زہری کیخلاف تحریک عدم اعتماد واپس لیں، وزیراعظم
اسلام آباد: (ملت آن لائن) وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے مولانا فضل الرحمان سے درخواست کی ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان ثناء اللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لے لی جائے۔
اسلام آباد میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے مولانا فضل الرحمان سے ان کے گھر میں ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لینے کی درخواست کی۔مولانا فضل الرحمان نے جواب دیا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد صوبائی معاملہ ہے، تحریک عدم اعتماد واپس لینے کیلئے جے یو آئی بلوچستان سے مشاورت کریں گے، صوبائی قیادت سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔ مولانا فضل الرحمان نے وزیر اعظم سے یہ بھی کہا کہ وہ پہلے اپنا گھر درست کریں، ہم بلوچستان میں اپوزیشن ہیں۔
………………………………
اس خبر کو بھی پڑھیے…پاکستان نے 13 سال میں 120 ارب ڈالر کا نقصان اٹھایا
کراچی: (ملت آن لائن) امریکی جنگ میں شراکت داری پاکستانی معیشت پر بھاری پڑی۔ پاکستان کو 13 سال میں 120 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا۔ چین کے ساتھ باہمی تجارت کا حجم 16 ارب ڈالر پر پہنچ گیا ہے۔ واشنگٹن سے پاکستان کی تجارت 6 ارب ڈالر تک محدود ہے۔ دنیا نیوز اعداد و شمار سامنے لے آیا۔پاکستان اور چین کے درمیان باہمی تجارت کا حجم 16 ارب ڈالر ہے۔ اس کے مقابلے میں پاک امریکہ باہمی تجارت 6 ارب ڈالر تک ہی محدود ہے۔ گزشتہ مالی سال کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ہونے والی کل براہ راست سرمایہ کاری میں چین کا حصہ 44 فیصد یعنی 1 ارب 20 کروڑ ڈالر رہا جبکہ اس عرصے میں امریکہ نے صرف 2 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی براہ راست سرمایہ کاری کی۔دہشتگری کے خلاف جنگ میں پاکستان کو امریکہ کی یاری بے پناہ مہنگی پڑی۔ گزشتہ 13 سال میں پاکستان کو 120 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا یعنی پاکستان کی معیشت کو سالانہ 10 ارب ڈالر کا نقصان پہنچ رہا ہے اور امریکہ نے پاکستان کو اوسطاً ڈھائی ارب ڈالر کی امداد دی جن میں سے ڈیڑھ ارب ڈالر کے جنگی اخراجات بھی شامل ہیں جو اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہیں۔رہا سوال آئی ایم ایف سے قرض گیری کا تو چین کے مالیاتی ادارے اس معاملے میں بھی پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں اور جب بھی پاکستان کو ضرورت پڑے، قرض فراہم کر رہے ہیں۔ ڈیڑھ سال کے دوران چینی مالیاتی اداروں نے پاکستان کو تقریباً 2 ارب ڈالر قرض فراہم کیا جبکہ امریکہ نے اس دوران صرف 10 کروڑ ڈالر کی معاشی معاونت فراہم کی۔معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ سالوں میں سی پیک کے تحت شروع کئے جانے والے مختلف منصوبوں میں سرمایہ کاری 56 ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔