جمہوری طریقے سے تبدیلی کو سازش کہا جارہا ہے، قائد حزب اختلاف بلوچستان اسمبلی
کوئٹہ:(ملت آن لائن)جمہوری طریقے سے تبدیلی کو سازش کہا جارہا ہے، قائد حزب اختلاف بلوچستان اسمبلی، جمیعت علمائے اسلام (ف) کے رہنما اور قائد حزب اختلاف بلوچستان اسمبلی مولانا عبدالواسع کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد ایک جمہوری عمل ہے لیکن جمہوری طریقے سے تبدیلی کو سازش کہا جارہا ہے۔ قائد حزب اختلاف بلوچستان اسمبلی مولانا عبدالواسع کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی سیاست میں بڑی تبدیلی آرہی ہے، یہ سمجھیں تحریک عدم اعتماد آج سے ہی کامیاب ہوگی، بلوچستان سے بھی اب کہا جائے گا کہ مجھے کیوں نکالا۔ مولانا عبدالواسع نے کہا کہ جمہوری طریقے سے تبدیلی کو سازش کہا جارہا ہے، تحریک عدم اعتماد ایک جمہوری عمل ہے جس کو کامیاب بنائیں گے جب کہ وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد بھی کامیاب ہوگی۔ واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثنااللہ زہری کے خلاف اتحادی حکومت میں شامل ارکان نے ہی تحریک عدم اعتماد جمع کرائی ہے جسے منگل کو اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
………………………….
اس خبر کو بھی پڑھیے….بلوچستان میں سیاسی بحران: وزیراعلیٰ زہری کا نواز شریف سے رابطہ
کوئٹہ:(ملت آن لائن) وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناءاللہ زہری نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور صوبے کی حالیہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ سابق وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلیٰ بلوچستان کے درمیان اسمبلی میں پیش کردہ تحریک عدم اعتماد سمیت مختلف امور پر گفتگو ہوئی۔ اس موقع پر نواب ثناء اللہ زہری کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف لائی جانے والی تحریک عدم اعتماد سے آئندہ الیکشن میں نقصان ہو سکتا ہے اس لئے اس معاملے کو حل ہونا چاہیے۔ وزیراعلی بلوچستان سے وفاقی وزراء خرم دستگیر اور عبدالقادر بلوچ نے بھی ملاقات کی اور خرم دستگیر نے اس موقع پر وفاقی حکومت اور ن لیگ کی جانب سے وزیر اعلیٰ کو مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی گئی۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر سردار یعقوب ناصر نے وزیراعلیٰ ثناءاللہ زہری سے ملاقات کی، اس موقع پر ملکی سیاسی صورتحال، تحریک عدم اعتماد سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سردار یعقوب ناصر کا کہنا تھا کہ پارٹی بلوچستان میں مضبوط ہے تاہم چند مفاد پرستوں کی بغاوت کا کوئی اثر نہیں پڑےگا۔ سردار یعقوب ناصر نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے اکثریتی اراکین وزیراعلیٰ کے ساتھ ہیں اور ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے استعفے سے متعلق افواہیں بے بنیاد ہیں، ترجما ادھر سینیٹ میں مسلم لیگ (ق) کے پارلیمانی لیڈر سعید الحسن مندوخیل کا کہنا ہے کہ ہماری جماعت کے ممبران تحریک عدم اعتماد پر متحد ہیں۔ سعید الحسن مندوخیل نے کہا کہ صوبائی وزیر جعفر مندوخیل عمرہ کی ادائیگی کے لئے گئے ہوئے ہیں اور وہ پارٹی ڈسپلن کی پابندی کریں گے۔ بلاول بھٹو زرداری کا تبصرہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بلوچستان کے سیاسی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیا وفاقی حکومت کو فکر بھی ہے کہ بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے اور موجودہ صورتحال میں کیا ایک بھی وفاقی وزیربلوچستان گیا ہے۔ بلوچستان حکومت بحران کا شکار: مزید ایک وزیر اور مشیر مستعفی خیال رہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے خلاف 4 جنوری کو رکن اسمبلی عبدالقدوس بزنجو اور سید آغا رضا کی جانب سے عدم اعتماد کی تحریک جمع کرائی گئی جس پر 14 اراکین اسمبلی کے دستخط تھے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان پر عدم اعتماد کی تحریک پر دستخط کرنے والے اراکین میں میر قدوس بزنجو، میر کریم نوشیروانی، آغا رضا، میر خالد لانگو، نوابزادہ طارق مگسی، ڈاکٹر رقیہ سعید ہاشمی، محمد اختر مگسی، زمرد خان اچکزئی، حسین بانو، شاہدہ رؤف، خلیل الرحمان، عبدالمالک کاکٹر اور امان اللہ نوتیزئی شامل ہیں دوسری جانب مجموعی طور پر پانچ وزراء، مشیر اور معاونین خصوصی اپنے اپنے استعفے گورنر بلوچستان کو جمع کراچکے ہیں جب کہ اسمبلی کا اجلاس 9 جنوری کو ہوگا اور تب تک مزید ارکان کے مستعفی ہونے کا امکان ہے۔