دھرنا آپریشن میںکئی مظاہرین شدید زخمی
عدالت کے احکامات پر اسلام آباد کے علاقے فیض آباد انٹرچینج پر 20روز سے جاری دھرنے کو ختم کرانے کے لیے پولیس نے آپریشن کا آغاز کر دیا۔
اسلام آباد انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق پولیس نے فیض آباد پل پر دھرنے کی جگہ کا کنٹرول سنبھال لیا۔
پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ کے باعث مظاہرین منتشر ہونے لگے۔ درجنوں افراد گرفتار کرلیے گئے جبکہ مظاہرین کے پتھراؤ سے کئی اہلکار زخمی ہوگئے۔
ڈی سی اسلام آباد کیپٹن ریٹائرڈمشتاق نے بتایا کہ کارروائی کےاحکامات جاری کر دیے ہیں، کارروائی میں پولیس ،رینجرزاور ایف سی کی بھاری نفری حصہ لے رہی ہے۔
آنسو گیس کی شیلنگ کی جارہی ہے، جس کے بعد ہر جانب آنسو گیس کا دھواں ہی دھواں نظر آرہا ہے۔
پولیس کی آنسو گیس شیلنگ کے نتیجے میں گیس کے مرغولوں نے دھرنا مظاہرین کے پنڈال کو گھیرے میں لیا ہوا ہے۔
آنسو گیس سے مظاہرین منتشر ہونا شروع ہوگئے ہیں جبکہ پولیس نے گرفتاریاں بھی شروع کردی ہیں۔
آپریشن کی نگرانی ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھی کی جارہی ہے۔
آپریشن سے قبل فیض آباد میں پولیس ایف سی کےتازہ دم دستےآئی ایٹ پل کےقریب اور فیض آبادبھی پہنچ گئے تھے، پانی کی توپ اور واٹر ٹینکرز بھی دھرنےکے قریب پہنچا دیے گئے تھے۔
ممکنہ گرفتاریوں کےلیےقیدیوں کی گاڑیاں فیض آبادکےقریب پہنچ گئیں، ایمبولینسز بھی دھرنے کے مقام کے قریب پہنچا دی گئیں۔
اس سے قبل فیض آباد کےقریب دھرنے کے شرکاء نے پولیس وین پر پتھراؤ کیا، پتھراؤ کےباعث پولیس پیچھےہٹ گئی، مظاہرین نے خوب نعرےبازی کی۔
راول پنڈی میں فیض آباد کے علاقے کو پولیس نے پہلے ہی مکمل خالی کرالیا ہے، علاقے میں مارکیٹیں بنداوربس اڈےخالی کرلیےگئے ہیں جبکہ غیر متعلقہ افراد کاداخلہ بھی بندکردیاگیا۔
دھرنا ختم کرنے کے لیے کسی ممکنہ آپریشن کے نتیجے میں ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے اور توڑ پھوڑ سے بچنے کے لیے مری روڈ پر بھی پولیس کی نفری تعینات کردی گئی ہے۔
ادھر کراچی میں بھی نمائش چورنگی پر بھی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن اور پولیس کی نفری پہنچ گئی ہے، جبکہ مذہبی جماعت لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایم اے جناح روڈ پر دھرنا جاری ہے۔