور نہ ہی انہیں کسی سوال و جواب کی اجازت ہوگی، بھارت پر ملاقات کے بارے میں طریقہ کار واضح کر دیا گیا ہے، بھارت نے ملاقات کے لئے آنیو الی دونوں خواتین کی ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرانے سے انکار کر دیا ہے جو پاکستان نے مان لیا ہے تاہم بھارت کے اس ملاقات سے متعلق تین مطالبے مسترد کر دیئے گئے ہیں۔

کلبھوشن کی اہلیہ اور والدہ ملاقات کے بعد آج ہی واپس بھارت روانہ ہو جائیں گی۔ سکیورٹی انتظامات پر مکمل اعتماد ہے، پاکستان کا ملاقات کرانے کا اقدام بہت مثبت ہے اس سے دونوں ممالک کے درمیان مستقبل میں چیزیں اور اچھی ہوں گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے یہ ملاقات خالصتاً انسانی بنیادوں پر کرانے کا فیصلہ کیا ہے، کلبھوشن یادیو نے خود اپنی اہلیہ سے ملاقات کی خواہش کی تھی۔

خیال رہے 2016 میں بلوچستان سے کلبھوشن کی گرفتار ی کے بعد بھارتی حکومت نے خوب ہٹ دھرمی دکھائی، بے گناہ پاکستانیوں کے قاتل کلبھوشن سے فوج اور دیگر سکیورٹی ادروں کی لاتعلقی ظاہر کی۔ بھارت کی وزراتِ خارجہ نے ایک بیان میں کلبھوشن کے اعترافی بیان کی ویڈیو کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلوچستان میں گرفتار کیے گئے اس شخص کا بھارت حکومت سے کوئی تعلق نہیں اور ویڈیو کو جھوٹ پر مبنی قرار دیا تھا لیکن جب پاکستانی فوجی عدالت نے اسے سزائے موت دی تو بھارتی حکومت کی جان پر بن آئی اور اسے تسلیم کرنا پڑا کہ کلبھوشن بھارتی شہری ہے اور اسے ماننے سے انکار کرنے والی بھارتی وزارتِ خارجہ نے تسلیم کیا کہ وہ ماضی میں بحریہ کے لیے کام کرتا رہا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی جاسوس کے خلاف مقدمہ فوجی عدالت میں چلا، کلبھوشن پر پاکستان کے خلاف جاسوسی اور اتنشار پھیلانے کا الزام تھا، فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے سزائے موت سنائی۔ کلبھوشن یادیو عرف حسین مبارک پاٹیل “را” کا ایجنٹ تھا، مجرم بھارتی جاسوس نے مجسٹریٹ اور عدالت کے سامنے اعتراف جرم کیا، مجرم کلبھوشن یادیو کو قانون کے مطابق دفاع کا پورا موقع دیا گیا، کلبھوشن سدھیر یادیو کا سروس نمبر 41558 زیڈ تھا۔

واضح رہے کہ کلبھوشن یادیو کو پاکستانی فورسز نے جاسوسی کے الزام میں حراست میں لیا تھا اور اس کے قبضے سے حساس مقامات کی تصویریں، اہم دستاویزات برآمد ہوئی تھیں، کلبھوشن یادیو بھارتی نیوی میں بھی ملازمت کرتا رہا ہے۔ کلبھوشن یادیو نے 1987 میں نیشنل ڈیفنس اکیڈمی جوائن کی اور 1991 میں بھارتی نیوی میں بحیثیت کمیشن افسر ملازمت کی، بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ ہونے کے بعد را کیلئے بھارت میں ہی جاسوسی کے فرائض انجام دیئے، کلبھوشن یادیو گرفتاری کے وقت بھی بھارتی نیوی کا حاضر سروس افسر تھا اور اس کی 2022 میں بطور کمیشن افسر ہی ریٹائرمنٹ ہونا تھی۔ کلبھوشن یادیو نے 2013 میں را میں شمولیت اختیار کی اور اس کے بعد بلوچستان، کراچی میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے اور علیحدگی کی تحریکیں چلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ کلبھوشن یادیو کو 3 مارچ 2016 کو گرفتار کیا گیا تھا اور اس نے اپنے ابتدائی بیان میں کہا تھا کہ اس کی پاکستان آمد کا مقصد بلوچستان اور کراچی میں علیحدگی کی تحریکوں کو جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں قتل و غارت گری بھی کرنا تھا۔