خبرنامہ

حدیبیہ کیس: نیب کی بنائی کہانی باربار تبدیل، سپریم کورٹ برہم

حدیبیہ کیس: نیب کی بنائی کہانی باربار تبدیل، سپریم کورٹ برہم
اسلام آباد:(ملت آن لائن)سپریم کورٹ میں شریف خاندان کے خلاف حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس کی سماعت آج دوسرے روز بھی جاری ہے۔ جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس مظہر عالم خان پر مشتمل سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس کھولنے کی نیب کی درخواست پر سماعت کر رہا ہے۔ سپریم کورٹ نے حدیبیہ پیپر کیس پر ٹی وی شوز میں بات کرنے پر پابندی عائد کردی سماعت کے آغاز میں جب نیب کے پراسیکیوٹر نے دلائل دینا شروع کیے تو جسٹس مظاہر عالم نے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں حدیبیہ ریفرنس کا ذکر کہاں ملتا ہے؟ اس پر نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ کچھ افراد کے نام سپریم کورٹ کے فیصلے میں ہیں، ان کا تعلق حدیبیہ ریفرنس سے ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسی ںے کہا کہ یہ سب نام تو آپ کےپاس 2000 میں بھی تھے۔ معزز جج نے استفسار کیا کہ کیا اکاؤنٹ میں پیسےرکھناجرم ہے؟ پراسیکیوشن کا کام ہے بتائے کہ جرم کیا بنتا ہے؟ نیب کی بنائی گئی کہانی باربار تبدیل ہوجاتی ہے، ہمیں کسی کی ذاتی زندگی میں کوئی دلچسپی نہیں، جو کچھ آپ بتارہے ہیں یہ سب رکارڈ 2000 میں میسر تھا۔ معزز جج نے اپنے ریمارکس میں برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسحاق ڈار کو نکال دیا جائے تو آپ کے پاس نیا کیا ثبوت ہے؟ 1992 سے 2017 تک آگئے، ابھی بھی ہم اندھیرے میں ہیں، دراصل ہوا کیا، معلوم نہیں، اس کا بیان اُس کا بیان ، یہ سب کیا ہے؟ چارج کس نوعیت کا ہے مجھے سمجھ نہیں آرہا، ہمارے صبر کا امتحان نہ لیں۔ ڈپٹی پراسیکیوٹر نے اپنے دلائل میں کہا کہ ہمارے قوانین کے مطابق ملزم کی ذمے داری ہے وہ بے گناہی ثابت کرے۔ جسٹس مشیر عالم نے استفسار کیا کہ اسحاق ڈار کے اعترافی بیانات میں موجود حقائق کی تحقیق کی گئی؟ جس پر نیب پراسیکیوٹر نے مؤقف اپنایا کہ جے آئی ٹی نے اس سے متعلق دستاویزات دی ہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ جو نئے ثبوت آپ بتارہے ہیں یہ سب کچھ 2000میں بھی موجود تھے، پھر آپ نئے اہم ثبوت کیا لائے؟ جس کی بنیاد پر ریفرنس کھولا جائے؟ منی ٹریل کے جے آئی ٹی سے پہلے اور بعد کے شواہد پر دلائل دیں، 4 اکاؤنٹس تھے یا 36 ایشو مشترک ہے،۔ جسٹس مشیر عالم نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہمیں کوئی جلدی نہیں، تاخیر سے ریفرنس دائر کرنا عبور کر لیا تو ممکن ہے کہ بات میرٹ پر آ جائے، قانون سب کے لیے ایک ہے۔ گزشتہ روز عدالت نے نیب کی جانب سے کیس کو التوا میں ڈالنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے حکم دیا تھا کہ ٹی وی ٹاک شوز میں حدیبیہ پیپر کیس پر بات چیت کی اجازت نہیں ہوگی۔ عدالت نے اپنے حکم میں قرار دیا تھا کہ حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس کیس کی صرف رپورٹنگ کی اجازت ہوگی تبصروں کی نہیں جب کہ عدالت نے پیمرا کو بھی حکم دیا تھا کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔