بیت المقدس سے متعلق امریکی اقدام عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان
پاکستان نے امریکا کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارتخانے کی منتقلی کے فیصلے کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دے دیا۔
امریکی صدر نے گزشتہ روز مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان کیا اور اپنے خطاب میں ٹرمپ نے کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے سے متعلق فیصلے کو کافی مخالفت کا سامنا رہا۔
پاکستان نے سفارتخانے کی بیت المقدس منتقلی کے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہوئے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ وہ معاملات بگڑنے سے پہلے فیصلے پر نظرثانی کرے کیونکہ امریکی اقدام مشرق وسطیٰ کے امن عمل کی تباہی کاباعث ہوگا۔
پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صورتحال کا نوٹس لے جب کہ اس معاملے پر ترکی کی جانب سے اسلامی سربراہ کانفرنس بلانے کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔
قومی اسمبلی میں مذمتی قراردار منظور
قومی اسمبلی نے بھی امریکی سفارت خانے کی منتقلی پر مذمتی قرارداد منظور کرلی ہے جسے وفاقی وزیر برجیس طاہر نے پیش کیا تھا۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ امریکا فوری طور پر سفارتخانہ منتقل کرنے کا فیصلہ واپس لے، فیصلہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
قرارداد کہا گیا کہ امریکی اقدام اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی فورمز کی خلاف ورزی ہے۔
صدر مملکت کی مذمت
امریکی صدر کے فیصلے پر صدر ممنون حسین نے مذمت کرتے ہوئے امریکا سے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
صدر ممنون نے کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس کواسرائیل کادارالحکومت بنانے کی ہر فورم پرمذمت کی جائے گی اور توقع ہےکہ امت مسلمہ اس واقعےکا سخت نوٹس لےگی۔