بھارت میں ہندو لڑکیوں کا قبول اسلام
نئی دہلی (ملت آن لائن) بھارت میں سینکڑو ں ہندو لڑکیوں نے سماجی اور اخلاقی گراوٹ سے گھبرا کر اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کا عہد کیا ہے۔ نیچ ذات سے تعلق رکھنے والی سینکڑوں لڑکیوں نے مسلمان لڑکوں کو اپنا جیون ساتھی چننے کے لئے دینی شخصیات کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ یوں بھارت کے مختلف طبقوں میں ہندوئوں کی پیدا کردہ اونچ نیچ کے باعث لڑکے باعزت زندگی گزارنے کے راستے تلاش کر رہے ہیں جبکہ لڑکیوں نے سماجی ظلم، ناروا سلوک اور اونچ نیچ سے نجات کا راستہ مسلمان ہونے میں تلاش کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ مسلمان ہونے کے بعد وہ ہندوئوں سے تو شادیاں نہیں کر سکتیں، مسلمان ہی کو جیون ساتھی بنانا پڑتا ہے۔ آر ایس ایس اس پر سیخ پا ہے۔ ہندو انتہا پسندوں نے اسے طالبان کے اثرات اور مالی مدد کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ ہندوئوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ہندو لڑکیوں کو مسلمان بنانے کے لیے عراقی طالبان پیسہ پھینک رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں یہ محبت کی شادی نہیں بلکہ جہادی شادی ہے، ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔
خبرنامہ
بھارت میں ہندو لڑکیوں کا قبول اسلام