بھارتی فوج کی حماقت
لاہور: (ملت آن لائن) پاکستان کی جانب سے کلبھوشن یادیو جیسے دہشت گرد سے اس کے اہل خانہ کی ملاقات کے انسانی ہمدردی سے بھرپور عمل کے جواب میں کنٹرول لائن پر فائرنگ کے نتیجہ میں ہمارے تین جوانوں کی شہادت کے عمل نے واضح کر دیا ہے کہ بھارت نہ تو اخلاقیات پر یقین رکھتا ہے اور نہ ہی انسانیت پر اور وہ کنٹرول لائن کی خلاف ورزیوں اور آئے روز فائرنگ کے واقعات کا سلسلہ جاری رکھ کر عالمی رائے عامہ کو گمراہ اور مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں،ظلم، جبر اور بربریت پر پردہ ڈالنا چاہتا ہے۔ اب دیکھنا یہ پڑے گا کہ پاکستان کی جانب سے اچھے تعلقات کیلئے بنیادی ایشوز پر مذاکرات کی پیشکش کے جواب میں بھارتی طرزعمل کے مقاصد کیا ہیں؟، خطہ میں امن کی صورتحال پر اس کے اثرات کیا ہوں گے؟، خود پاکستان اپنے جوانوں اور نہتے عوام کی شہادتوں کے عمل پر کیا خاموشی اختیار کئے رکھے گا؟ اور دو نیوکلیئر پاورز کے درمیان تناؤ کی اس کیفیت پر عالمی قوتیں اور برادری کا کردار محض تماشائی کا رہے گا؟۔
علاقائی صورتحال پر گہری نظر دوڑائی جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ جب سے پاکستان نے اکنامک کاریڈور کے معاہدہ پر دستخط کئے ہیں اور اس معاہدہ پر عملدرآمد کیلئے اقدامات شروع کئے ہیں تب سے بھارت کی جانب سے پاکستان کو اندرونی طور پر غیر مستحکم کرنے کا مذموم عمل دہشت گردی اور تخریب کاری کی صورت میں جاری ہے دوسری جانب کشمیری لیڈر برہان مظفر وانی کی شہادت کے واقعہ کے بعد مقبوضہ وادی عملی بغاوت کا روپ دھار چکی ہے کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب مقبوضہ وادی میں بھارتی افواج کے ردعمل میں اٹھنے والی آوازوں کو چپ کرانے کیلئے کشمیریوں کی شہادتیں نہ ہوتی ہوں جس سے بھارت اور بھارتی افواج کی درندگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور عملاً کشمیری بھارتی حکومت پر اپنا عدم اعتماد ظاہر کر چکے ہیں اور یہ عمل بھارت پر طاری بوکھلاہٹ سے عیاں ہے لہذا بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے نظر ہٹانے کیلئے کنٹرول لائن کو گرم کر کے یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ مسئلہ سرحدی کشیدگی ہے نہ کہ کشمیر سے پیدا شدہ صورتحال لیکن سرحدی کشیدگی اور کنٹرول لائن پر پیدا شدہ صورتحال خصوصاً پاکستانی نوجوانوں کی شہادت کے واقعات نے پاکستان کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔
پاکستان سفارتی سطح پر ہمیشہ یہی مؤقف اقوام عالم میں پیش کرتا رہا ہے کہ کنٹرول لائن پر جھڑپیں پاکستان کو چاروں طرف سے گھیرنے کے لئے ہیں اور اس مسئلے کے حل کیلئے اقوام متحدہ کے مبصر مشن کو تحقیقات سونپی جائیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے ۔ مگر ہندوستان اپنی روایتی ہٹ دھرمی کا اسیر ہوتے ہوئے ان جھڑپوں کو کشمیر میں حریت پسندوں کی مدد کیلئے پاکستانی سرزمین سے مداخلت قرار دیتا ہے ۔ اس وقت جب پاکستان پوری دنیا کے سامنے بھارت کے دہشت گردانہ چہرے ’’کلبھوشن یادیو‘‘ کے معاملے پر اپنی پوزیشن بڑی واضح اور کلیئر رکھ کر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کلبھوشن کے اہلخانہ سے ملاقات کرا رہا تھا تو عین اس وقت ہندوستانی افواج نے کنٹرول لائن پر محاذ گرم کردیا۔ سفارتی سطح پر اس اہم ترین ڈویلپمنٹ کے وقت ایسی کارروائیاں ہندوستانی فوج کی حماقت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ ہندوستانی میڈیا کنٹرول لائن پر تازہ ترین جھڑپوں اور شہادتوں کو پاکستانی سرحدوں کے اندر سرجیکل سٹرائیک طرز کی کارروائی قرار دے رہا ہے۔ ہندوستانی میڈیا شاید بھول رہا ہے کہ ہندوستانی سرجیکل سٹرائیک کا پہلا دعویٰ خود ہندوستان کی بڑی جماعتیں خصوصاً انڈین کانگریس ماننے سے انکاری ہے۔
اس صورتحال میں دوبارہ بے بنیاد سرجیکل سٹرائیک کے دعوے دراصل پاکستان کو اشتعال دلانے کی بھونڈی کوشش ہے تاکہ پاکستانی سرحدی رکھوالے ردعمل میں کوئی کارروائی کریں اور ہندوستان عالمی دنیا کے سامنے کشمیریوں کی جائز اور حق خودارادیت کی تحریک کو دہشت گردی اور پاکستان کی جارحیت بنا کر پیش کرے ۔ ہندوستان نے 1965ء میں بھی یہی مذموم کوشش کی تھی مگر خوب سبق حاصل ہوا تھا۔ ہندوستانی میڈیا، فوج اور سیاسی جماعتوں کو کسی بھی مہم جوئی سے پہلے یہ سوچنا چاہیے کہ دونوں ہمسایہ ملک ایٹمی قوت ہیں اور ہندوستان جس بات پر اترا رہا ہے پاکستان بھی اُس میں بھارت سے پیچھے نہیں اور پاکستان کا ایٹمی میزائل سسٹم دن کی روشنی میں رات کے تارے دکھانے کیلئے کافی ہے ۔ لہذا گیند عالمی برادری کی کورٹ میں ہے ، اسے چاہیے کہ وہ جنوبی ایشیا میں دو نیوکلیئر پاورز کے درمیان اس صورتحال کا نوٹس لے اور ان کے درمیان تصفیہ طلب معاملات خصوصاً کشمیر پر تصفیہ کروائے ۔بھارت کے جارحانہ عزائم کو نہ روکا گیا تو خطہ ایٹمی فلیش پوائنٹ بن سکتا ہے ۔