جینز پہننے والی لڑکی سے کوئی شادی نہیں کرنا چاہتا، انڈین وزیر
نئی دہلی:(ملت آن لائن) بھارتی وزیر ڈاکٹر ستیہ پال سنگھ ایک بار پھر تنازع کی زد میں آ گئے ہیں۔ اس مرتبہ انہوں نے جینز پہننے والی خواتین کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ غیر ملکی میڈٰیا کے مطابق طلبہ کے ایک پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے موصوف کا کہنا تھا کہ لوگ ایسے شخص کو کبھی پسند نہیں کریں گے جو جینز پہنتا ہو مندر کے پنڈت کے عہدے پر براجمان ہو جائے۔ اس طرح لوگ کبھی ایسی دلہن سے شادی کرنے کو تیار نہیں ہونگے جو جینز پہن کر منڈپ میں آئے۔ بھارتی وزیر کے اس بیان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر ستیہ پال سنگھ کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے خلاف غم وغصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ایک ٹویٹر صارف نے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ ان منتخب افراد کے بارے میں وزیرِ موصوف کا کیا کہنا ہے جو کرتا پاجامہ، دھوتی کرتا، شیروانی میں پارلیمنٹ جاتے ہیں اور کوئی کام نہیں کرتے۔ ایک اور صارف نے لکھا کہ ایسے افراد ذہنی طور پر صحت مند نہیں، انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ کیسے بات کی جاتی ہے۔ ایک صارف نے ٹویٹ کیا کہ بی جے پی لوگوں کے کھانے، پینے اور پہننے پر پابندی لگانا چاہتی ہے۔ اس سے قبل ہریانہ کے وزیرِ اعلی منوہر لال کھٹر نے بھی لڑکیوں کو نصیحت کی تھی کہ وہ شائستہ لباس پہنیں تا کہ کوئی لڑکا انھیں غلط نظروں سے نہ دیکھے۔ مدھیہ پردیش میں بی جے پی کے وزیر بابو لال گوڑ بھی اپنے بیان کی وجہ سے مشہور ہوئے جن کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک میں خواتین جینز اور ٹی شرٹ پہنتی ہیں، مردوں کے ساتھ رقص کرتی ہیں اور شراب بھی پیتی ہیں، یہ ان کا کلچر ہے، یہ ان کے لیے اچھا ہوسکتا ہے لیکن بھارت کے لیے نہیں۔ یہاں ہماری تہذیب و ثقافت ہی ہمارے لیے بہتر ہے۔
خبرنامہ
جینز پہننے والی لڑکی سے کوئی شادی نہیں کرنا چاہتا، انڈین وزیر