دھرنے والے ہمارے لیے لال مسجد کا پھندا لیے کھڑے ہیں، احسن اقبال
اسلام آباد(ملت آن لائن)وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ دھرنے والے لال مسجد اور ماڈل ٹاون جیسا واقعہ ڈھونڈ رہے ہیں یہ لوگ ہمارے لیے لال مسجد کا پھندا لیے کھڑے ہیں۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ دھرنے کے پیچھے جو مقصد ہے وہ ہمیں معلوم ہے، ختم نبوت کے نام پر منفی سیاست کی جارہی ہے اور دھرنے والے لوگوں کو ورغلا رہے ہیں لیکن ریاست ان لوگوں کے سامنے نہیں جھکے گی۔
وزیر داخلہ نے دھرنے کو (ن) لیگ کا ووٹ بینک متاثر کرنے کی سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ دھرنے کا مقصد مسلم لیگ (ن) کو بریلوی مکتبہ فکر سے لڑانے کی سازش ہے، جس قانون کی دھرنے والے بات کرتے ہیں وہ وزارت قانون نے تیار ہی نہیں کیا، محض ضد اور انا سے کوئی وزیر قانون سے استعفا نہیں لے سکتا اور کنپٹی پر پستول رکھ کر کوئی شرط نہیں منواسکتا تاہم دھرنے والے جائز شکایت پر مذاکرات کریں ہم ان کی بات سنیں گے۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اگر چاہیں تو آپریشن کرکے تین گھنٹوں میں علاقہ کلیئرکرالیں لیکن ہمیں یہ ضمانت کون دے گا کہ معاملہ نہیں پھیلے گا تاہم آئندہ 24گھنٹوں میں دھرنے سے متعلق اہم اعلانات متوقع ہیں۔
سپریم کورٹ نے فیض آباد انٹر چینج پر جاری دھرنے سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ جب ریاست ختم ہوجائے گی تو قتل سڑکوں پر ہوں گے۔
جسٹس مشیر عالم اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے دھرنا ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی، جس میں وزارت داخلہ اور وزارت دفاع نے اپنی رپورٹس جمع کرادیں۔
سماعت کے دوران جسٹس مشیر عالم نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب کیا آپ نے رپورٹ کا جائزہ لیا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ حکومت سمیت احتجاج والے بنیادی نکتہ نظر انداز کر رہے ہیں، کیا اسلام میں کوئی ڈنڈا ہے، کیا لوگوں نے قرآن مجید کا ترجمہ پڑھنا چھوڑ دیا ہے، اختلاف ہوتا ہے لیکن کیا عدالتیں بند ہو گئی ہیں، کل کو کوئی اور اپنا موقف منوانے کے لیے راستے بند کر دے گا۔