خبرنامہ

تلخی کے باوجود پیپلزپارٹی اور ن لیگ میں بیک ڈور رابطے

تلخی کے باوجود پیپلزپارٹی اور ن لیگ میں بیک ڈور رابطے
لاہور:(ملت آن لائن) حکمران مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان سیاسی محاذ پر تلخی کے باوجود بیک ڈور رابطوں کا انکشاف ہوا ہے، جس کے تحت آنے والے انتخابات کے حوالے سے پیپلز پارٹی حکمران جماعت سے کچھ یقین دہانیاں چاہتی ہے جسے مسلم لیگ قبل از وقت قرار دیتے ہوئے بات چیت کا سلسلہ مزید جاری رکھنے پر اصرار کر رہی ہے ، یہی وجہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کی بڑی جماعت پیپلز پارٹی کے درمیان بظاہر کمٹمنٹ اور تحفظات دور ہونے کے باوجود نئی حلقہ بندیوں اور ووٹرز لسٹوں کے ترمیمی بل پر عملاً ڈیڈ لاک نظر آ رہا ہے اور دراصل یہی وہ رویہ ہے جس پر سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نام لئے بغیر اشارہ کر چکے ہیں کہ یہ وقت سیاسی بھاؤ تاؤ کا نہیں بلکہ جمہوری نظام کے تسلسل کیلئے اپنی ذمہ داری ادا کرنے کا ہے۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کی سینئر لیڈرشپ اس بحران سے حکومت کو نکالنے کیلئے فوری طور پر مستقبل کے کچھ اہم ترین فیصلوں پر کمٹمنٹ اور گارنٹی چاہتی ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان بات چیت کا یہ سلسلہ نئے صدر پاکستان، سینیٹ میں چیئرمین اور آئندہ انتخابات میں پنجاب کے دس قومی اسمبلی اور بیس صوبائی اسمبلی کے انتخابی حلقوں میں واک اوور پر تواتر کے ساتھ جاری ہے ۔ پیپلز پارٹی کے ذرائع اس طرح کی کسی ڈیل سے انکاری ہیں جبکہ حکمران جماعت بھی کھلے عام اس کا اعتراف کرنے سے گریزاں ہے۔