خبرنامہ

جنہوں‌ نے مجھے نا اہل کیا، کیا وہ اہل ہیں،نوازشریف کا داتا دربار پر خطاب

جنہوں‌ نے مجھے نا اہل کیا، کیا وہ اہل ہیں،نوازشریف کا داتا دربار پر خطاب

سینیٹ میں‌ حکومت فوج اور عدلیہ میں‌مکالمے کو سپورٹ کرتا ہوں، نواز شریف

لاہور… ملت آن لائن … داتا دربار پر خطاب میں نواز شریف کا کہنا ہے سینیٹ میں‌حکومت فوج اور عدلیہ میں‌مکالمے کو سپورٹ کرتا ہوں مجھے نا اہل بے وجہ کر دیا گیا. جنہوں‌ نے مجھے نا اہل کیا، کیا وہ اہل ہیں. بیٹے سے تنخواہ لے بھی لیتا تو کیا تھا. نہیں‌لی تب بھی نا اہل کر دیا. جن لوگوں نے تماشا کیا ان کا احتساب ہونا چاہیے.میری کوئی کرپشن نہیں‌ نکلی. کرپشن ختم ہو چکی. امن قائم ہو رہا ہے. آج سڑکیں بن رہی ہیں. اب گھروں میں‌بجلی اور گیس بھی آنا شروع ہو گئی ہے. لاہور والوں نے اپنے ووٹ کی طاقت سے مجھے وزیراعظم بنایا تھا. پانچ لوگوں نے مجھے نا اہل قرار دے کر گھر بھجوا دیا. نا اہل کرنے والے کہتے ہیں نواز شریف نے کرپشن نہیں‌کی. آج میٹرو بس بھی چل رہی ہے. لوگ آرام سے سفر کر رہے ہیں. آج پاکستان کو بدلنا ہو گا. ایسے نہں‌چلے گا. میں‌نے جو جذبہ دیکھا یہ ایک انقلاب کا پیش خیمہ ہے. اگر یہ انقلاب نہ آیا . یہ غریب ہمیشہ غریب رہے گا. اگر انقلاب نہ آیا کسی کو انصاف نہیں‌ملے گا. اگر انقلاب نہ آیا تو بیروزگار بیروزگار ہی رہیں گے. میاں‌نواز شریف بجلی نہ جانے کا دعوی کر رہے تھے کہ اس دوران بجلی چلی گئی.

چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کا کہنا تھا کہ فوج کو وزیرِاعظم جب کہ عدلیہ کو چیف جسٹس کے ذریعے اس مجوزہ مکالمے میں شرکت کی دعوت دی جائے گی۔
اسلام آباد — پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی طرف سے ریاست کے تین اہم اداروں عدلیہ، فوج اور حکومت کے درمیان ادارہ جاتی مکالمے کی تجویز سامنے آئی ہے۔

پاناما کیس سے متعلق عدالت عظمٰی کے فیصلے اور پارلیمنٹ کے کردار سے متعلق سینیٹ میں ہونے والی بحث کے دوران جمعے کو چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے اس بارے میں تجویز دی جس پر اراکین سینیٹ نے ملک کے طاقتور اداروں کے درمیان مکالمے کی حمایت کی۔

چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کا کہنا تھا کہ فوج کو وزیرِاعظم جب کہ عدلیہ کو چیف جسٹس کے ذریعے اس مجوزہ مکالمے میں شرکت کی دعوت دی جائے گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ جمہوریت کی مضبوطی کے لیے پارلیمنٹ کا مضبوط ہونا اہم ہے اور اس کے لیے سیاسی قیادت کو اہم کردار ادا کرنا ہو گا۔

ریاست کے تین اہم اداروں کے درمیان مکالمے کی یہ تجویز ایسے وقت سامنے آئی جب پاکستان میں جمہوریت کے فروغ کے لیے کام کرنے والے ایک غیر سرکاری ادارے ’پلڈاٹ‘ نے رواں ہفتے ہی اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ پاکستان میں سول ملٹری تعلقات میں سب اچھا نہیں ہے اور دونوں کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

’پلڈاٹ‘ کے سربراہ احمد بلال محبوب نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ سویلین حکومت اور فوج کے درمیان بات چیت ہو۔

’’سیاسی اور ملٹری قیادت کے درمیان ڈائیلاگ بہت ضروری ہے۔۔۔۔ کیوں کہ اصل ایشو تو وہاں پر ہے۔ میرا نہیں خیال کہ عدلیہ کا کوئی اتنا بڑا مسئلہ ہے، لیکن مسئلہ فوج اور سول کا ہے تو ان کے درمیان ڈٓائیلاگ کا کوئی انتظام ہونا چاہیے۔‘‘

پیپلز پارٹی کے سینیٹر تاج حیدر کہتے ہیں کہ تمام اداروں کو اپنی اپنی اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ رواں ماہ کے اوائل میں کوئٹہ میں ایک اجتماع سے خطاب میں چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کہا تھا کہ ریاستی اداروں کو ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت کی پالیسی ترک کرتے ہوئے مل کر کام کرنا چاہیے۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کے آئین میں یہ واضح طور پر کہا گیا ہے کہ حکومت عوامی نمائندے چلائیں گے۔

رضا ربانی کا کہنا تھا، “کبھی پارلیمان کو مارشل لا سے ختم کیا جاتا ہے تو کبھی (آئین میں شامل سابق شق) اٹھاون ٹو بی کا سہارا لے کر جمہوریت ختم کر دی جاتی ہے۔ اور اب ہمارے سامنے ایک اور نیا طریقہ آ گیا ہے، جس سے منتخب حکومتوں کو گھر بھیجا جا رہا ہے۔”

پاکستان میں اس وقت سیاسی گہما گہمی جاری ہے۔ خاص طور پر پاناما کیس سے متعلق مقدمے میں عدالت عظمیٰ کی طرف سے سابق وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی اور اس کے بعد رواں ہفتے نواز شریف کی اسلام آباد سے لاہور ریلی کی صورت میں روانگی کے بعد سیاسی ہلچل میں اضافہ ہو گیا ہے۔

نواز شریف کا جی ٹی روڈ کے ذریعے لاہور کی جانب سفر جاری ہے اور مسلم لیگ (ن) کا کہنا ہے کہ وہ جمعے کی شب تک گوجرانوالہ پہنچیں گے۔